نئی نسل کو دین پر قائم رکھنے کے لئے دینی تعلیم ضروری ہے

سماج میں ترقی وقت کی ضرورت ہے ، اور ترقی علم اور تعلیم سے حاصل ہوتی ہے ، لیکن ترقی اور تعلیم وہی بہتر ہے ،جس میں دین باقی رہے ، کیونکہ مسلمانوں کے لئے دین سب سے زیادہ اہم ہے ، اس لئے ترقی و تعلیم کے ساتھ دین سے وابستگی ضروری ہے ، اگر دین سے وابستگی نہ ہو تو وہ تعلیم اکثر گمراہی کی طرف لے جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مسلم سماج میں ہمیشہ یہ طریقہ رہا کہ وہ اپنے بچے اور بچیوں کی تعلیم کی ابتداء بسم اللہ خوانی کے ذریعہ کراتے رہے ، بچپن میں ان کی تعلیم کسی مولوی کے ذریعہ ہوتی ،پھر جب بچہ مکتب میں پڑھنے کے لائق ھوتا ،تو مکتب میں تعلیم دلائی جاتی ، مکتب میں قرآن کریم ،اسلامیات ، اردو اور ابتدائی عصری تعلیم دی جاتی ، اس کے بعد جس کو اسکول میں پڑھنا ہوتا ،وہ اسکول میں جاتا ، اور جس کو مدرسہ میں پڑھنا ہوتا ،وہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتا ، پھر ایسا دور آیا کہ اکثر مقامات پر مدارس قائم ہوگئے ، مدارس میں مکتب اور مدرسہ دونوں کی تعلیم ہونے لگی ، اس طرح مکتب اور مدرسہ کی تعلیم دین و شریعت اور تربیت کے لئے لازمی ہے ، جہاں جہاں مسلمانوں سے دینی تعلیم کی جانب سے بے توجہی ہوئی ہے ،وہاں سماج میں برائیاں پیدا ہوئی ہیں ، اس لئے تعلیم و ترقی کے ساتھ دین سے وابستگی بھی ضروری ہے
یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں دینی تعلیم کے ادارے کی اہمیت رہی ہے ، دینی تعلیم کے ادارے مکاتب اور مدارس ہیں ، اس کے ذریعہ نہ صرف دین کی اشاعت ہوتی ھے ،بلکہ اس کی وجہ سے صحیح انداز پر ترقی ہوتی ہے ،اور بچے و نوجوان تربیت یافتہ ہوتے ہیں ،
موجودہ وقت فتنہ کا ہے ، فتنہ سے نئی نسل کی حفاظت وقت کی بڑی ضرورت ہے ، اس لئے ایسے وقت میں دینی تعلیم و تربیت کی ضرورت بہت زیادہ ھے ، اس لئے یہ ضروری ہے کہ جو بچے اسکول میں پڑھتے ہیں ،ان کے لئے صبح اور شام کے وقت دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے ، اس کے لئے مدارس اور مکاتب کے نظام کو مضبوط کیا جائے ، اور جو مدارس یا مکاتب میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ،ان کے لئے ضرورت کے مطابق عصری تعلیم کا انتظام کیا جائے ، اس طرح نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ حفاظت ہر مسلمان کا فریضہ ہے ، اگر ہم نے اپنی نئی نسل کی حفاظت نہیں کی تو ہماری تعلیمی اور معاشی ترقی بے معنی ہو کر رہ جائے گی ،اور پھر پچھتانا پڑے گا ، مگر پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح رہنمائی فرمائے ، جزاکم اللہ خیرا

ابوالکلام قاسمی شمسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے