اب کونسی آزادی کے ہم جشن منائیں

ایک ہفتہ بعد پورے ہندوستان کے باشندوں کے لئے ہم سب کا متفقہ یوم بہاراں یعنی جشن آزادی کا دن آنے والا ہے جس میں ملک کا بچہ بچہ خوشی ومسرت کا اظہار کرتا ہے کیا ہندو کیا مسلمان ، کیا سکھ یا عیسائی ہر ایک کے ہاتھ میں ترنگا اور ہر ایک کی زبان پر ملک کی آزادی کا گیت اور اسکی جمہوریت کا راگ ہوگا اور کیوں نہ ہو آزادی تو ہندوستانیوں کا سپنہ تھا جو برسوں کی مشترکہ جد و جہد کے بعد انگزیزوں کے ظلم واستبداد سے آزادی کی شکل پورا ہوا ، پندرہ اگست کو ہر ہندوستانی اپنی زبان پر خوشی کے ترانے گنگنا تا اور ہاتھ میں ترنگا لے کر آزادی کا جش بڑی مسرت ودھوم دھام سے مناتاہے ملک کے وزیر اعظم مودی جی نے پچھلے سال کی طرح ایک بار پھر یوم آزادی کے موقع پر ہر گھر ترنگا لہرانے کی اپیل کی ہے اس کی وجہ سے بچوں میں خاص طور پر ترنگا خریدنے لہرانے اور گھر کو ترنگے سے سجانے کےلئے ایک عجیب سا جوش رہتاہے ، سوال یہ ہے کہ میوات کے حالیہ فساد میں فسادیوں نے جن کے گھر اجاڑ دیئے یا ظالم حکمرانوں نے بلا تفتیش جن مظلوم ومعصوم مسلمانوں کے گھر زمین دوز کر دیئے وہ کس جگہ ترنگا لہرائیں گے اور جو لوگ جیل میں بےگناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں اصل مجرموں کو بچانے کے لئے جن کے معصوموں پر FIR درج ہوئی ہے وہ یوم ازادی کا جشن منائیں یا ماتم ، جن بچوں کے باپ بھائی جیل میں یا دشمنوں کے خوف سے لاپتہ ہیں وہ کس پیسے لے کر ترنگا خدیدیں ،
یہی میوات ہے جہاں پچھلے سال یوم آزادی کے موقع پر ایک مدرسے کے چھوٹے چھوٹے بچوں نے ترنگا ریلی نکالی اور آزادی کاجشن مناتے ہوئے خوشی کے شادیانے گائے تھے اور ایک خشنما منظر پیش کیا تھا ، نوح ومیوات کے سیکڑوں لوگ جن کے اباء واجداد نے ملک کی آزادی کے لئے جان کی قربانی پیش کی تھی انگریزوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر گولیاں کھائیں یا پھانسی کا پھندا چوماتا ، انگریزوں کے ہاتھوں جامع شہادت نوش کیا تھا آج ان کی جو اولادیں اجڑ گئیں ہیں ، آزادی کے 75 پچہترویں جشن منائیں یا پھر اپنی بے بسی وبے کسی کا غم منائیں

میوات کے سیکڑوں معصوم لوگ سرکار کی اندھادھن گرفتاری کے خوف سے لاپتہ ہیں ان کے بچے بلک بلک کر رو رہیں روٹیاں نسیب نہیں، فاقوں تک نوبت ہے ان کے ہاتھوں میں ترنگا کہاں سے آئے گا ؟ بچے جو کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں ان کے ارمان بھی بلڈوزر نے رحم نہ کیا، نہ جانے کتنے بچوں کے اسکول چھوٹ گئے، ہزاروں بچوں کی کتابیں ، راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں ، نہ جانے کتنوں کی کتابیں بلڈوزر کی ظالمانہ کاروائی میں ملبے کا حصہ بن گئیں ، مودی جی بتائیں اب وہ کتابوں کا نظم کہاں سے ہوگا ان کی دکانیں بھی تو نیست ونابود ہوگئیں ، اب تو وہ کتابوں کے ساتھ ساتھ ترنگے سے بھی محروم ہوجائیں گے
قانون کے رکھوالے کی شکل میں جیتن رام نامی درندے نے جن مسلمانوں کو گالیاں دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اس کے اہل خانہ اس کے بچے اب کس سے ترنگا مانگیں گے اپنی خوشیوں کا اظہار کہاں کرنے جائیں گے ، کیا دیش کے پردھان منتری کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان مرنے والوں کے معصوم بچوں سے ملاقات کریں ان کو تسلی دیں اور مجرم کو سخت سے سخت سزا دلانے کا یقین دلائیں یا کم از کم اس طرح کی فرقہ پرستی کے خلاف کم از کم کچھ تو لب کشائیں کریں یا کیا ان کی خاموشی کو حمایت سے تعبیر کیا جائے ..؟

اب کـونسی آزادی کے ہم گیت سنائیں
سڑکوں پےپری لاش بھی محتاج کفن ہے
گلشـن کی تباہی کے لئے سارا جتن ہے
مالی کے ہی ہاتھوں مرا برباد چمن ہے
اب فخر سے ہم کیسے ترنگے کو اڑائیں
آزادی کا ہم جشن بتا کیسے منائیں

ہزاروں خاندانوں کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے ، جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر کسی کا گھر اجاڑدینا کس قانون کی کتاب میں درج ہے ، جو مجرم ہے بے شک اسے ضرور سزا ملنی چاہئے لیکن کیا اب دیش میں اس کے لئے بلڈوزر ہی فیصلہ کرے گا یا پھر جرم کے ثبوت کےلئے عدالتیں، جج، وکیل، گواہ بحث وجرح کی ضرورت نہیں ، پھر کیا اب دیش میں مذہب دیکھ کر سزائیں دی جایاکریں گیں ،

خدا را ملک کی تعلیمی اقتصادی، معاشی ترقی اس کی جمہوریت کے استحکام ، اور امن وآمان کےلئے اس ملک کو نفرت کی آماجگاہ بنانے سے بچانا ضروری ہے اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے افسران حکام اور عدالتوں کو بھی اس پرتماشائی بننے کے بجائے سخت نوٹس لینا چاہئے اور جس طرح کسی مجرم کو سزا دلانا ضروری ہے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ کوئی بے گناہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ جانےپائے
خدا اس ملک کی حفاظت فرمائے امن وآمان کی فضا ہموار کرے آمین

ازقلم: محمد عظیم فیض آبادی، جامعہ محمود دیوبند

9358163428

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے