تم کیسے جی لیتے ہو اپنے عشرت کدوں میں ؟

ایک کے بعد ایک مسلمانوں کے گھروں اور دوکانوں پر بلڈوزر دہاڑتے پھر رہے ہیں، سیکولر لیڈرشپ نے مسلمانوں کو قابلِ رحم تک سمجھنا چھوڑ دیا ہے! لیکن اس کےباوجود کچھ لوگ نہایت بےشرمی کےساتھ ایسی سیکولر پارٹیوں کے لیڈران کے گن گان کرتے ہیں، دوسری طرف ملی لیڈرشپ کی بےعملی افسوسناک ہے،
مسجد کے امام کو قتل کیے جانے سے لےکر ٹرین میں ہندو پولیس افسر کے ہاتھوں تین تین مسلمانوں کے قتل کے خلاف بھی ملی لیڈرشپ نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا،
فساد زدہ اور ستم رسیدہ مسلمان اب بلڈوزر کی مار جھیل رہے ہیں ایک ساتھ مسلمانوں کے دو۔دو سو مکانات اور دوکانیں تہس نہس کیے گئے، کیے جارہے ہیں، مسلمان اپنے آشیانوں کو اجڑتا دیکھ رہے ہیں اور ملبے سے بچا کھچا اکٹھا کررہے ہیں، یکطرفہ ظلم سہتے رہنے کی یہ صورتحال عام مسلمانوں میں سخت انحراف اور کمزوری پیدا کرے گی جس کا نتیجہ بھیانک ہوگا، لیکن ملّی لیڈرشپ کا دل نہیں پسیجتا، ملی لیڈرشپ آج تک کسی ایک جگہ مسلمانوں کو ظلم کے اس انتہائی ناجائز اور سنگدلانہ وار سے بھی روک نہیں پائی ہے، اگر یہ ملی لیڈرشپ بلڈوزروں کے سامنے جا جاکر کھڑی ہونے لگ جائے تو کیا مجال ہے کہ کوئی سرکاری بلڈوزر مسلمانوں کو تہا نہس کرسکے؟؟ لیکن ایسا اقدام تو درکنار اس کے بارےمیں آج تک نہ کوشش کی نہ سوچا، اور ہندوتوا غنڈوں سمیت ہندوتوا سرکار سب نے مسلمانوں کو یتیم سمجھ کر ان کے خلاف چڑھائی کررکھی ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کے ہاتھوں فسادات میں جلائے جانے کےبعد بلڈوزر زدہ مسلمانوں کی موصولہ تفصیلات حسّاس دلوں کا سکون غارت کررہی ہے، نیند کوسوں دور اور اضطراب کھائے جا رہا ہے،
اللھم ارحم امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ازقلم: سمیع اللہ خان
samiullahkhanofficial97@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے