نظم: امام سعد کی شہادت

سدا یاد تیری امامت رہے گی
دلوں میں سبھی کے محبت رہے گی
تمہیں سعد کوئی بھلا نہ سکے گا
کہ یادوں میں زندہ شہادت رہے گی

چمن میں یہ کیسی خزاں آ گئی ہے
یہ کس موڑ پر داستاں آ گئی ہے
ہواوں میں بہتے ہیں نفرت کے شعلے
کہاں آگ تھی اور کہاں آ گئی ہے
سکونِ وطن لوٹتا ہی رہے گا
درندوں کی جب تک شرارت رہے گی
کہ یادوں میں زندہ شہادت رہے گی

وطن میں یہ کیسی ہوا چل رہی ہے
مکاں ہی نہیں مسجدیں جل رہی ہے
لہو اب اماموں کا بہنے لگا ہے
دلوں میں یہ نفرت عجب پل رہی ہے
سنا خون میں یہ جنازہ کہے گا
بھلے جان لے لو شرافت رہے گی
کہ یادوں میں زندہ شہادت رہے گی

دعائیں تری اور عبادت کہے گی
خلوصِ وطن اور محبت کہے گی
ہے ایماں کا حصہ وطن کی یہ حرمت
زمیں پر پڑی تیری میت کہے گی
رہوں نہ رہوں اپنا بھارت رہے گا
وطن سے مجھے بس عقیدت رہے گی
کہ یادوں میں زندہ شہادت رہے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔ شہاب حمزہ ۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ ۔ 8340349807

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے