بلڈوزر کاروائی یا اسمارٹ سٹی مہم

ہریانہ کے نوح میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوز کر دیا گیا اسلئے کہ پولس نے اُنھیں فساد کا ملزم ٹھہرایا ہے ۔حالانکہ ہریانہ سرکار کا کہنا ہے کہ یہ سارے مکانات غیر قانونی تھے اس لئے مسمار کیئے گئے ۔ہریانہ اور پنجاب ہائی کورٹ نے اس معاملے میں از خود نوٹس لیا تو اس بلڈوزر کاروائی پر روک لگی ہے اور سرکار کو جواب دیتے نہیں بن رہی ہے ۔اقلیتوں کے خلاف بلڈوزر کا استعمال صرف پہلی بار ہریانہ میں ہوا ہے ایسا نہیں ہے ۔اس کی شروعات اُتر پردیش کی یوگی سرکار نے کی اور اب اُسکا دائرہ بڑھتے ہوئے مدھیہ پردیش ،اتراکھنڈ اور ہریانہ نے بھی شروع کر دیا ہے ۔
بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ مختلف ریاستوں کی بی جے پی سرکار مسلمانوں کو شانت کرنے کے لئے بلڈوزر کاروائی کو حربہ بنایا ہے کیونکہ بلڈوزر کاروائی میں زیادہ تر گھر مسلمانوں کے مسمار کیئے گئے ہیں لیکن یہ بی جے پی کی منصوبہ بند پالیسی کا حصہ ہے جس کے دائرے میں بہت جلد اس ملک کے کمزور طبقے یعنی دليت ،آدیواسی اور پچھڑے کو بھی نشانہ بنایا جائے گا ۔انتظار صرف 2024 کی جیت کا ہو رہا ہے ۔
کسی پر فساد اور دوسرے الزام لگا کر اسکے گھر پر بلڈوزر چلا دینا کتنا خطرناک ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے ۔قارئین آپکو پتہ ہے کہ بلڈر اور پیسے والے اپنی زمین کو خالی کرانے کے لئے کس طرح جھونپڑوں کو آگ کے حوالے کروا دیتے تھے ماضی کی فلموں میں اس طرح کے مناظر اکثر دیکھے ہونگے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب کارپوریٹ کی نظر بڑے شھروں کی غیر قانونی کالونیوں جو سالہا سال پہلے بسے ہیں اُن پر ٹک گئی ہیں ۔جھونپڑوں میں تو آگ لگا یا لگوا دیا جاتا تھا لیکن پکّے گھروں کو خالی صرف عدالت سے ہی کیا جا سکتا ہے لیکن عدالت میں وقت کتنا لگے گا یہ کہنا مشکل ہے ۔اسلئے کارپوریٹ کے لئے یہ آسان ہے کہ کسی علاقے میں فساد کرا دی جائے اور فساد میں سارے محلوں کے گھروں کے ایک ایک نام ایف آئی آر میں درج کروا دی جائے اور پھر ملزمین بنتے ہی اُن گھروں پر بلڈوزر چلا دی جائے۔ملک کا ایک بڑا طبقہ سرکار کی اس کارروائی سے خوش بھی ہو جائےگا اور کارپوریٹ کا اپنا کام بھی ہو جائے گا ۔شروعات مسلمانوں سے ضرور ہوئی ہے لیکن اس دائرے میں پورا کمزور طبقہ آئیگا۔کیونکہ غیر قانونی کالونیاں امیروں کی نہیں ہوتی ہیں ۔2014 کے بعد جب مودی سرکار نے اسمارٹ سٹی بنانے کا اعلان کیا تھا اس وقت میں نے لکھا تھا کہ موجودہ حکومت صرف پانچ سے دس کروڑ کا بھارت بنانا دیکھ رہی ہے جہاں ہر طرح کی سہولیات اور آشائس ہو باقی ملک کو اُنکی خدمات میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔کیپٹلزم کا ایک بھیانک چہرہ ملک میں سامنے آتا جا رہا ہے جس کی مخالفت کرنا آسان نہیں ہے ۔کیونکہ کسی پوشیدہ پالیسی پر کام کرنے سے پہلے عوامی مخالفت کا احساس کرتےہوئے سرکار سخت قانون بنا دیتی ہے تاکہ مخالفت ہو بھی تو اُسے قانونی طور پر دبا دیا جائے ۔کیونکہ اب ہر ایک چیز پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپی جا رہی ہیں تو اس ملک کے مالک بھی کچھ چنندہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہی ہوگی۔2024 میں یہ سرکار حکومت میں واپس آ جاتی ہے تو اس ملک کی اکثریت عوام ان چنندہ لوگوں کے رحم وکرم پر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔تب اسمارٹ سٹی بھی بنے گا اور بلیٹ ٹرین بھی چلیگی کیونکہ اسمارٹ سٹی اور بلیٹ ٹرین چلانے کے درمیان غریب اور کمزور طبقے کی کھیت اور گھر آ رہے ہیں اور وہ ان پروجیکٹوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں اُنہیں غیر قانونی بتا کر قبضے میں لینا آسان ہو جائے گا ۔ یہ مان لیں بلڈوزر کاروائی کے ذریعے اسمارٹ سٹی بنانے کی مہم سرکار نے شروع کر دی ہے ۔اکثریت آبادی کی حمایت حاصل کرنے کے لئے شروعاتی نشانہ زیادہ تر مسلمان بن رہے ہیں لیکن جلد ہی اس بلڈوزر کا نشانہ ملک کی اکثریت آبادی کو
بنایا جائے گا ۔تب بھی لوگ خاموش تماشائی بنے ہونگے اور ان کی آواز کو سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔

تحریر: مشرف شمسی، ممبئی،میرا روڈ
موبائیل 9322674787

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے