نئے دور کے اہرام

  • چندریان-3 کی نام نہاد اور لہو و لعب بھری کامیابی کے پس منظر میں

دنیا میں ایک سیاح ایسا بھی گزرا ہے جس نے دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والی دیوارِ چین تک سفر کیا اور اس دیوار سے ٹیک لگا کر اپنے فلسفیانہ خیالات وافکار ضبطِ تحریر میں لائے۔ یہ سیاح کوئی اور نہیں اٹلی کا نامور ادیب وانشاپرداز ’’البرٹو موراویا‘‘ (Alberto Moravia)[28/11/1907- تا-26/9/1990]ہے۔

اس نے اپنے اس سفر کی روداد ایک کتاب بہ عنوان ’’La Rivoluzione Culturale in Cinaa, Ovvero il Convitato di Pietra‘‘ (مطبوعہ 1967)میں درج کی ہے۔اس کا انگلش ترجمہ ’’Ronald Strom‘‘نے بہ عنوان ’’The Red Book and the Great Wall: An Impression of Mao’s China‘‘ (مطبوعہ 1968) کیا ہے۔ کتاب میں البرٹو نے ایک فکری، نفسیاتی، ادبی اور فلسفیانہ سیاحتی دورے کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر خاص وعام کے لیے مفید اور دلچسپ ثابت ہوگا۔

کتاب کا پہلا باب گفتگو کے اسٹائل میں ہے۔ یہ گفتگو البرٹو اور ایک چینی رائٹر کے مابین ہوئی تھی، یا شاید البرٹو اور اس کے اپنے دل کے مابین۔ بہرحال سوال وجواب کے پیرائے میں البرٹو قارئین کے سامنے جدید انسان کے ذہن اور اس کی ساخت اور میلان کے بارے میں وضاحت کرتا ہے۔ سوال وجواب میں بسااوقات تلخی وترشی در آئی ہے، کہیں کہیں جراح کے تیشے اور قصائی کی چھری جیسی کاٹ پیدا ہوگئی ہے۔

یہاں قارئین کے لیے اس کے پہلے باب سے کچھ مطابقِ حال اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں:

  • تم نے مصر کے فرعونوں کے بارے میں کچھ سن رکھا ہے؟
  • ہماری گفتگو کا فراعنۂ مصر سے کیا لینا دینا؟
  • کبھی تم نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ کیوں ان فرعونوں نے اتنے بڑے بڑے اہرام (Pyramids) تعمیر کرائے تھے جن کی تعمیر میں انھیں بے اندازہ دولت اور محنت صرف کرنی پڑی؟
  • مجھے نہیں معلوم، آپ بتائیں؟
  • کیونکہ میرے نزدیک ہر انسان کی لازمی ضروریات کی تکمیل مطلوب ہے اور بنیادی ضروریات سے فاضل ہر چیز اس لائق ہے کہ اسے توڑ پھوڑ کر برباد کر دیا جائے۔ جنگ بندی اور صلح کے زمانے میں ان اہراموں کی تعمیر کا وہی کردار ہوتا تھا جو جنگوں کے دوران فوجوں اور لشکروں کا ہوتا ہے۔ یعنی انسان بڑھتی ہوئی دولت کی روک تھام کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہے اور لاشعوری طور پر خود کو فقیر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی فطری جذبے کا مظہر یہ اہرام ہیں۔
  • مگر عصرِ حاضر کے اہرام کہیں دکھائی نہیں دیتے؟
  • دورِ حاضر کے اہرام وہ سائنسی اور کائناتی منصوبے (Projects) ہیں جن کے ذریعے بار بار خلا میں چھلانگ لگائی جاتی ہے۔ مریخ، زہرہ اور چاند وغیرہ ستاروں اور سیاروں پر کمندیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تمام خلائی پروازیں اور ان میں لگنے والا بے پناہ صرفہ دورِ حاضر کے اہرام ہیں۔ یہ عالمی طاقتوں کے بے مقصد منصوبے ہوتے ہیں۔ ان کو پورا کرنے میں بے شمار پیسہ، لاتعداد انسانی قوتیں اور توانائیاں خرچ کی جاتی ہیں اور سکون وراحت کی قربانیاں پیش کی جاتی ہیں۔ یقینا یہ ازمنۂ قدیم کے فرعونوں کے اہرام ہیں۔ پرانے زمانے کے یہ اہرام بہ ظاہر انسان نما خدائوں یا خدا نما انسانوں کی ذہنی پینک اور خیالی سنک کی پیداوار ہوتے تھے، مگر درحقیقت یہ فرعونی مزاج، فرعونی مائنڈ سیٹ اور فرعونی تہذیب کا رمز و اشارہ ضرور ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے زمانے کی یہ خلائی پروازیں ہیں۔ یہ ایک سے بڑھ کر ایک ستاروں اور سیاروں پر پہنچنے کی کوششیں، یہ بھی ذہنی سنک کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ باثروت اور مقتدر حکمرانوں کے درمیان جذبۂ مسابقت کا اظہار ہے اور آج یہ جدید تہذیب کی نمایاں شناخت بن چکا ہے۔”

اقبال نے پہلے ہی کہہ دیا ہے:

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعائوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا
اپنی فطرت کے خم وپیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلۂ نفع وضرر کر نہ سکا۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔

تحریر: ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے