یوم آزادی؛ مختصر تاریخی حیثیت

یوم آزادی :ہمارے اس پیارے ملک بھارت میں١٥ اگست کو جشن آزادی منایا جاتا ہے ۔جس میں سارے ہندوستانی ذات پات کو چھوڑ کر خوشی مناتے ہیں اور اپنے آباواجداد کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم ایک ایسے ملک میں ہیں کہ جس میں ہر شخص کو ہر طرح کی آزادی ہے جو کے ہندوستان کے آئین (constitution) میں داخل ہے .
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں
محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں۔

1857 کی جنگ آزادی ایک ناقابل فراموش واقعہ ہے۔ بھارت کی تاریخ لکھی جائے اور 1857 کی جنگ آزادی کا ذکر نہ ہو تو یہ تاریخ نا مکمل ہوگی۔ اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ جنگ اور قربانیوں کا سلسلہ 1857 سے ہی نہیں بلکہ اس سے بھی کئے برس پہلے سے ہی شروع ہوچکا تھا۔

انگریز کے ناپاک قدم ہندوستان میں
(1601)میں انگریز نے اپنے ناپاک قدم ہندوستان میـں رکھا اور تجارت کے بہانےآہستہ آہستہ پورے بر صغیر پہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا اور جوبھی اس کے خلاف آواز اٹھاتا اس پر ستم ڈھائے جاتے۔ اس طرح انگریز پورے بر صغیر پہ قابض ہوگئے
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رح کا فتویٰ
پھر ایک وقت آیا کہ(1746)میـں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رح شاہ ولی اللہ رح کے گھر پیدا ہوئے اور جب انہوں نے دیکھا کہ انگریز اپنے شاطرانہ اور عیارانہ چالوں سے یہاں کے مالک بن بیٹھے ہیں اور باشندگان ہند پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھارہے ہیں اور اپنے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ تو ایسے نازک وقت میں (1762)میں آپ ہی نے سب سے پہلے ا نگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جہاد کا فتویٰ دیا اور میدان جنگ میـں کود پڑے اور ان فرنگیوں کے خلاف ایک محاذ بنا کر توکل علی اللہ منزل کی جانب بے سروسامنی کے عالم میں نکل پڑے۔
میں اکیلاہی چلاتھا جانب منزل مگر
راہ رو آتے گئے اور کارواں بنتاگیا
یہ کارواں مسافت طے کرتے ہوئے کس طرح منزل مقصود تک پہنچا یہ ایک لمبی داستاں ہیں.
ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ
سلطان ٹیپو رح (1752)میں انگریز کے مقابلہ میں اٹھا۔
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ نے چار لڑائیاں لڑی لیکن آپ کے سپہ سالار میر صادق نے آپ کے ساتھ غداری کی اور آپ کو تن تنہا میدان میں چھوڑ دیا اور بالآخر سلطان ٹیپو لڑتاہوا شہید ہو گیا
1857 میـں متحدہ جنگ
پھر یہ کارواں بڑھتا گیا اور ایک وقت آیا کہ سارے ہندوستانی انگریز کے خلاف میدان جنگ میـں کود پڑے اور آزادی کے علم کو بلند کیا اور اگر سب سے زیادہ کسی طبقہ نے اپنے جانوں کی قربانی پیش کی ہے تو وہ مسلمان ہیں اور بالخصوص علماء دیوبند۔

1857 کی جنگ آزادی میں علماء کرام کی قربانیاں

چنانچہ 1863 میـں انگریز نے علماء کے قتل عام کا اعلان کیا دہلی کے چاندنی چوک سے پشاور تک درختوں پر علماء کی گردنیں اور جسم لٹکے ہوئے ملتے تھے ۰روزانہ 80 علماء پھانسی پر لٹکائے جاتے تھے انگریز مؤرخ مسٹر ٹامسن کہتاہے کہ میں دہلی کے ایک خیمے میں بیٹھا ہوا تھا مجھے گوشت کے جلنی کی بو آئی میں نے خیمے کے پیچھے جاکر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آگ کے انگاروں پر تیس چالس علماء کو برہنہ کر کے ڈالا جارہا ہے۔ پھر دوسرے 40 اسی طرح لائے گئے انہیں برہنہ کیا گیا ایک انگریز نے ان سے کہا اگر تم اٹھارہ سو ستاون کی جنگ میں شرکت سے انکار کردو تو تمہیں چھوڑ دیا جائےگا -ٹامسن کہتاہے کہ خدا کی قسم سارے علماء جل کر خاک ہو گئے مگر کسے نے بھی انگریز کے سامنے گردن نہیں جھکائی۔

ائے راہ حق کے شہیدو وفاکر تصویروں
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کر تی ہیں

شاہ محدث دہلی کی تحریک اپنی منزل مراد پانے میں کامیاب
1920 کے بعد آزادئ ہند کا دوسرا دور شروع ہوا اور 1930 میں چودہ ہزار مسلمان جیل گئے اور پانچ سو دلاور جوان شہید ہوئے اور آخری جنگ 1947 میـں ہندوستان کا آخری گورنر جنرل لارڈماؤنٹ بیٹن رخصت ہوگیا اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے دور سے چل رہی آزادی کی تحریک ایک طویل جدوجہدکے بعد اپنی منزل مراد پانے میں کامیاب ہو گئی اور ہمارا ملک 15 اگست 1947 میں ان انگریزوں کی چنگل سے آزاد ہوگیا۔

ہماری آنکھ میـں جو خواب ہیں وہ سب وطن کے ہیں
یہاں جو گوہر نایاب ہیں وہ سب وطن کے ہیں
وطن کے آن پر قربان کرتے ہیں دل وجان بھی
ہمارےپاس جو اسبابِ ہیں وہ سب وطن کے ہیں
کہیں امید کی کرنیں دلوں میـں ر شنی کردیں
کئے جزبے بہت نایاب ہیں وہ سب وطن کے ہیں
اسی موقع پر میں تمام ہی لوگوں کو آزادی کی 77 ویں جشن کی مبارک باد پیش کر تاہوں
لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہاہے زمانے میں نام آزادی

ازقلم: محمد رضوان بن محمد حسین صاحب بچکندہ
۲۷/محرم ۱۴۴۵ بروز منگل مطابق 15 اگست 2023

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے