نشوں کی لت گھروں اور معاشرہ کو تباہ کر رہی ہے

نوجوان نسل کو بربادی سے بچائیں: مفتی ثاقب قاسمی

مالیر کوٹلہ، پنجاب 22/ اگست (پریس ریلیز)
نئی نسل کسی بھی ملک کی معاشی، تعلیمی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبودی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کہتے ہیں کہ جوانی وہ عرصہ حیات ہے جس میں انسان کے قویٰ مضبوط اور حوصلے بلند ہوتے ہیں، ایک باہمت جوان پہاڑوں سے ٹکرانے، طوفانوں کا رخ موڑنے کا عزم رکھتا ہے، مگر افسوس صد افسوس کہ آج ہمارے نوجوان، نئی نسل کے افراد محنت وجفاکشی سے کوسوں دور منشیات کے خوف ناک جال میں جکڑے ہوئے ہیں، انھیں اپنے مستقبل کی کوئی فکر نہیں، وہ اپنی متاع حیات سے بے پرواہ ہیں، نشہ اور منشیات میں ملوث ہوکر ہلاکت و بربادی کی طرف جارہے ہیں، مذکورہ خیالات کا اظہار اپنے ایک بیان میں حضرت مولانا مفتی محمد ثاقب قاسمی مہتمم جامعہ اسلامیہ عزیزیہ محلہ باغ والا مالیر کوٹلہ نے شہر مالیر کوٹلہ سمیت پورے صوبہ پنجاب میں روزانہ نشوں اور منشیات کی وجہ سے نوجوان نسل کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اب تو سگریٹ وشراب نوشی اور ڈرگس کی وجہ مجبوری یا ڈپریشن نہیں ہے، بل کہ ہم عصروں اور دوستوں کو دیکھ کر دل میں جذبہ اور شوق پیدا ہوتا ہے، دوسروں کی دیکھا دیکھی ایک دو بارنشہ استعمال کرنے والا فرد کچھ عرصے بعد یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اسے نشہ ہر حال میں استعمال کرنا ہے پھر وہ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس کی تلاش، خرید اور استعمال میں صرف کردیتا ہے اور چاہ کر بھی اس عمل کو روک نہیں سکتا چاہے اس کی زندگی کے اہم معاملات خاندان، اسکول، کام وغیرہ بھی اس کی وجہ سے متاثر ہورہے ہوں۔
یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ نشہ صرف نشہ کرنے والے کو ہی نقصان پہنچاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نشے کے اثرات نہ صرف خاندان بلکہ ارد گرد کے لوگوں اور پورے معاشرے پر بھی اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں جتنے کہ ایک نشہ کرنے والے پر ہوتے ہیں،

نشہ نہ صرف فرد کی زندگی پر تباہ کن اثرات ڈالتا ہے بلکہ نشہ کرنے والے شخص کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر اس کی فیملی ہوتی ہے، والدین عمومی طور پر اس بیماری کی وجہ اپنی طرف سے بچوں کی تربیت میں کمی سمجھتے ہیں اور احساس جرم کا شکار ہو جاتے ہیں، بے انتہا شراب نوشی اور منشیات کی لت نے صلاحیتوں کو ضائع کردیا ہے، وہیں دولت ایک ایسی اشیاء کے حصول میں خرچ کی جارہی ہے جس سے کچھ حاصل ہونے کی بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے، منشیات کی لت نے صحت عامہ کے مسائل میں اضافہ کیا ہے، سماجی برائیاں عام ہورہی ہیں، خاندانی نظام درہم برہم ہو رہے ہیں، عفت و عصمت تار تار ہو رہی ہے، ساتھ ہی منشیات کی لت نے نوجوانوں کو بے روزگاری میں بھی مبتلا کیا ہے، غنڈہ گردی میں اضافہ ہوا ہے وہیں نظم و نسق کمزور ہوا ہے. اس پورے پس منظر میں شراب نوشی و منشیات کا خاتمہ سب سے بڑا ایشو ہے،
انہوں نے مزید فرمایا کہ اسلام میں ہر طرح کا نشہ حرام ہے، اسکے دنیاوی اور دینی دونوں طرح کے نقصانات ہیں، ہر تنظیم جو ملک وملت کا بھلا چاہتی ہے انکو چاہیئے کہ نشہ کے خلاف ممکنہ مہم چلائے، اس سے نوجوان نسل برائی اور گناہ سے بچ جائے گی اور معاشرہ بھی گندگی سے پاک وصاف ہوجائے گا، نشہ کے خاتمہ کے لئے سول اور پولس انتظامیہ، شہر کی انتظامیہ اور عوام کے تعاون سے ایک کامیاب مہم چلائی جائے اور نشہ کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے