مجاہدین آزادی کی قربانی اور آزادئ ہند کى کہانی

یہ تو ازادی ہند اور ہندوستانی تاریخ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور دور روا میں مستقل لکھا جا رہا ہے مزید یہ کہ ائندہ بھی لکھا جائے گا ازادی ہند کا قصہ ہندوستانی تاریخ کا وہ کروناک اور علمناک قصہ ہے جس کو اگر مختصر الفاظ میں سمیٹا جائے اور ازادی ہند کے بھی تھے ایام کا مطالعہ کیا جائے بروز جمعہ 15 اگست 1957 عیسوی کو ازادی ازاد محض ہندوستان ہوا تھا ہندوستانی نے واپسی 11 مئی 1857 عیسوی درحقیقت سے دراز کا اغاز ہے چونکہ انگریزی فوج نے جب حکومت ہند کے خلاف بغاوت کی اور کسی اثنا میں ان کے افسروں کو گولی مار دی گئی اور جب کاروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں خصوصیت کے ساتھ اولا بے قصور مسلمانوں کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ اچھل دیا گیا اچھل دیا گیا دہلی کا چاندنی چوک اج بھی ان نشانات کی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح راستوں کے ہر درخت پر مسلمانوں کی لاشیں لٹکائی گئی ایک انگریز عورت اپنی ڈائری میں لکھتی ہے کہ بسا اوقات ان پھانسیوں پر لٹکائے جانے والوں کی لاشیں تڑپ تڑپ کر انگریزی ہندسے کا انٹ بن جایا کرتی تھی اور خاص کر اس وقت مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول بنانے کے لیے سزا کی نت نئے طریقے ایجاد کیے جاتے تھے اس میں سے ایک یہ کہ کسی معصوم مسلمان کو توپ کے دہانے پر لا کر باندھ دینے اور تو کو داغ دیا جاتا تھا جس سے اس بیچارے کہ جسم کے چیتھڑے اڑا دیا اڑجایا کرتے تھے اور یہ لوگ اس کا مذاق اڑایا کرتے ہر طرف دار وگیر کا حشر برپا تھا جب انگریز عدالت کی کرسی پر تخت نشی ہوا تو اپنے واحد دشمن مسلمانوں سے عدل و انصاف کی وہ باس ختم کرنے پر تلا تھا اس وقت عدل و انصاف کا ڈرامہ کیا جاتا اور اس کے برخلاف فیصلہ سنا دیا جاتا تھا اگر کوئی بڑا جرم معلوم ہوتا تو اس کو کالے پانی کی سزا دی جاتی تھی کیونکہ جس کیونکہ حبس دوا میں باعبود دریائے شور کی سزا ہاں سی کی سزا سے کہیں زیادہ اذیت رساں تھی انگریز یہ سزا معزز مسلمانوں کو ہی دیا کرتے تھے گویا کہ وہ اپنوں کے لیے جیتے جی مر چکا ہوتا تھا ان میں عوام بھی تھے اور خواص بھی علماء بھی تھے اور بڑے پائے کے مشائخ بھی تھے جن کے پیر و ترے لوگ اپنی انکھیں بچھا دیا کرتے تھے ایسے مشائخ کو بھی جزیر اینڈ ومان کو کی مسموم فضاؤں میں بھیج دیا گیا یہ جزائر درحقیقت بڑے بڑے قید خانے تھے جس میں چار طرف لمبی لمبی فصیلیں تھیں اور تاحد نگاہ سمندر ہی لہریں سمندر لہریں مارتا تھا انتظائر میں ان سے لکڑیاں کٹوائی جاتی سڑکیں بن وائی جاتی حتی کہ کوڑا کر کٹ بھی ان کے سروں پر لاد دیا جاتا جزیرے میں تمام مسلمان قیدیوں سے ایسے افعال جبری طور پر لیے جاتے تھے اس سلسلے میں ان مظلوم مسلمانوں کی فہرست بتانی مشکل ہے کہ وہ کتنے تھے مگر جستہ جستہ واقعات سے معلوم پڑتا ہے کہ ان کی تعداد 4 ہزار سے متجاوز تھی کیونکہ مولانا جعفر جعفر تھانہ سیری اپنی خود نفیس ڈائری میں یہ بات سپرد قرطاس کرتے ہیں کہ جب جزیر انڈومان میں مولانا یحیی رحمۃ اللہ علیہ علی صادق خوری کی وفات ہوئی تو ان کے جنازے میں ان کے جنازے میں لگ بھگ چار یا پانچ ہزار لوگوں نے شرکت کی اور نماز جنازہ پڑھی اس سے پتہ چلا کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نکالے پانی کی سزا بھی ازادی ہند کے خاطر برداشت کی باوجود ان صحبتوں کے ان کے قلب نے یہی صدا بلند کی کہ پھر بھی دل ہے ہندوستانی پھر یوں ہوا کہ منتظرین ازادی کا انتظار بالاخر امید کے کنارے کو پہنچا اندھیری رات کے مظلوموں کو صبحناؤں کی روشنی ہاتھ ائی اور تن کے گورے من کے کالے انگریزوں سے اس ملک کو ازادی حاصل ہوئی اور ایک ازادی ازاد ہندوستان کی بنیاد رکھی گئی۔

ازقلم: عبدالرافع ناندیڑ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے