مالونی رام نومی تشدد کے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج اور کیس کے ثبوت محفوظ کرنے کا ہائیکورٹ کا حکم

  • پولس کو دستاویزات کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت پو لس اسٹیشن سمیت دیگر مقامات کے فوٹیج بھی محفوظ کرنے کا واضح احکام

ممبئی:
ملاڈ مالونی رام نومی فرقہ وارانہ تشددمعاملہ میں ممبئی ہائیکورٹ نے پولس کو حکم دیا ہے کہ وہ رام نومی کے جلوس میں تشدد اور پولس اسٹیشن دیگر مقامات کےویڈیو فوٹیج سی سی ٹی وی اور آڈیوکلپ و دیگر دستاویزات محفوظ رکھے اور اس میں کسی بھی قسم کی چھیڑچھاڑ یا ٹیمپرنگ نہ ہو اس کو بھی یقینی بنائے کیونکہ تشدد کے معاملہ میں دستاویزات اہمیت کے حامل ہے اس لئے پولس کو 30مارچ کی شب 31 مارچ کی صبح د س بجے تک کا مکمل ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا حکم مقامی ڈی سی پی اجئے کمار بنسل کو دیا ہے یہ حکم ہائیکورٹ نے تشدد کے الزام میں کلیدی ملزم جمیل مرچنٹ کی پٹیشن پر سماعت کے دوران جاری کیا اس سے قبل مرچنٹ نے یہاں مقامی پولس اسٹیشن و انتظامیہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ضروری کلپ کی حصولیابی کے لئے آرٹی آئی کی تھی جس میں پولس نے فوٹیج دینے سے انکار کیا تھا جب مقامی ڈی سی پی کےپاس اس کی سماعت ہوئی تو عرضی کو ہی خارج کر دیا گیا تھا اس پر جمیل مرچنٹ کے وکیل برہان بخاری نے شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے پولس پر ہی انہیں جبرا اس تشدد کے کیس میں پھنسانے کا الزام عائد کیا ہے تو ایسے میں پولس سے کیا امیدکی جاسکتی ہے اس پر عدالت نے سخت موقف ظاہرکرتے ہوئے تمام سی سی ٹی وی فوٹیج اور کیس سے منسلک دستاویزات محفوظ کرنے کا حکم مقامی ڈی سی پی کو دیا ہے اور آئندہ سماعت 23 اگست تک ملتوی کر دی ہے ۔ رام نومی تشدد کے بعد مسلم نوجوانوں کی یکطرفہ گرفتار ی کے خلاف بھی جمیل مرچنٹ نے کورٹ میں جوائنٹ پولس کمشنر ستیہ نارائن چودھری ۔ ایڈیشنل کمشنر راجیو جین اور مقامی ڈی سی پی اجئے کمار بنسل کو فریق بنایا ہے یہ معاملہ میں ابھی زیر سماعت ہے جمیل مرچنٹ نے فساد کے دوران وزیر نگراں منگل پربھات لوڈھا پر بھی کئی سنگین الزامات عائد کئے اور پولس پر ان کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے