یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ (قسط 2)

انسان کے نظام شمسی سے باہر اربوں اور کھربوں کہکشائیں ہیں۔ ان کہکشاوں کا نام کائنات ہے جو لامحدود ہے۔ یہ صرف ایک کائنات ہے جس کی کوئی ہد نہیں، اس طرح کی لاکھوں اربوں کائناتیں جن کو جاننے کے لئے شاید انسانوں کو ابھی کتنے کھربوں سال لگیں گے۔ فی الحال ہم صرف ایک یونیورس پر بات کرتے ہیں۔

کائنات کی کوئی سرحد، کوئی ٔکنارہ، کوئی آخری سرا نہیں ہے۔ کائنات کی تقسیم در تقسیم کبھی نہ ختم ہونے والی ہے اور بے انتہا ہے۔ یہ تمام ستارے، سیارے، زمین، پودے، جانور، انسان ہر چیز کائنات میں شامل ہے۔ آئیے اب جانتے ہیں کہ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی۔ انسان شاید اس دنیا کی وہ سب سے عظیم مخلوق ہے، جو ہر وقت اس وسیع کائنات کی ہر شے کو کھوجنے، اس کی حقیقت جاننے کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔ یہی تلاش انسان کو چاند ستاروں اور کروڑوں نوری سالوں کے فاصلے پر واقع کہکشاؤں تک لے گئی ہے۔

ہزاروں سال سے جاری انسانی سائنسی تحقیق، سوال و جواب اور دریافتوں کا سلسلہ اپنی جگہ، مگر آج سے تقریباً چار سو سال پہلے یورپ میں جو سائنسی انقلاب برپا ہوا۔ اس کی وجہ سے ہزاروں سال پرانے نظریے اور مفروضے غلط قرار پائے۔ چار سو سال پہلے فزکس میں نئے اصول وضع کیے گئے۔ ایسے آلات وجود میں آئے جن سے کائنات کی ابتدا کو کافی حد تک سمجھنے میں مدد ملی۔ کائنات بگ بینگ کے عمل کی وجہ سے وجود میں آئی تھی۔ یقیناً ’بگ بینگ‘ کا نام تو ہم میں سے بہت ساروں نے سن رکھا ہوگا۔

چلیے آج میں آپ کے سامنے بگ بینگ نظریے کی مکمل تصویر آپ کو دکھاتا ہوں۔ بگ بینگ انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’بڑے دھماکے‘ کے ہیں۔ بگ بینگ وہ دھماکہ ہے جس کی وجہ سے یہ کائنات وجود میں آئی۔ اس نظریے کے مطابق کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے تمام مادہ ایک سوئی کے ہزارویں حصے کے برابر نہایت خفیہ جگہ میں قید تھا۔ یہی بگ بینگ دھماکہ کائنات کا نکتۂ آغاز تھا۔ بگ بینگ دھماکے سے تمام مادہ انتہائی تیزی سے ایک دوسرے سے دور ہونے لگا اور خلاء میں پھیل گیا۔

اس وقت اس مادے کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ یہ کائنات تیزی سے پھیلنے لگی۔ بگ بینگ دھماکے نے یونیورس یا کائنات کو ہر طرف پھیلا دیا۔ بگ بینگ سے خلا میں ستاروں کے بہت بڑے بڑے جھرمٹ وجود میں آ گئے جنہیں کہکشائیں کہا جاتا ہے۔ کہکشائیں بڑی تیز رفتاری سے ایک دوسرے سے جدا ہو رہی ہیں اور اس طرح کائنات پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ آج ’بگ بینگ‘ ، یعنی ہماری کائنات کے نکتۂ آغاز کو 13.8 ارب سال ہو چکے ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ بھلا کائنات کی عمر کوئی کیسے بتا سکتا ہے اور کیسے پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ بگ بینگ دھماکہ کب ہوا تھا؟ تو اس کا جواب ہمیں ”ہبل خلائی دوربین“ نے دے دیا ہے۔ اس دوربین کی مدد سے لی گئی تصاویر میں ہمیں جو سب سے پرانی کہکشاں ملتی ہے، وہ زمین سے 13.4 ارب نوری سال دور واقع ہے۔ ’نوری سال‘ دراصل وقت کا پیمانہ نہیں ہے بلکہ فاصلے کا پیمانہ ہے اور ایک نوری سال کا فاصلہ تقریباً 10 کھرب کلومیٹر کے برابر ہے۔

یہ فاصلہ روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاں ایک نوری سال ہی 10 کھرب کلومیٹر کے برابر ہے تو 13.8 ارب نوری سال کتنے کلومیٹر کے برابر ہوں گے۔ اگر ہم پیمائش کر سکیں کہ کسی دور دراز ستارے یا کہکشاں سے روشنی زمین تک کتنے سال میں پہنچ سکتی ہے تو اس طرح قدیم سے قدیم تر کہکشاؤں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ اب تک ہم نے جس قدیم ترین کہکشاں کا مشاہدہ کیا ہے، وہ کیونکہ کہ 13.4 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کی عمر اس کے آس پاس ہی ہوگی۔

13.8 ارب سال پہلے نہ یہ سورج تھا، نہ یہ ستارے تھے، نہ یہ کہکشائیں تھی، اور نہ ہی یہ نظارے، بلکہ صرف دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بڑے بڑے ہائیڈروجن گیس کے بادل تھے۔ خلاء میں موجود ان بادلوں کے جن حصوں میں ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی مقدار زیادہ تھی، ان حصوں میں گیسز سکڑنے لگیں اور سکڑتے سکڑتے کافی گرم اجسام کی شکل اختیار کر گئیں جنہیں ہم ”ستارے“ کہتے ہیں۔ ان ستاروں کے آس پاس جہاں گیسز کی مقدار کم تھی، وہاں بھی گیسز سکڑتی گئیں اور گرم اجسام بنے جو ستاروں سے چھوٹے تھے ان اجسام کو ہم ’سیارے‘ کہتے ہیں۔

کئی ستارے آپس کی کشش کی وجہ سے جھرمٹ کی شکل اختیار کر گئے اور اس طرح کہکشائیں وجود میں آ گئی۔ ہمارا سورج اور زمین جس کہکشاں میں ہے اس کا نام ”ملکی وے“ ہے۔ اس کا نام ملکی وے اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ ملکی وے نامی کہکشاں میں بہت سے ستارے
سفید نظر آتے ہیں، اس کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ”دودھ کی نہر یا راستہ“ ہو۔ ”ملکی وے“ کا اردو ترجمہ ہے ”دودھیا راستہ۔“ جب زمین بنی تو اپنے محور اور سورج دونوں کے گرد بہت تیزی سے چکر لگا رہی تھی اور آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوتی چلی گئی۔

جاری۔۔۔۔۔۔

تحریر: اجمل شبیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے