حاجی گلزار اعظمی: ایک اسم ایک طلسم

جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی صاحب اب نہیں رہے ،اناللہ وانا الیہ راجعون ۔ان کی نماز جنازہ پڑھ دی گئی ،دفنا بھی دیئے گئے۔وہ پچھلے ساٹھ کی دہائی سے اس تنظیم سے وابستہ ہوئے ،دھیرے دھیرے ان کے روشن کارنامے سامنے آتے رہے اور وہ ایک اسم ،ایک طلسم وراز،بلکہ خیالات کو زمین پر حقیقتاً اتارنے کے فکر وفن سے واقف کار بن کر دنیا سے رخصت ہوگئے ۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سودا ہے سو برس کا پل کی خبر نہیں

انسانوں کی اس بھیڑ میں ایسے لوگ تو یقیناً ہوں گے ،مگر بظاہر آنکھیں مسقبل قریب میں ان صفات کا حامل شخص ڈھونڈنے سے قاصر نظر آرہی ہیں ۔وہ مخلص تھے ، سن دو ہزارکے بعد پہلی دہائی کے اوائل میں جب ملک کے اندر دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جانے لگا تو موصوف کے اندر کا یہ جوہر کھل کر سامنے آیا ، بہت سے گم نام اسیروں کے لئے وہ آخری سہارا سمجھے جانے لگے اور وہ ایسوں کا سہارا بنتے بھی تھے۔مگر اب تو دعا یہی ہے کہ

الہی یہ بھی چھین نہ لے
اک تیری یاد کا سہارا ہے

اعظمی صاحب کے انتقال سے ہر طبقے میں عمومی سطح پر ہر جگہ افسردگی دیکھی جارہی ہے ،ایسا کم لوگوں کے نصیبے میں آیا ہے،لوگ جاتے ہیں ،مگر شفق چھوڑ جاتے ہیں ،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شفق بھی ساتھ لے گئے ،ملت کی جو خدمت یہ کررہے تھے ،اس کے لئے صرف پیسے کافی نہیں ،پیسوں سے زیادہ حوصلہ ،حکمت عملی ،خلوص ،بے چینی اور اس سے بھی زیادہ آہ سحر گاہی کی ضرورت پڑتی ہے ،گلزار صاحب ان سب صفات میں کہہ لیجئے کہ منفرد تھے،اگر پیسے نہیں ہیں توکچھ کام حوصلوں اور تدبیروں سے بھی ہوجایا کرتے ہیں ، اعظمی صاحب کو بارہا ان مواقع سے گذرنا پڑا،مگر کبھی ان کے پائے استقامت میں رعشا پیدا نہیں ہوا اور دل کی بات بتاؤں کہ جو ذمہ داریوں کو لے کر آگے بڑھتا ہے ،اس کے ساتھ جو حالات آتے ہیں اور ان مشکل حالات میں اصولوں پر زندگی جینے کے لئے جگر چاہئے ،اعظمی صاحب نے جن مخالف ماحول میں اس عظیم خدمت کو اپنی منزل متعین کیا ،وہ بتانے کی ضرورت نہیں ،مگر گلزار صاحب نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی قدم پیچھے نہیں ہٹایا،بہت سے مرحلوں میں صورت حال یہ بھی ہوا کرتی ہے کہ ” جس پر تکیہ تھا ،وہی پتے ہوا دینے لگے” ۔ایسے جیالوں کی ثابت قدمی اور خدمات اور گذرے اوقات کی تلخ و شیریں کی تشریح کے لئے الفاظ کوتاہ واقع ہوتے ہیں،حقیقی ترجمانی کبھی ہوہی نہیں سکتی ۔گلزار صاحب جس شعبہ کے ذمہ دار تھے ،اس شعبہ کو خادم ہی چاہئے تھا جو اپنا کام سمجھ کر ملت کے لٹے پٹے بے زبانوں کی زبان بن کر خدمت کرسکیں ،گلزار صاحب مدتوں یاد رکھے جائیں گے بالیقین انہوں نے بحیثیت محض خادمانہ خدمت کی ،ان کے روشن کارنامے خالق ومخلوق دوں نوں کی بارگاہ میں مقبولیت کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہیں گے۔ان شاء اللہ ۔

گلزار اعظمی صاحب جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ تھے ،مگر انہوں نے اپنی جد وجہد سے صرف مہاراشٹر نہیں ،بلکہ جمعیۃ علماء ہند کے قد آور عزت وافتخار کو بڑھانے کا کام کیا ،انہوں نے ضلعی جمعیۃ کے زیر اثر جو کارنامے انجام دیئے وہ دیگر اضلاع ہی نہیں بلکہ مرکزی جمعیۃ علماء ہند کے لئے بھی آئینہ ہے ،ملک بھر میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جو عزت ومنزلت ہے، کہہ لیجئے کہ گلزار اعظمی صاحب اس کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں ۔ان کی فعالیت ،فکر وشعور اور کام وکردار کے نہج وسمت سے جمعیۃ علماء ہند کے ملک بھر میں پھیلے تمام شاخوں کو روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے ،وہ آخری پڑاؤ میں گرچہ جسمانی طور پر ناتواں تھے،مگر عزم وحوصلہ کے اعتبار سے بڑے توانا اور فعال تھے ،ان کی فکرمندی ،شعور مندی اور قوت فیصلہ سے ملت کو نفع پہنچ رہا تھا وہ "خیرالناس من ینفع الناس” کی حقیقی راہ پر گامزن تھے ،انسانی وسماجی خدمت ، وہ عبادت سمجھ کرکر رہے تھے ،ممتاز خوبیوں اور روشن کارناموں نے انہیں اسم با مسمی اور اور اسیروں کے لئے طلسماتی دنیا کا انمول ہیرا بنادیا تھا ۔ان کی آہ سحر گاہی ،خاموش نیکی اور بے قصور قیدیوں کی رہائی ان شاء اللہ ان کے حق میں رفع درجات کا سبب ہو گی ۔

کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کےچلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

ازقلم: عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ بیگوسرائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے