موجودہ ای ڈی چیف کے لئے نیا عہدہ

ای ڈی چیف سنجے مشرا سپریم کورٹ کے حکم نامہ کے مطابق 15 ستمبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جانا بے لیکن خبر یہ آ رہی ہے کہ مودی سرکار سنجے مشرا کے لئے ایک نیا عہدہ جو ای ڈی چیف سے بھی بڑا ہوگا منظور کرنے جا رہی ہے ۔حالانکہ اس بابت ایک خبر ایک انگریزی اخبار نے شائع کی ہے لیکن اس خبر کی تصدیق یا تردید مودی سرکار نے اب تک نہیں کی ہے ۔اس خبر میں سنجے مشرا کے لئے عہدہ جو منظور کیا جا رہا ہے وہ ای ڈی اور سی بی آئی کے جوائنٹ چیف کی شکل میں ہوگا۔ای ڈی اور سی بی آئی دو الگ الگ وزرات کے تحت آتے ہیں ۔ای ڈی وزیر خزانہ کے ماتحت آتے ہیں جبکہ سی بی آئی وزیر داخلہ کے ماتحت آتے ہیں ۔
گزشتہ نو سال میں وزیر اعظم مودی نے اپنے سیاسی مخالفوں سے مقابلہ سیاست سے کم ای ڈی ،سی بی آئی اور انکم ٹیکس کو ذریعہ بناکر زیادہ کیا ہے ۔مودی عہد میں ای ڈی نے ساڑھے تین ہزار مقدمہ رجسٹرڈ کیئے ہیں جن میں پچانوے فیصدی مقدمے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف ہوئے ہیں ۔ساڑھے تین ہزار مقدمے میں صرف تئیس معاملے میں سزا ہو پائی ہے۔اسکے باوجود سنجے مشرا کو بطور ای ڈی ہیڈ بنائے رکھنے پر موجودہ مرکزی سرکار مصر ہے اور اُنھیں تین بار سروس ایکسٹینشن بھی دیا جا چکا ہے۔سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے 31 جولائی کو ہی سنجے مشرا کو اپنا عہدہ خالی کرنے کہہ دیا تھا لیکن ریویو پیٹیشن میں سرکار کی مِنّت سماجت پر سپریم کورٹ نے شنوائی کی اور 15 ستمبر تک عہدہ خالی کر دینے کا وقت بڑھا دیا ہے ۔لیکن مرکزی سرکار کسی بھی حال میں سنجے مشرا کو ای ڈی میں قانونی حیثیت کے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔بھارت کی سب سے بڑی عدالت نے سنجے مشرا کو گھر کا راستہ دکھا دیا ہےلیکن مودی سرکار بہ ضد ہے کہ وہ آرڈیننس لا کر سنجے مشرا کو ای ڈی اور سی بی آئی کا جوائنٹ چیف بنا دیں گے ایسی خبر ہے۔مطلب ای ڈی اور سی بی آئی چیف کو سنجے مشرا کے حکم کو ماننا پڑے گا ۔
مودی سرکار کا کام کرنے کا یہ طریقہ کوئی نیا نہیں ہے ۔گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حثیت سے سرکار پر جو ادارے چیک اینڈ بیلنس کا کام کرتے تھے اُن سبھی عہدے کے چیف اُنکی مرضی کے ہوتے تھے ۔نریندر مودی چاہے بہ حثیت گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے ہوں یا ملک کے وزیر اعظم اُنہیں يس مین کی ضرورت رہی ہے ۔گجرات میں جن افسروں نے اُنکے لیے کام کیا یا انکا کام کرتے تکلیف اٹھائی اُنہیں مودی جی نے خوب نوازا بھی ہے ۔
سنجے مشرا سے پہلے اجیت ڈھوبال کو دفاعی مشیر بنایا گیا ہے جو بالکل ایک نیا عہدہ تھا۔اجیت دھوبال مودی جی کے کافی قریبی سمجھے جاتے ہیں ۔اسی طرح فوج میں تینوں ونگ کے ایک جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا نیا عہدہ منظور کیا گیا تھا ۔
سنجے مشرا کو 2024 کے لوک سبھا چناؤ تک جانچ ایجنسیوں کی قانونی حیثیت میں برقرار رکھنا مانا جاتا ہے ۔تاکہ سرکار کے سیاسی ٹاسک کو سنجے مشرا کے ذریعے آسانی سے پورا کیا جا سکے ۔
سنجے مشرا سے پہلے مودی سرکار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی تقرری میں سپریم کورٹ کے حکم نامہ کے خلاف جا کر پارلیمنٹ میں قانون بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمشنر کی تقرری وزیر اعظم ،حزب اختلاف کے رہنما اور چیف جسٹس آف انڈیا مل کر کریں گے لیکن سرکار نے اس بابت راجیہ سبھا میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں وزیر اعظم ،حزب اختلاف کے رہنما اور وزیر اعظم کے ذریعے منتخب ایک اعلی عہدیدار الیکشن کمشنر کی تقرری کریں گے ۔موجودہ سرکار سیدھے سیدھے چیف جسٹس آف انڈیا سے ٹکڑا رہی ہے یا یوں کہیں کہ بھارت کی سب سے بڑی عدالت سے مودی سرکار مورچہ لینا شروع کر دیا ہے ۔موجودہ چیف جسٹس اکتوبر 2024 تک اپنے عہدے پر رہیں گے ۔موجودہ چیف جسٹس کو سرکار اپنے موافق بنا نہیں پا رہی ہے ۔اسلئے کہا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف مسلسل سوشل میڈیا پر منفی کمپین کیا جا رہا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے ملک کے کئی اہم معاملے ہیں جن میں دفعہ 370 کی منسوخی پر بھی فیصلہ آنا ہے ۔
سپریم کورٹ آئین کا رکھوالا ہے جبکہ وزیر اعظم مودی ایک بڑے مینڈیٹ کے ساتھ سرکار چلا رہے ہیں اسلئے ملک کی بہتری اسی میں ہے دونوں اپنے اپنے دائرے کا احترام کریں ۔ویسے سپریم کورٹ سرکار کو اسپیس دینے میں کوتاہی نہیں کر رہی ہے لیکن سرکار سپریم کورٹ کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہی ہے ۔اگر ایسا ہی چلتا رہا تو سپریم کورٹ کا بھی سخت تیور دیکھنے کو مل سکتا ہے جو سرکار اور ملک کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔

تحریر: مشرف شمسی
میرا روڈ ،ممبئی
موبائیل 9322674787

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے