فریضہ دعوت و تبلیغ اور اسے چھوڑنے کا انجام

دعوت الی اللہ یعنی غیر مسلموں کو اسلام کا پیغام دینا، انہیں اسلام سے روشناس کرانا’ دین توحید کو بےآمیز طریقے سے ان کے سامنے پیش کرنا ‘ وغیرہ وغیرہ ‘ خواہ ذاتی ملاقات کےذریعہ ہو، لکچرز اور لٹریچرز کے ذریعہ ہو یا اپنے حسن اخلاق اور امتیازی کردار کی جھلک سے ہو ۔ یہی وہ بنیادی کام ہے‌ کہ جس کیلئے تمام انبیاء کو دھرتی پر مبعوث کیا گیا۔ اگر مسلمانوں کے سواد اعظم یا اکابرین اور علماء اس کارنبوت سے کوتاہی برتتے ہیں تو وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہونگے اور ہر محاذ پر اس قوم کو شکست کا سامنا کرنا ہوگا۔ دعوت الی اللہ کے تئیں کوتاہی برتنے سے یہ انجام طے ہے۔ اسے وقوع میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ یہ حقیقت چونکا دینے والی ہے کہ جب سے مسلمانوں نے دعوت اسلامی کا کام ترک کیا ہے (تقریباً دو سو سال سے) تبھی سے تنزلی اور شکست خوردگی ان سے چمٹ گئی ہے۔ اب مسلمان اپنی تنزلی کی اسباب سیاست میں تلاش رہے ہیں ، حالانکہ اس کا راز دعوت اسلامی میں پوشیدہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جزیرۃ العرب میں جو پہلا انقلاب آیا وہ رسولِ خدا کے دعوت الی اللہ کے نتیجے میں آیا ، نہ کہ سیاسی تحریک چلاکر ۔ سیاسی تحریک ایک مغالطہ ہے ۔ اس سے کبھی اسلامی حکومت قائم نہیں ہوتی ۔ مسلمان مجموعی طور پر صبر اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام کریں تو اللہ تعالیٰ بطور انعام اسلامی حکومت عطا فرماتا ہے ( سورہ نور: 55’ سورہ سجدہ :24 )۔ چنانچہ جو چیز مسلمانوں سے مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی پیغام کو دوسری قوموں تک منتقل کرنے کا کام کریں ۔‌ متعدد حدیثوں میں الفاظ کے فرق کےساتھ یہ روایت ائی ھے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں تمام تر تفصیلات بتانے کے کے بعد آخر میں فرمایا ۔

” اے لوگو ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دوگے ۔ صحابہ نے جواب دیا ۔ ہم کہیں گے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا ۔‌ اس پر آپ ؓ نے آسمان کی طرف دیکھ کر تین بار فرمایا ، اے اللہ ، تو گواہ رہنا۔ اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی ” جو یہاں حاضر ہیں ، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں جو حاضر نہیں ہیں ” ۔

اس ہدایت کی روشنی میں اصحاب رسول نے اپنے آپ پر لازم کرلیا تھا کہ انہیں اسلام کا پیغام خدا کے انجان بندوں تک پہچانا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اصحابِ رسول پوری دنیا میں پھیل گئے ۔ وہ روزگار اور تجارت بھی کرتے تھے اور دعوت اسلامی کا کام بھی ۔‌ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے دعوت اسلامی کیلئے اپنا مسکن مدینہ سے ترکی منتقل کرلیا اور آخرکار وہیں وفات پائی ۔ ان کا مشن کامیاب ہوا اور بہت سارے ترکوں نے اسلامی فکر کو اختیار کیا۔ ہندوستان کے مالابار (کیرلا ) میں بعض اولین مسلمانوں کے مزار اور مسجدوں کی باقیات آج بھی موجود ہیں ۔ وہاں بھی عرب مسلمان سمندری راستے سے تجارت کی غرض سے آتے جاتے تھے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام کے پیغام توحید کو بھی لوگوں کے درمیان متعارف کراتے تھے ۔ سو ان کی کوششوں کے نتیجے میں کیرلا میں بہت سارے لوگوں کو دین توحید کو اختیارکرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آج بھی ہندوستان کے تمام خطوں میں کیرلا میں مسلمانوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے درآنحالیکہ وہاں ہندوستان کے مسلم بادشاہوں نے کبھی حکومت نہیں کی ۔

تحفظ کا مسئلہ

ملکی سطح پر آج مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تحفظ کا مسئلہ ہے۔ لیکن حقیقتاً مسلمانوں کے تحفظ کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے ۔ اگر سوال کیا جائے کہ مسلمانوں کے تحفظ اور بقا کیلئے سب سے زیادہ ضروری فیکٹر کیا ہے تو اس کا سٹیک جواب ہوگا دعوت الی اللہ۔ اس لئے کہ دعوت الی اللہ یا دعوت توحید کے ساتھ لازمی طور پر خدائی تحفظ کا وعدہ ہے( المائدہ: 67) ۔‌ جو لوگ خالص توحید پر کام کرتے ہیں ‘ وہ خدائی تحفظ کے سائے میں کام کرتے ہیں ۔ ان کے سامنے بڑی سی بڑی طاقت شکست کھا جاتی ھے ۔ جہاں جس خطے میں مسلمان اقلیت میں ہیں ، وہاں صرف یہ مطلوب ہے کہ غیر مسلموں میں اسلام کے بنیادی پیغام پر کام کرکے حجت تمام کردی جائے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں دعوتی شعور پیدا کئے جائیں ۔ مدارس اسلامیہ کے نصاب میں دعوت الی اللہ کا علحدہ نصاب ہو۔ فارغین مدارس کو یہ باور کرایا جائے کہ اصل کارنبوت یہی ہے کہ خدا کے انجان بندوں تک ان کی زبان اور اسلوب میں خدا کے پیغام کو پہنچا دیا جائے ‘ خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں۔ جب مسلمانوں میں دعوتی شعور پیدا ہوجائےگا اور انہیں یہ احساس ہوگا کہ یہ کام اپنی حد تک انہیں انجام دینا ہے تو وہ دوسرے اور تیسرے درجے کے کاموں کو ترک کردےگا ۔ وہ ازخود محرم ‘ میلادالنبی اور سیاسی جلوسوں سے دور بھاگےگا ۔ وہ مسلکی جھگڑوں، فقہی موشگافیوں اور دوسری قوم کی عداوتوں سے توبہ کرلے گا ۔ وہ اپنے بیچ تکفیر کے فتووں اور دوسروں کو گمراہ ٹھہرانے کی روش سے بھی باز آجائے گا ۔ وہ ہر وقت اسی فکر میں رہےگا کہ کم ازکم اس کے آس پاس کے لوگوں تک اسلام کا بنیادی پیغام (توحید، رسالت و آخرت ) پہنچ جائے ۔ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرےگا جس سے اسلام کی غلط نمائندگی ہوتی ہو ۔

ایک عظیم کارنامہ _

نیک ارادہ کے ساتھ انسان دعوت الی اللہ کا جو بھی کام انجام دیتا ھے خواہ وہ کسی کی نظر میں ادنیٰ ہی سہی، مگر اصل میں وہ اس کی زندگی کا ایک عظیم کارنامہ ہوتا ھے ۔ اس کام کا موازنہ کسی دوسرے کام سے نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس نے دنیا میں ہزاروں پیغمبر اسی کام کیلئےمبعوث فرمائے ۔ آخر میں اس نے عرب کی سرزمین میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کام کیلئے مبعوث فرمایا ۔‌چونکہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے آخری نبی ہیں ‘آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا ، اس لئے نبی کے بعد اس کار عظیم کی ذمہ داری نبی کی امت پر عائد ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ کام ہر صورت میں امت محمدیہ کو انجام دینا ہے۔ چنانچہ قرآن میں رسول ؐ کی زبات سے کہلوایا گیا۔‌۔

"کہو’ میرا طریقہ تو یہی ہے کہ میں اور میرے پیروکار پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ہوں ” ( سورہ یوسف: 108)۔

یہ کار نبوت ہے ۔ ایک عظیم اور بےمثال کام۔ دنیا کا کوئی دوسرا کام اس معیار کا نہیں ہے ۔اس کارعظیم کی وجہ سے امت محمدیہ کو امت وسط کا کردار ملا اور کہا گیا کہ رسول تم پر گواہ ھے اور تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو ( البقرہ : 143)۔

خیر امت کا خطاب

‌ اسی کار نبوت کی وجہ سے امت مسلمہ کو خیر امت کے خطاب سے نوازا گیا ( آل عمران ، آیت 110). یاد رہے اس سے پہلے یہ خطاب افضل الامت کے طور پر بنی اسرائیل کو عطا کیا گیا تھا ۔ مگر بار بار کی تنبیہ کے باوجود بنی اسرائیل نے اس ذمہ داری سے کوتاہی برتی ( آل عمران : 187)۔ اس کے بعد انہیں اس پوزیشن سے معزول کردیا گیا اور یہی خطاب خیر امت کے طور پر امت مسلمہ کو دیا گیا ۔‌ اس لئے امت مسلمہ پر فرض کے درجے میں یہ واجب ہوگیا ہے کہ وہ مسلکی اور فروعی جھگڑوں سے نکل کر دعوت الی اللہ کے کام کو لازم پکڑیں۔ اگر یہ امت دعوت الی اللہ کا کام نہیں کرےگی تو وہ اس فضیلت کی حقدار نہیں ہوگی جو انہیں خیر امت کے روپ میں عطا کیا گیا ہے۔

تحریر: محمد انیس۔ 8227076099

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے