حرمین شریفین کی زیارت کسی نعمت سے کم نہیں: محمد احمد شہنشاہ

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری) حاجی وارث علی مسولیم ٹرسٹ ، ضلع یوجنا سمتی اور ضلع پنچایت رکن محمد احمد شہنشاہ کے سفرِ عمرہ کی روانگی کے موقع پر ان کے آبائی وطن میلہ رائے گنج میں ان کے ملنے والوں کو تانتا گلا رہا۔ لوگ ان سے مل کر حرمین شریفین کے مقدس مقامات پر اپنے لئے اور ملک میں امن اور شانتی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعاؤں کی درخواست کی۔ بعضوں کو روضۂ اقدس پر حاضری کے وقت سلام عرض کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس موقع پر احمد شہنشاہ نے نمائندے کو بتایا کہ سوئے حرم جانا میرے لئے بڑی خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ بیت اللہ میں ہم جیسے خاکساروں کی حاضری کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ جس جگہ پر پہونچنے کی ہر مومن کی تمنا رہتی ہے۔ زیارتِ حرمین شریفین کی خواہش ہر مؤمن کے دل میں انگڑائی لیتی رہتی ہے۔ اگر وسائل میسر ہوں اور اللہ تعالیٰ بلائے تو اس خواہش کی تکمیل بآسانی ہوجاتی ہے۔ کبھی کبھی وسائل بھی نہ ہوں تو بھی اللہ وہاں پہونچا دیتا ہے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ بندہ بآسانی حرمین شریفین تک پہونچ جاتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو جب آسمان و زمین کے خزانے کی ملکیت اسی اللہ کی ہے۔ اور اگر وسائل کی موجودگی کے با وجود وہاں کی زیارت میسر نہ ہو تو انسان قلق و افسوس کے ساتھ صبر کرکے رہ جاتا ہے۔ پھر جو خوش قسمت حرمین شریفین تک پہونچ جاتا ہے وہ پوری زندگی وہاں کے احوال وکوائف کو بیان کرتا رہتا ہے۔ دو بغیر سلے کپڑے پہن کر خانۂ کعبہ کے پاس پوری دنیا سے سمٹ کر پروانوں کی طرح جمع ہونا ، اس کے ارد گرد چکر لگانا ، اور اس کے قرب و جوار میں واقع وادیوں میں دیوانہ وار دوڑنا یہ ایسی عبادت ہے جس کی تمنا کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں پوشیدہ ہے۔ درحقیقت یہ دیوانگی نہیں بلکہ اپنے پالن ہار خدا کے ساتھ اپنی دیوانگی کے اظہار کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ جس انداز میں ہمیں اپنے در پر بلانا چاہے ہم بصد شوق ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کے ترانے گنگناتے ہوئے حاضر ہو جاتے ہیں۔ وہاں پر ہر مسلمان کی صرف ایک یہی آرزو اور دعا رہتی رہتی ہے کہ ہمارا خدا ہم سے راضی ہو جائے۔ روانگی سے قبل انوپ گنج کے ایکسپورٹر احمددین انصاری نے ان کو رومال ہدیہ کرکے دعاؤں کی درخواست کی۔
اس موقع پر محمد فیصل ، محمد عارف ، مولانا فرمان مظاہری ، حارث شوکت ، راجیش جائیسوال ، محمد ادیب ، حافظ محمدالیاس ، احمد دین انوپ گنج ، نفیس انصاری (صلاح کار) ، محمد واثق زرُّو ، محمدحنظلہ ، حذیفہ شکیل ، زین العابدین اور عبدالفتاح پُتنّی کی موجودگی قابل ذکر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے