مسلمانوں میں قیادت کے فقدان سے مایوسی

آج کی تاریخ میں بھارت کے مسلمانوں میں اس بات کی چرچا زوروں پر ہے کہ یہ قوم قیادت سے محروم ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف زیادتیاں ہو رہی ہیں ۔آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے پاس کون سا مخلص قیادت تھی جنہیں اکثریت مسلمان اُنکی بات کو سر جھکا کر مانتی رہی ہو۔آزادی اور تقسیم کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کو کبھی بھی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنا رہنماء نہیں مانا بلکہ مولانا آزاد کو ہمیشہ آدھے ادھورے پاکستان کے لئے مورد الزام ٹھہرایا گیا ۔ حالانکہ آج اُنکی کہیں زیادہ تر باتیں صحیح ثابت ہو رہی ہیں ۔آزادی کے بعد ویسے بھی کسی مخلص مسلم قیادت کا افق پر آنا ہر طرح سے مشکل بنا دیا گیا ہے ۔کسی بھی مسلمان میں قائد کی تھوڑی بھی جھلک نظر آجاۓ تو حکومت اپنے ایجنسیوں کے ذریعے مانیٹرنگ شروع کر دیتی ہیں اور اس شخص کی کمزوری اور طاقت وقت کے ساتھ مشاہدہ شروع ہو جاتا ہے ۔لیکن جو مسلم قائد مسلمانوں کے مفاد کے خلاف سمجھوتہ نہیں کرتا ہے اُسے اس طرح سے بدنام کیا جاتا ہے کہ وہ کنارے بیٹھ جاتا ہے ۔میں اکثر ممبئی کے اپنے سینئر صحافیوں سے سنتا ہوں کہ ایک بار وہ لوگ بالا صاحب ٹھاکرے سے ملنے گئے تو بال ٹھاکرے نے اُن صحافیوں کے سامنے کہا تھا کہ تمہارے پاس غلام بنات والا جیسا مخلص اور بے لوث رہنماء ہیں انکا ساتھ دو۔ پھر ایسا رہنماء نہیں ملےگا۔لیکن ہم نے غلام بنات والا کی بھی قدر نہیں کی۔اُنکے ایک ٹیکٹکلی فیصلے جس میں کانگریس کو سبق سکھانے کے لئے ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شیو سینا کے ساتھ کانگریس کے مئیر امیدوار کے خلاف ووٹ کیئے ۔وہ ایک فیصلہ انڈین مسلم لیگ کو ممبئی کی سیاست سے ناپید کر دیا ۔لیکن وہی انڈین مسلم لیگ بھارت کے مسلمانوں میں ایک اُمید بھی پیدا کرتی ہے ۔کیرل کی انڈین مسلم لیگ یقیناً قوم کے تئیں مخلص فیصلے لے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کیرل کے مسلمان ریاست میں دوسرے درجے کے شہری نہیں بنے ہیں ۔
حیدرآباد میں بھی ایک مسلم قیادت ہے لیکن اُنکی سیاست کیرل کی انڈین مسلم لیگ کی سیاست سے الگ ہے۔کیرل کی لیگ جذباتی سیاست نہیں کرتی ہے ۔وہ مسلمانوں میں تعلیم ،صحت اور روزگار جیسے مسئلوں پر سیاست کرتی ہیں ۔اسلئے حیدرآباد اور کیرل کے مسلمانوں میں واضح فرق نظر آ جائے گا ۔کیونکہ جذباتی سیاست میں کچھ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔بدرالدین اجمل ایک مخالف حالات میں کام کر رہے ہیں اور یقیناً انکا ساتھ دیا جانا چاہیے ۔لیکن سیکولر جماعتوں کے مسلم رہنماء کبھی بھی مسلمانوں کے رہنماء نہیں رہے ہیں ۔وہ اپنے اپنے سیاسی جماعتوں کی رہنمائی کرتے تھے اور کرتے ہیں ۔انکا کام مسلمانوں کو بہلا پھسلا کر اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے لئے ووٹ کرانا ہے تاکہ پارٹی میں اُن کے قد میں اضافہ ہوتا رہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تک اس ملک کا مسلمان روزی ،روٹی ،صحت اور تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے ووٹ نہیں کیئے ہیں۔اس کے لئے صرف سیکولر جماعتوں کے مسلم رہنماء ہی ذمےدار نہیں ہیں بلکہ مذہبی قیادت بھی اتنی ہی ذمےدار ہیں۔اس ملک کی مذہبی قیادتوں نے سیاسی جماعتوں کے مسلم رہنماؤں پر چیک اینڈ بیلنس کا کام نہیں کیا ہے بلکہ جہاں سے اُن جماعتوں کے مفاد پورے ہونے کی امید ہوتی ہے اُنکے لیے نکل پڑتے ہیں ۔بھلے ہی ساڑھے چار سال تک اس جماعت کو برا بھلا کہتے رہے تھے ۔
اس ملک کے مسلمانوں کو یقیناً بھروسے مند قائد نہیں ملا یا مسلمان کسی قائد کے پیچھے مضبوطی سے کھڑا ہونا ہی نہیں چاہتا ہے۔بھارت کا مسلم ایک قائد کے پیچھے کھڑا ہو جائے یہ ممکن بھی نہیں ہے۔لیکن اسی مسلم سماج میں ایک طبقہ بوہری بھی ہے جو اپنے سماج کو آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں ۔حالانکہ مسلمان ہونے کے نام پر اُنکے ساتھ بھی زیادتی ہو جاتی ہے
ملک کا مخلص مسلم سیاسی قیادت تبھی اُبھر کر سامنے آئیگا جب اُنھیں ایماندار مذہبی قیادت کا ساتھ ملےگا۔کیونکہ مذہب اور فرقے کے پاس لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے اور بھیر کو ہانکنا اور ورغلانہ آسان ہوتا ہے۔اسلئے مذہبی قیادت کی ذمےداری ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی بنیادی ضرورت کیا ہے اور یہ قوم دوسری قوموں سے پچھڑتی کیوں جا رہی ہے اس کا مشاہدہ ضروری ہے۔بھلے ہی مذہبی قیادت اپنے اپنے مسلک سے ایک ایماندار سیاسی رہنماء پیدا کرے جو اپنے مسلک اور فرقے کو ہی اٹھانے کی کوشش کرے ۔کیونکہ مسلک اور فرقہ اس قوم کی سچائی ہے۔مسلک اور فرقوں کے سیاسی رہنماؤں میں اپنے اپنے فرقے کو اوپر اٹھانے کی مقابلہ آرائی ہوگی تب بھی پوری مسلم قوم ترقی کی طرف گامزن ہو جائے گا۔پوری قوم آج کی تاریخ میں ایک جٹ ہونے سے رہی اور یہی حقیقت ہے اسے ہر ایک مسلمان کو تسلیم کرنا چاہئے۔

تحریر: مشرف شمسی
میرا روڈ ،ممبئی
9322674787

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے