جلوہ حسین کا

مقتل میں لٹ گیا سب ا ساثہ حسین کا
شکرِخدا ہے پھر بھی و ظیفہ حسین کا

طو فا نِ بر ق و با د ہے حملہ حسین کا
پتھر کو تو ڑ تا ہو ا شیشہ حسین کا

نکلا ہے لب پہ ذ کرِ حسینی لیے ہو ئے
اس ما ہ کا ہر ا یک ر سا لہ حسین کا

جانِ یز ید یت ہےگلے میں پھنسی ہو ئی
مضبوط کس قد ر ہے شکنجہ حسین کا

غیرت سے پا نی پا نی تھا دریا فرأت کا
حسرت سے د یکھتا رہا چہر ہ حسین کا

نا نا کی ملکیت میں ہے یہ ساری کائنات
مکًہ حسین کا ہے مد ینہ حسین کا

شا نِ حسین شر حِ قر آ نِ عظیم ہے
آ سا ن تو نھیں ہے سمجھنا حسین کا

ظلمت سرائے دہر میں قند یل کی طرح
روشن ر ہا چر ا غِ سرا پا حسین کا

بچتا نہ ا یک فر د یز ید ی سپا ہ کا
قدرت نے ہا تھ روک دیا تھا حسین کا

سردیں گےپرنہ ہاتھ میں فاسق کےدیں گےہاتھ
یہ جو ش یہ غضب یہ ا ر ا د ہ حسین کا

اصغرکےخوں سےلکھ دیا، اسلام زند ہ باد
یہ د م یہ حو صلہ یہ کلیجہ حسین کا

پیا سے حسین کب ہیں یہ گو یا ہوا فرأت
خود میرا قطرہ قطرہ ہے پیا ساحسین کا

اسوہ رسول کا ہے، شر یعت رسول کی
سیرت کے آ ئینے میں ہے جلوہ حسین کا

نفرت یز ید یت کا ہے ا ک نا م د و سرا
نصرت کے سا تھ ہوتا ہے چرچہ حسین کا

نا نا سے مومنوں کی شفاعت کرا ئیں گے
جاری ر ہے گا حشر میں سکّہ حسین کا

شاخوں میں جتنےپھول تھےسب ہوگئےجدا
قا ئم سروں پہ پھر بھی ہے سا یہ حسین کا

لپٹی ہو ئی رِ د ا ئے معطر سے عظمتیں
پڑھتے ہو ئے و ہ رتبے قصید ہ حسین کا

جیسے کلا مِ ر ب ہو ز با نِِ رسو ل پر
با تیں نبی کی ا و ر ہے لہجہ حسین کا

سجد ے نثا ر لا کھو ں تقد س مآ ب کے
افضل ہےسارے سجدوں میں سجدہ حسین کا

گھو ڑ ے پہ جب سوار ہو ا فاطمہ کا لا ل
حو ر یں ا تا ر نے لگیں صد قہ حسین کا

صحرا میں بین کر تی ر ہی سرخ سرخ دھوپ
ا و ر چو متی تھیں کر نیں عما مہ حسین کا

اک مورچہ پہ دشت کے خوش ہے یز ید یت
لیکن ہر ا یک د ل پہ ہے قبضہ حسین کا

مو من ہے، مر دِ حق ہے ، خد ا کو عز یز ہے
ا پنا لیا ہے جس نے طر یقہ حسین کا

لا ز م ہے نسلِ نّو کو ا سے منتقل کر یں
قسمت سے جو ملا ہمیں ورثہ حسین کا

مسر و ر ہے یہ آ ئینہ تطہر بھی گو ا ہ
قر آ ن کے لبو ں پہ ہے نغمہ حسین کا

ازقلم: انس مسرور انصاری
قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن (رجسٹرڈ)
رابطہ/9453347784*


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے