اسکول، کالج، یونی ورسٹیاں؛ لڑکیاں، لڑکیوں کی بے حیائیاں اور بے غیرت والدین

(کچھ واقعات و معاملات کی روشنی میں)

ماں باپ اپنی بچیوں کو اسکول کالج اور یونی ورسٹیوں میں بھیج کر اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہماری بٹیا تو بڑھ رہی ہے ؛ حالاں کہ بہت سی بٹیا اسکول کالج اور یونی ورسٹیوں کے ماحول میں جانے کے بعد پڑھتی کم ہیں اور لڑکوں کے ساتھ مل کر گل چھرے زیادہ اڑاتی ہیں۔ یہ لڑکیاں ، لڑکوں سے دوستیاں گانٹھتی اور عشق لڑاتی ہیں۔ اپنے والدین اور ماں باپ کو اندھیرے اور دھوکے میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں ، اور اکثر لڑکیاں اپنے اس مقصد میں بہت حد تک کام یاب بھی ہو جاتی ہیں۔
اچھے والدین کی نشانی یہ ہے کہ اولا تو وہ اپنی لڑکیوں کو آج کے حیا باختہ ، الحاد پسند اور بے دین ماحولیت پر مبنی ان اسکولوں ، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں بھیجے ہی نہ۔ اگر بالفرض بھیجے بھی ، تو ان پر اور ان کے رویوں اور حرکتوں پر خوب نظر رکھے۔ ان کے غلط تعلقات یا ناجائز دوستیاں تو کسی سے نہیں ، اس کا جائزہ لیتے رہے۔ اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جو اچھے والدین کے اندر ہوتی ہیں ، اور ہونی چاہیے!
کچھ ویڈیو بھیجنے کا جی کر رہا تھا۔ جو اگرچہ زیادہ واضح نہ تھے کہ ان میں نظر آنے والی لڑکیوں کی شناخت ہو سکتی ؛ تاہم دل نہیں کر رہا ہے۔
بس ان کا معاملہ آپ حضرات تحریری طور پر ہی ملاحظہ کر لیجیے!
ایک ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ کئی لڑکیاں متفرق طور پر کئی لڑکوں کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھی ہوئی ہیں ، اور وہ باہم بوس و کنار کرنے لگے۔
ایک ویڈیو میں صاف صاف نظر آ رہا ہے کہ پڑھائی کے بعد سب کی چھٹی ہوگئی ہے ؛ لیکن ٹیچر نے ایک جوان اور خوب صورت طالبہ کو روکے رکھا ہے۔ اور سب کے جانے کے بعد اس کے ساتھ بوس و کنار کرنے لگا۔
ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ٹیچر نے ایک طالبہ کو ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ شرارت اور بد تمیزی کی۔ اور بوس و کنار ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ زبر دستی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ چند ریکارڈ معاملے ہیں ، جن کے ویڈیو ہمارے پاس ہیں اور نئے نئے ہمیں موصول ہوئے ہیں۔ اس طرح نہ جانے کتنے معاملے روزانہ چوری چھپے انجام پاتے ہیں۔ بہت کم ہوتے ہیں جو منظر عام پر آ سکتے ہیں۔
یہ سب در اصل مسلمانوں کی مغرب کی اندھی تقلید اور اپنی بے غیرتی و بے حسی کے سبب ہو رہا ہے۔ تعلیم کے نام پر اپنی اولاد کو شرم و حیا سے عاری اور غیرت و حسیت سے خالی کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالے ہم مسلمانوں کو سمجھ داری ، غیرت اور حسیت عطا فرمائے! اور تعلیم کے نام پر اپنی بہن بیٹیوں کو بے حیائی کی راہ پر دھکیلنے سے باز رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

خالد سیف اللہ صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے