مولانا معراج احمد حلم و بردباری کے پیکر تھے:مولانا ارشدقاسمی

  • سابق صدرالمدرسین مرحوم مولانا معراج احمد کی یاد میں جلسہ منعقد

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)گزشتہ روز مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی میں وہاں کے سابق صدرالمدرسین مرحوم مولانا معراج احمد کی یاد میں ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا محمدارشد قاسمی نے کہا کہ اس مدرسہ کے معمار اعظم مولانا عبدالغنی نوراللہ مرقدہ ہیں۔ مولانا عبدالغنی مرحوم پہلے مظاہرعلوم سہارنپور پھر کچھ مہینے اعظم گڑھ اور امدادالعلوم زیدپور میں تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعد اپنے آبائی وطن رسولی تشریف لے آئے۔ جب دین کی خدمات انجام دینے کے لئے اپنے آبائی وطن رسولی تشریف لائے تو ان کے پیر و مرشد مولانا اشرف علی تھانوی نے ان سے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ وہاں شرک و بدعات کو ختم کرکے رسَولی کو رسُولی بنائے۔ رسولی آکرمولانا عبدالغنی نے زمین خریدی اور اس پر ایک مدرسے کی بنیاد ڈالی جس کا نام جامعہ مدینۃ العلوم رکھا۔ اس جگہ پر مولانا عبدالغنی نے بہت محنت کی ، خوب پسینہ بہایا ، تب جاکر یہ مدرسہ ایک ادارے کی شکل میں دنیا کے سامنے ابھرکر آیا۔ ہندوستان کا کوئی بڑا بزرگ باقی نہیں ہے جو یہاں تشریف نہ لایا ہو۔ ان کے انتقال کے بعد مولانا معراج احمد جو 1975 میں فارغ ہوچکے تھے۔ ان کی یہاں تقرری ہوئی۔ اور جب سابق پرنسپل مولانا اشفاق کا 1988 میں انتقال ہوا تو سب نے مل کر مولانا معراج احمد کو اس مدرسہ کا صدرالمدرسین طے کردیا۔ آج اس مدرسہ کی جتنی بلڈنگ دکھائی دے رہی ہے وہ زیادہ تر انہیں کی بنوائی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ جامعۃ الصالحات کے بانی مولانا معراج احمد مدینی ہیں۔ مولانا کے پاس جب زمین وقف کرنے کے لئے رسولی کے کچھ لوگ آئے تو مولانا نے مجھے حکم دیا کہ آپ کھڑے ہوکر سبھی کے سامنے یہ اعلان کرئیے کہ ہم اس زمین کو دین کی خدمت کے لئے قبول کرتے ہیں۔ اور پھر اسی زمین پر ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی۔ جس میں پردے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا عمدہ اور بہترین نظام قائم ہے۔ جس کا نام جامعۃ الصالحات ہے۔ یہاں دور دراز کی بچیوں کے آنے جانے کے لئے دو گاڑیوں کا بھی بندو بست ہے۔ آج مدرسہ جامعۃ الصالحات حضرت مولانا معراج احمد کے لئے بہترین صدقۂ جاریہ بنا ہوا ہے۔ پچھلے سال دس بچیوں کی فراغت ہوئی تھی۔ اور امسال ان شاءاللہ سولہ بچیاں فارغ التحصیل ہونے والی ہیں۔ آج ان کے بیٹے حافظ ایاز احمدمدینی اس مدرسہ کو بہترین انداز میں چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا معراج احمد سیاست سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام تک ایک سیاسی پارٹی سے جڑے رہے۔ بارہ بنکی ضلع میں ایک وقت ایسا آیا کہ مولانا معراج احمد سیاسی اعتبار سے بہت طاقتور ہوگئے تھے۔ بڑے بڑے سیاسی رہنما ان سے مدد ، رہنمائی اور مشورے لیا کرتے تھے۔
لیکن مولانا معراج احمد سیاسی طاقتور ہونے کے باوجود اپنے کسی دشمن سے کبھی بدلہ نہیں لیا۔ آج ہم سبھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما دیں گے۔ اور ان کی کوتاہیوں کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کریں گے۔ جو لوگ مولانا کے قریب رہے ہیں وہ تو ان کے مزاج اور عادات سے بہت اچھی طرح سے واقف تھے۔ اور جو لوگ مولانا سے دور رہے ہیں وہ لوگ ان کو صحیح پہچان نہیں سکے تھے۔ اور وہی لوگ جگہ جگہ ان کی برائیاں کیا کرتے تھے۔ مولانا انتہائی سادہ مزاج تھے۔ تحمل اور بردباری ، عفو و درگزر ، مولانا کے نمایاں وصف تھے۔ مولانا کی ذہانت و فطانت کمال کی تھی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا وہ بیمار ہوگئے اور 21 اگست 2015 کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ مولانا عبدالغنی کے علاوہ مدرسہ کے دیگر قدیم مدرسین جو انتقال کرچکے ہیں ان سب کے لئے ایصال ثواب کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے