راہل گاندھی کا مسلمانوں کے ساتھ دوہرا رویہ

راہل گاندھی کئے دنوں سے ایک نعرہ لگا رہے ہیں کہ ہم نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھول رہے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو ان کی محبت کی دکان میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ہے
14 اگست کو راہل گاندھی ایک سبزی فروش کے منڈی کے پاس گئے وہ وہاں نہ ملا تو اسے اپنے گھر بلایا اور اپنے کھانے میں شریک کیا محض اس لئے کہ سبزی فروش ہندو تھا اور اس نے مہنگائ پر دو قطرے آنسو بہائے تھے اور راہل گاندھی نے اپنے سوشل اکاونٹس پر اس کا اشتراک بھی کیا حلانکہ اسی مہینہ میں مسلمانوں پر کئے مظالم ڈھائے گئے
حافظ سعد کو فرقہ پرستوں نے بے دردی سے شہید کردیا راہل گاندھی نے اک لفظ نہ بولا اور نہ انکے اہل خانہ کے غم میں شریک ہوئے اور تین مسلمانو کو ٹرین میں گولیوں کا نشانہ بناگیا راہل گاندھی چپ رہے نہ انکے گھر والوں سے ملاقات کی اور نہ قاتل کے خلاف کچھ کہا
اور اسی طرح میوات میں مسلمانو کے ساڑے بارہ سو کے قریب مکانات ودکانوں کو مسمار کردیا گیا اور وہ لاچار مسلمان آسمان کو اپنا چھت بنالئے راہل گاندھی وہاں جانا تو دور اس پر اک لفظ تک نہ بولا اور میوات ہی کے دوسو کے قریب افراد کو بلا وجہ گرفتار کرلیا گیا منجملہ ایسے کئے وقعات ہیں لیکن راہل گاندھی نے ان سب پر کچھ بھی نہیں کہا کیوں کہ یہ مسلمان ہے اور وہ ہندو اس سے مبینہ طور راہل گاندھی کا مسلمانوں کے ساتھ دوہرا رویہ سمجھ میں آتاہے اور ان کا نعرہ. نفرت کے بازار میں محبت کی. جھوٹا ثابت ہو رہا ہے۔

ازقلم: محمد رضوان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے