ڈاکٹر خورشید اقبال کی دو کتابوں کا اجرا

بروز اتوار 6/ اگست 2023 بعد نماز مغرب رشیدی منزل گلی نمبر 5 میں ادارہ قرطاس و قلم (جگتدل) کے زیرِ اہتمام ایک مخصوص ادبی تقریب منعقد ہوئی۔ معتبر ادیب ڈاکٹر خورشید اقبال کی دو کتابوں اڑان (افریقی افسانوں کے ہندی تراجم) اور (آل اباؤٹ ڈین براؤن اینڈ ہز ناولز) کا اجرا ہوا۔ تقریب کی صدارت مستند استاذ شاعر و ادیب ڈاکٹر معصوم شرقی کی رہی اور نظامت خواجہ احمد حسین نے کی۔ رسم اجراء مہمان ذی وقار مصطفےٰ اکبر کے ہاتھوں ادا کی گئی جس میں ذی علم شرکاء کی شمولیت رہی۔ مہمان خصوصی کے طور پر معروف صحافی و ادیب شکیل افروز اور ڈاکٹر جتندر بھارتی نے شرکت کر بزم کی رونق کو دوبالا کیا۔ تقریب کا آغاز سمیع الفت نے نعت پاک سے کیا۔ سائنسی ادب کا معروف نام حاجی عبدالودود انصاری نے ڈاکٹر خورشید اقبال کی ہمہ جہت ادبی خدمات کو ناقابل فراموش اور اچھوتا قرار دیا مزید کہا کہ مضافات میں اتنی معیاری و ادبی نشست و تقریب عدیم المثال ہے جہاں واقعی جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب کی صورت ہے۔ پروفیسر طیب نعمانی نے ڈاکٹر خورشید اقبال کو ایسا صوفی منش بتایا کہ جہاں جہاں ان کا جسدِ خاکی نہیں پہنچا وہاں وہاں بھی لوگ انھیں ان کے ادبی کاز کی وجہ سے جانتے ہیں۔ معروف صحافی و ادیب شکیل افروز نے فرمایا کہ واقعی مضافات میں ادب کی خدمت ہو رہی ہے۔ قرطاس و قلم ،عظیم انصاری، ڈاکٹر خورشید اقبال اور جگتدل و کانکی نارہ کے شعرا و ادبا کی ستائش ضروری ہے کہ ادبی چراغ کی لَو یہاں مدھم ہونے نہیں دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر وحید الحق علیگ نے ڈاکٹر خورشید اقبال کی ادبی خدمات بذریعہ انٹرنیٹ اور آن لائن ای-لائبریری والی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے جاری رکھنے کی گزارش کی۔ ہندی وشو ودیالیہ کے ہندی کے پروفیسر ، شاعر اور ادیب ڈاکٹر جتندر بھارتی نے کتاب ‘اڑان’ کے معیار کی پذیرائی کی نیز افریقی افسانوں کے ہندی تراجم کو ادب میں اضافہ بتایا۔ انھوں نے ڈاکٹر خورشید اقبال کو ادبی افق کا حقیقی سورج و ستارہ کہا۔ انگریزی کے استاد اور اردو ادب کے صاحب کتاب شاعر، مترجم، ناقد اور ادیب عظیم انصاری نے انگریزی میں صاحبِ تقریب و کتاب پر ناقدانہ رائے پیش کی۔ ان کے ٹھیک بعد ناظم ِمحفل نے بھی جم کر انگریزی میں ڈاکٹر خورشید کی تصانیف پر فراٹے سے انگریزی میں قصیدہ پڑھا اور کہا کہ ملازمت کی وجہ سے کوچ بہار چلے جانے پر پروگرام میں میرے چہیتے علی شاہد دلکش کی کمی مجھے بہت کھَل رہی ہے۔ حکومت مغربی بنگال کے جریدے "مغربی بنگال” کے سابق معاون مدیر محترم مصطفیٰ اکبر نے کہا کہ ڈاکٹر خورشید ایک ایسے خاموش ادبی خدمات گار ہیں جن کی خدمات کی روشنی بغیر شور شرابے کے ہر طرف منتشر ہے۔ اردو میں ماسٹرز کر رہے دو نوجوان محمد ظہیر عالم اور آفتاب عالم نے بھی اپنے تاثرات کا خوب اظہار کیا۔ صاحبِ بزم ڈاکٹر خورشید اقبال نے اپنے تاثرات کا اختصار سے اظہار کرتے ہوئے سبھوں کا شکریہ ادا کیا۔ صدرِ تقریب ڈاکٹر معصوم شرقی نے ڈاکٹر خورشید اقبال کو کوزے میں رہ کر ادبی سمندر کا کام کرنے والا بتایا۔ انھوں کہا کہ دیگر شاعر و ادیب ہر سال ایک ایک کتاب لاکر صرف معمولی دھماکہ کرتے مگر ڈاکٹر خورشید اقبال ہر دو تین سال بعد اپنی کتاب منظر عام پر لا کر بڑا ادبی تہلکہ مچاتے ہیں۔ پروگرام میں راقم الحروف فیاض انور، شمیم جہانگیری اور نسیم آتش صاحبان نے شرکت کی۔ معروف شاعر و تاجر بلند اقبال تقریب کو کامیاب بنانے میں پیش پیش رہے۔ میزبان ڈاکٹر وحید الحق علیگ نے بہترین ضیافت کا اہتمام و انضمام کرکے شرکاء کی داد اور دعائیں لی۔ تقریب عشاء بعد دیر رات گئے مکمل ہوئی۔

رپورٹ : فیاض انور صبا ، جگتدل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے