جنگ آزادی پر ایک طائرانہ نظر (قسط نمبر1)

جو قوم اپنے ماضی سے کٹ جاتی ہے اس کا وجود بحیثیت ایک قوم کے صفہ ہستی سے مٹ جاتا ہے ، مناسب معلوم ہوتا ہے تاریخ آزادی پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے تاکہ ماضی کی یادیں ذہن میں ثبت رہیں ،

15اگست 1947/ کے بعد ایک نئے ہندوستان نے جنم لیا جذبات کی رو تھم گئی اور اس کی جگہ سنجیدگی و متانت اور تدبر و فراست نے لے لی ، ملک کی تعمیر نو کیلیے ہم نے بہت سے موقعوں پر تخریب کی حشر سامانیوں کو بھی اپنانے سے گریز نہیں کیا ، کیوں کہ تخریب تعمیر کی پہلی منزل ہوتی ہے ، لیکن اب جبکہ اپنے ملک اپنے وطن اپنی قوم کو بنانے کے اختیارات ہمارے ہاتھوں میں آگئے تو ہمارے سامنے تعمیر نو کے سوا اور کوئی پروگرام اور لائحہ عمل نہیں رہا لیکن ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت جو تقسیم ملک کی شکل میں ہمارے سامنے آئ ، اس نے بہت سے دل و دماغ میں رد عمل کا ایک ایسا جذبہ پیدا کردیا جس نے آخر میں منافرت ، بدگمانی ، اور تنگ نظری کو جنم دیا ، چونکہ تقسیم کے اثرات انتہائی دلدوز اور روح فرسا ہونے کے ساتھ ساتھ دور رس اور دیر پا بھی ہوئے ، اس لئے اس کی لپٹ میں ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ بھی آگئ ، اور واقعات کو اس ڈھنگ سے پیش کیا جانے لگا کہ مسلمان جو ایک صدی سے جنگ آزادی کے میدان میں اگلی صفوں میں تھا ، اس واقعات کو اسٹیج سے ہٹادیا گیا اور اس کے عظیم کارناموں پر یا تو دبیز پردہ ڈال دیا گیا یا ان کی جد وجہد کے واقعات و حقائق کو اس ڈھنگ سے پیش کیا گیا کہ ان کی اصل صورت مسخ ہوکر رہ گئ ،

ایک سرسری جائزہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے انیسویں صدی میں جبکہ آزادی کا صرف ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا طاقت اور تشدد کا استعمال ، خلفشار اور بدامنی پیدا کرنا ،بغاوت کے جذبات کو ہوا دینا ، اس پورے دور میں مسلمان تنہا برطانوی حکومت سے نبرد آزما رہا ، انگریز اور انگریزی حکومت سے انتہا پسندانہ نفرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے انگریزوں کے ہر ہر اقدام کی مخالفت کو اپنا مذہبی شعار بنایا ، حد تو یہ ہے کہ بعض مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کو کتے اور خنزیر کی طرح نجس اور ناپاک سمجھا ، اور اگر سوئے قسمت انھیں کسی انگریز سے ہاتھ ملانا ہی پڑا تو وہ اپنے ہاتھ کو اس طرح الگ کئے رہتے جیسے کسی گندگی اور ناپاک چیز کو چھو دیا ہے ، اور جب تک اسے دھو کر صاف نہ کرلیتے اس وقت تک اس سے کوی دوسرا کام نہیں کرتے ،
اس انتہا پسندانہ نفرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے انگریزی تعلیم کو حرام قرار دیکر پوری مسلمان قوم کو جدید تعلیم سے بے بہرہ کردیا اور آدھی صدی تک مسلمانوں پر انگریزی تعلیم کے دروازے پوری قوت سے بند رکھا اور پھر بھی جب کچھ لوگوں نے کسی طرح انگریزی تعلیم حاصل کر ہی لی تو خود انگریزی حکومت نے ان پر سرکاری نوکریوں کا دروازہ بند کرکے ان کے حوصلوں کو ایک دم پست کردیا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس پورے دور میں برادران وطن کی دو نسلیں جدید تعلیم سے آراستہ ہوکر حکومت کے کلیدی عہدوں پر قابض ہوچکی تھیں اور مسلمان قوم اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود ان سے بچھڑ گئ ،

انگریزوں کی نگاہ میں ہندو طفل مکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بنگال سول سروس کے ایک افسر کی رپورٹ کے الفاظ ہیں ۔ اس نے لکھا ہے کہ ۔۔ ۔۔۔۔ عزم تعلیم اور ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے مسلمان ہندوؤں سے کہیں زیادہ لائق فائق ہیں اور نسبتاً ہندو ان کے سامنے طفل مکتب معلوم ہوتے ہیں ، علاوہ اس کے مسلمانوں میں انتظامی کاموں کی اہلیت زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

امتیازی سلوک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا امتیازی سلوک روا رکھا اس کی ایک جھلک سرولیم ہنٹر کے اس بیان سے ملتی ہے جو اس نے کلکتہ کے ایک فارسی اخبار مورخہ 14جولائ 1879ء ۔۔ کے حوالے سے لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس خبر کی کوی تردید نہیں کی گئی کہ سندر بن کے کمشنر نے گورنمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ جو ملازمتیں خالی ہوئ ہیں ان پر سوائے ہندوؤں کے کسی کا تقرر نہ کیا جائے مسلمان اب اس قدر گر گئے ہیں کہ اگر وہ سرکاری ملازمت پانے کی اہلیت بھی حاصل کرلیتے ہیں تب بھی انہیں سرکاری اعلانات کے ذریعہ خاص امتیاز کے ساتھ ممنوع کیا جاتا ہے ، ان کی بیکسی کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتا اور اعلی حکام تو ان کے وجود کو تسلیم کرنا بھی اپنی کسر شان سمجھتے ہیں ، حکام کے اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ کلکتہ میں مشکل سے کوی دفتر ایسا ہوگا جس میں بجز چپراسی یا چٹھی رساں یا دفتری کے مسلمان کو کوی نوکری مل سکے ، ۔۔۔۔
( مسلمانوں کے افلاس کا علاج ۔ شائع کردہ آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس 1934 )
ظاہر ہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود جس قوم نے اپنے مستقبل کو صرف اس لئے تباہ کیا کہ اسے ایک قوم کی غلامی منظور نہ تھی تحریک آزادی کے سلسلہ میں ایک بہت بڑی قربانی ہے جس کی قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ،

ہم نے تنہا ہی سفر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاریخ آزادی کی یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ 1900ء تک جتنے مسلمان مجاہد آزادی پھانسی پر لٹکائے گئے یا کالے پانی کی کربناک زندگی گزاری یا عمر قید کی سزا بھگتی یا صفوں میں کھڑا کرکے گولی مار دی گئی یا بغاوت کے جرم میں شوٹ کیا گیا تحریک آزادی کے پورے دور میں دوسری قوم کی قربانیوں کی مجموعی تعداد بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتی ، بیسویں صدی کی ابتداء میں جب تقریر و تحریر کی وہ آزادی نہیں تھی جو بعد کے دور میں ہوئ، اس وقت سب سے پہلا احتجاجی جلسہ کلکتہ میں تقسیمِ بنگال کے خلاف ہوا اس کے سارے مقررین میں شاید کوئی بچا ہو جو پولیس کی سختیاں اور قید و بند کی صعوبتیں نہ جھیلنی پڑی پڑی ہوں۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مجیب الرحمٰن۔ جھارکھنڈ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے