ایک شور ہے فضا میں آئی ہے صبحِ نو

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا اور اسے زمین کا خلیفہ مقرر فرمایا۔ انسان ہمیشہ سے امن و اخوت اور عدل و محبت کا متمنی رہا ہے۔ مگر چند شدت پسند اور فتنہ پرور لوگوں کی لگائی نفرت کی آگ ایسی پھیل چکی ہے جس نے ساری انسانیت کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ ہندوستان اپنے وسیع و عریض دامن میں کثیر المذہب اور رنگا رنگ تہذیب کو سمیٹے ہوئے ہے۔
بقولِ شاعر

سر زمین ہند پر اقوامِ عالم کے فراق
قافلے بنتے گئے ہندوستان بنتا گیا

لیکن کچھ دہائیوں میں اس چمن سے محبت، بھائی چارگی، امن و اتحاد جیسے پھول ماند پڑگئے ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اب اس چمن میں محبت کی نہیں نفرت کی سیاست نے جنم لیا ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست کے مد نظر ہندوستانی اقوام کو مذاہب اور ذات پات میں تقسیم کیا جارہا ہے۔
آج آزاد ہندوستان اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ آج مسلمان اور دلت ظلم و ستم کا شکار ہیں ۔ہندوستان کا آئین،بھارت کی جمہوریت، بھارت کا مستقبل، وہ آئین جسے جنگ آزادی کے جیالوں نے اپنے خون سے سینچا تھا۔ اور ایک’’سیکولر جمہوری ریپبلک‘‘ کی بنیار کھی تھی۔ آج اسی ریپبلک کی جڑوں میں نفرت کا تیزاب انڈیلا جارہا ہے۔ اس سیکولر چمن میں یکساں سول کوڈ جیسے بیج کی نمو کرکے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ یونیفارم سول کوڈ‘ قوانین کا ایک مجموعہ ہے جو شادی، وراثت اور گود لینے جیسے معاملات سے نمٹنے والے مختلف مذاہب کے ذاتی قوانین کا متبادل ہوگا
"مودی سرکار کا کہنا ہے کہ ایک ملک میں ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔ ایک گھر میں الگ الگ قانون ہو تو گھر نہیں چلتا تو ایک ملک میں الگ الگ قانون ہو تو ملک کیسے چلے گا۔” مودی سرکار نے سوال کیا کہ ملک دو قوانین پر کیسے چل سکتا ہے۔ وہ مسلم پرسنل لاء جیسے قوانین کا حوالہ دے رہے تھے۔ لیکن انھیں یہ واضح کر دیں کہ ہندوستانی قوانین میں مسلمانوں کے علاوہ بھی دیگر مذاہب اور قبائل کے رسم و رواج کا گہوارہ ہے۔
قارئین کرام! ہمارا ہندوستان ایک تکثیری ملک ہے۔ جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ جمہوری قانون کے مطابق آرٹیکل 25سے 29 "لوگوں کو یکساں طور پر مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرنے اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی پوری آزادی ہے اور تہذیبی اقلیت کو اپنی تہذیب کو برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے.” اس طرح دفعہ 44 کے تحت اس بات کی اجازت ہے کہ اگر عوام‌ کا ہر طبقہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے راضی ہو تو اسے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس دفعہ پر 25 سے 29 آرٹیکل کی زد پڑتی ہے۔
آئیے یاد دہانی کرتے چلیں کہ جب ہندوستان آزاد ہوا، اور ملک کا نیا دستور بنا تو اس میں بھی ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ کو قانونی حیثیت دی گئی تھی۔ ساتھ ہی قانون سازوں نے صاف طورپر دستور ساز اسمبلی میں اعلان کیا کہ ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ لیکن اب وہیں اس ملک میں مسلم پرسنل لاء کو ختم کرکے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کی بات کی جاتی ہے۔ ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ یا ’’یکساں شہری قانون‘‘ سے مراد وہ قوانین ہوا کرتے ہیں جو کسی بھی مخصوص خطہ زمین پر آباد لوگوں کی سماجی اور عائلی زندگی کے لیے بنائے گئے ہوں، ان قوانین کے تحت ہر فرد کی شخصی اور خاندانی زندگی کے معاملات جیسے شادی بیاہ، طلاق اور وراثت کا قانون وغیرہ ان کے مذہب اور رسم و رواج کے مطابق حل نہیں کئے جاتے بلکہ ایک ہی قانون یعنی یونیفارم سول کوڈ کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اور اسی قانون کے تحت نکاح اور طلاق جیسے امور بھی انجام پاتے ہیں، یعنی سول کوڈ کے ذیل میں وہ سارے امور آجاتے ہیں جن کا تعلق پرسنل لاء سے ہوتا ہے۔
مسلم پرسنل لاء کے سلسلے میں تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو آزادی سے قبل بھی اس پر بحث و مباحثہ ہوچکا ہے۔ 1963 میں حکومت نے ایک کمیشن مقرر کرنا چاہا تھا، جس کا مقصد مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی پر غور و فکر اور اس کے لیے عملی راہوں کی تلاش تھا،جس پر مسلمانوں کی طرف سے مخالفت کے نتیجہ میں یہ کمیشن مقرر نہیں کیا گیا۔ اور وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں یہ کہہ کر بحث ختم کردی کہ حکومت اس وقت (مسلم پرسنل لاء) میں کسی بھی قسم‌ کے تبدیلی کرنا مناسب نہیں سمجھتی۔ یہ جملے سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ ختم نہیں ہوا، نہ پالیسی میں فرق آیا، حالات سازگار نہیں ہیں، اس لیے اس پالیسی پر عمل نہیں ہوگا۔ اسی طرح 1972 میں مرکزی وزیر قانون مسٹر گوکھلے نے پھر اس پالیسی کا اعادہ کیا انھوں نے Adoption of Children Bill 1972 کو پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں کہا۔ ’’یہ مسودہ قانون ’یونیفارم سول کوڈ‘ کی طرف ایک مضبوط قدم ہے‘‘۔ غرض یہ کہ حکومت مسلسل ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے نفاذ کی خواہش مند رہی ہے۔ کچھ لوگ انتہاپسندوں کی شکل میں قوت کے سہارے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کے نفاذ کا مشورہ دیتے ہیں، کچھ لوگ اصلاح کے نام پر اس کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ منزل کے اس اتحاد و بھائی چارگی کی وجہ یہ ہے کہ اس ذہن کے لوگ مغربی خیالات کے مالک ہے، ان کی تعلیم و تربیت مغربی طرز کی ہے۔ انھوں نے مغربی قوانین کو پڑھا اور سمجھا ہے، اس لیے ہندوستانی دستور کے فریم میں ان کا خیال ہے کہ اسلامی شریعت فرد کا ایک پرائیوٹ معاملہ تو ہوسکتا ہے قانون نہیں بن سکتا ہے۔

یونیفارم سول کوڈ سے مسلمانوں کی اختلاف کی اہم وجہ کہ یہ قانون مذہبی تعلیمات کے ٹکراؤ پر مبنی ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد عائلی اور شخصی زندگی میں قرآن‌ و سنت کے احکامات سے انکار کرنا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں زندگی سے حلال و حرام کا وجود ختم ہوجائے گا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے کچھ تہذیبی امتیازات رسم و رواج اور جغرافیائی حالات پر مبنی ہوتے ہیں۔مسلمانوں کے بھی تہذیبی امتیازات ہیں جن کی بنیاد مذہبی تعلیمات پر ہے۔
جیسے یو سی سی کا باریکی بینی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ مسلم خواتین کے حق میں قابل قبول نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر مرد سے طلاق کا قانون چھین لیا جائے تو عورت پر ظلم کرنیوالا شوہر جو بچوں تک کی کفالت کا اہل نہ ہو تو عورت کو اس ظلم کو سہنا ہوگا جو اس آرٹیکل کی وجہ سے ہوگا۔ قارئین کرام کیا عورت کے حق میں ایک شرابی جواری انسان جو اس پر ظلم کرتا ہے کیا عورت کا اس طرح کے ظلم سہنا صحیح ہوگا؟؟؟ مانتے ہیکہ طلاق ایک بڑا فعل ہے لیکن عورت کے لئے ایک راستہ کھلا رہتا ہے کہ وہ طلاق کے ذریعے ظلم سے چھٹکارا پا سکتی ہے۔

بیویوں کی تعداد یہ بھی ایک اہم نقطہ ہے کہ جسے اولاد نہ ہو یا جس کی بیوی مستقل کسی بیماری میں مبتلا ہو تو اسے دوسری شادی کی اجازت ہونی چاہیے یو سی سیاسی پر بھی ضرب لگاتا ہے۔ہماری حکومت تعداد ازدواج پر پابندی کی قائل ہے لیو ان ریلیشن شیپ کی پوری اجازت دیتی ہیں اس کا مطلب تو یہی ہوگیا کہ گڑ کھائیے اور گل گلوں سے پرہیز کیجئے۔ جبکہ لیں ان ریلیشن شیپ موت کے مترادف ہے ہم دیکھتے آرہے ہے کہ کس طرح کئ لڑکیاں اس رشتے کی بدولت موت کے گھاٹ اتر رہی ہیں۔
بقولِ شاعر

باتیں ہزار سچ ہوں مگر پھر بھی احتیاط
آہستہ گفتگو کہ حالات خراب ہیں

اس کے علاوہ یو سی سی کے مطابق یہ قانون عورتوں کو مرد کے برابر حصہ دلانے کے مترادف ہے۔ یوں تو عورت کا مرد کے برابر حصہ یہ نعرہ کہنے میں تو خوش کن ہے۔ لیکن اس کی جڑ پر پہچنے پر علم ہوتا ہے کہ مرد کے فرائض میں ماں باپ بھی بچے، بھائی بہن کی ذمہ داریاں ہیں۔ رہائش، کھانا، کپڑے، تعلیم علاج و معالج وغیر ہ اور یہ ایک بہت بڑی ذمہ داریاں ہے۔ جبکہ عورت پر مال کمانا اور خرچ کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
حکومت کو خواتین کی بھلائی کا اتناہی خیال ہے تو عورتیں سماج میں کئ مسائل سے دو چار ہیں۔ اس کو حل کیجیے آئے دن زنا بالجبر کی واردات ہوتی ہے، جہیز ک نام پر عورتوں کو زندہ جلایا جاتا ہے۔ بیواؤں کی کسمپرسی کرنے والا کوئی نہیں ان تمام پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔ لیکن 2024 کے انتخابی ہیرو بننے کے لیے حکومت پولرائزیشن کا انتخاب کر رہی ہے۔
سیکولر ریاست کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کی کونے کونے سے مذہبی نقوش مٹا دئیے جاۓ بلکہ سیکولرزم کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا وہ کسی مذہب کی طرف دار نہیں ہوگی کسی بھی مذاہب کے درمیان امتیاز نہیں برتا جائے گا ہر فرد کو مذہب کے قبول کرنے کی آزادی ہوگی۔ اسی کے تحت دستور ہند کے قانون کی تشکیل دی گئی ہے۔ ملک کے لیے اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی بڑی اہم ضرورت ہے اور ہندوستان میں آباد مختلف فرقوں کے درمیان دوستی کے جذبہ کو فروغ دینا بہترین ملکی خدمت ہے، لیکن ’’قومی یک جہتی‘‘ کو سیاسی استحصال کے لیے استعمال کرنا بدترین قسم کی وطن دشمنی ہے۔
قانون سازی ایسی ہونی چاہیے کہ اس ملک میں آباد تمام مذہبی، تہذیبی اور لسانی اکائی اپنی انفرادیت کو محفوظ سمجھے اور اس قانون کے دائرہ میں رہ کر وہ ملک کے استحکام اور ترقی میں پرسکون، باعمل شہری کی حیثیت سے حصہ لے سکے۔لیکن اگر مختلف تہذیبی، لسانی یا مذہبی اکائیاں کسی قانون کے ذریعہ اپنی انفرادیت کو مٹتا ہوا محسوس کریں گی تو ان میں رد عمل ہوگا۔ جس میں یونیفارم سول کوڈ، قومی یک جہتی کا ذریعہ نہیں بن سکتا، قومی انتشار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ قانون کے رکھوالوں کا کہنا ہے کہ دستورِ ہند میں یہ تبدیلی مثبت ثابت ہوگی مگر سچائی کچھ یوں ہے

ایک شور ہے فضا میں آئی ہے صبح نو
کہتا ہے دل مگر یہ ہماری سحر نہیں

ازقلم: سمیہ بنت عامر خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے