طالب علم، معلم اور اسکول منیجمینٹ

یوم اساتذہ منانے سے معلم کا وقار اور عزت بلند ہوتی ہے۔استاد کو روحانی باپ اور دنیا سے متعارف کرانے والے گرو، Mentor اتالیق کی حیثیت دی گئی ہے۔ان کا ادب بڑا مشہور اور ان کے چرن چھونے کی رسم بھی بھارتی سبھیتا کی عظیم وراثت ہے۔

میں معلم ہوں کہ تدریس ہے شیوہ میرا
نا مہذب کو میں تہذیب کی ضو دیتا ہوں

میری ہستی ہے ضیا خلق و مروت کا چراغ
میں زمانے کو نئے عزم کی لو دیتا ہوں

مولوی اور ڈنڈا ،استاد اور پٹائ،گرو اور مرغا،استانی اور سزا،ٹیچر اور punishment یہ سیکھنے کے مراحل میں حصول تعلیم کے لیے قدیم علامتیں رواج اور ان کی پہچان تھے۔

چھڑی ،ڈسٹر ،بید ،کین ،کھڑی فٹ پٹی ،چہرے پر پانچ انگلی کے نشان ،چمٹی کاٹنا اور گھور کر کھانے والی لال لال بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھنا یہ بھی معلمین کا عام وطیرہ تھا۔
ذرا سی غلطی اور معصوم شرارت،ساتھیوں کی جھوٹی شکایت،دیر سے اسکول آنے پر کلاس کے باہر کردیا ۔ہاتھ اوپر کر کے ایک ٹانگ پر کھڑا کرادینا،مرغا اور کرسی بنا دینا یہ استاد کے عام ہتھیار تھے ۔

جسمانی سزا،تشدد اور شدید غصے کی عام شکل ہے جو معلم اپنے زیر دست کمزور بچوں پر اتارتے ہیں ۔اس سے بچوں کی نفسیات پر ہونے والے برے اثرات سماج میں ظہور پذیر ہو رہے ہیں ۔اترپردیس کے اوریا ضلع کے دسویں جماعت کے طالب علم نکھل کی اس کے کلاس ٹیچر نے سوال کا جواب نہ دینے پر اتنی پٹائ کردی کہ چند دنوں بعد اسپتال میں اس کی موت ہوگئی ۔ فیل کردینے اور بہت کم نمبر دینے پر طلبہ نے استاد کو بنا یاتشدد کا نشانہ!
Right to education کا قانون اپنے ساتھ انسانی حقوق ، بچے کی عزت نفس ، نفسیاتی اپروچ کے ساتھ ساتھ سزا کی بجائے انعام اور نفرت و طعنے ،بے عزتی کی بجائے حوصلہ افزائی ،امید ،ڈر اور خوف کی بجائے آگے بڑھنے اور اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں Multi skilled کو پیش کرنے کے مواقع دیتا ہے ۔ ابLEGAL RIGHTS OF STUDENTS کے
ذیل میں

Right to equality.Right to information (2005).
Right to education (2009)
prohibits: physical punishment and mental harassment to child ( sect 17)

موجود ہے
عربی مدارس و مکاتب ہوں یا گرو کل’ شیشو مندر ، کانوینٹ پبلک اسکول ہوں یا پرائیویٹ منیجمنٹ اسکولس ۔اب جسمانی سزا دینے میں آزاد نہیں ۔اب محکمہ پولیس میں طلبہ پر کیے گئے مظالم پر شنوائی ہونے لگی ہے۔والدین بھی جاگ اٹھے ہیں اور سماج بھی ۔ موبائل سے بنے ویڈیوز تو منہ بولتا ثبوت اور انصاف کی عدالت ہے ۔
یوپی مظفر نگر کی ایک ٹیچر ترپتا تیاگی نے اپنی اسکول کے ایک مسلم لڑکے کو Hit Mohammedan students کے نام پر ایک مسلم لڑکے کو ہوم ورک نہ کرنے پر تمام غیر مسلم لڑکوں سے طمانچے لگوائے اور مذہب کا نام لے کر سزا دی تو اس کی یہ دنگائ اور فرقہ پرست ذہنیت، ملک کی جگ ہنسائی بھی بنی اور فرقہ وارنہ بیمار ذہنیت کا ذریعہ بھی۔۔۔ اس شہر کے مہرشی شوک دیو انٹر کالج میں دیر سے پہنچنے والے طلبہ کو دھوپ میں مرغا بنا کر پٹائ کی گئی اور جب ویڈیو وائرل ہوئی تو دو ٹیچرز کو معطل کیا گیا۔
یاد رکھیے!
انگلش میڈیم کے نام پر قائم ہونے والے اسکول اگر ڈسیپلین کے نام پر استحصال کریں گے تو ان کی کلاس بھی لگ سکتی ہے۔آپ کا اسکول اگر اپنے علاقے میں مشہور ہوگیا ہے تو آپ اس دھندے میں الگ الگ سرگرمیوں اور ناموں سے بڑی بھاری فیس بھی وصول کر رہیے ہیں اور ان ہی بچوں کے دم سے آپ کے اسکول میں ڈیویژن بڑھ کر آپ کی تجارت کو فروغ دے رہیں ہیں۔

عوام کی طرف سے ملنے والے حل اور نیک مشورے

(1)اسکول اپنے معیار تعلیم کو بلند کرے۔اسکول Infrastructure , صفائی،صاف پانی ،بیت الخلاء کی سہولت ،بچوں کی تعدادِ کے مطابق ہو ،کھیل کا میدان باری باری استعمال ہوتا رہے۔
(2)طلبہ کی حوصلہ افزائی motivation کے لیے ان کی نفسیات اور جبلتوں کے مطابق تعلیم و تربیت اور انتظام وانصرام کیا جائے ۔ Aptitude Test, Effective counseling career, Positive Attitude

نئے چراغوں کو روشنی دو
زمانہ کروٹ بدل رہا ہے

(4)طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کے درمیان شفافیت Transparency ،بات چیت اور تربیت کے جدید متبادل مواقع پیدا کیے جائیں۔ پرنسپل اور منیجمینٹ سے رابطہ،شکایتوں کا فوری تدارک اور واقفیت کے نظام کو آسان کیا جائے ۔کلاسیز میں سی سی ٹی وی کیمروں سے کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھی جائے ۔شریر بچوں کے والدین کو ان کی حرکات سے واقف کیا جائے ۔
(5) مسابقت competition,Team spirit,Target if goal, mutual deliberation,success,, Excellent, Reliability, strategy, Intelligence, Humbleness تواضع و انکسار,Honesty سچائی کے جذبے کی ترجمانی کریں ۔

(6) ٹیچرز اور طلبہ کے غصےAnger Management , Attitude اور طلبہ کی عادتوں میں مثبت تبدیلی کے لیےاسکول میں چائیلڈ کاؤنسلنگ سینٹر قائم کیا جائے۔ Cognitive Behavio Therapy,سے مدد لی جائے ۔ماہرین تعلیم اور ماہرین سماجی علوم کو مدعو کیا جائے۔ (7)عمدہ اخلاق, Accountiblity والے Accomplished,Cheerful تربیت یافتہ Traindteacher کا تقرر کیا جائے۔
(8)کم تنخواہوں میں ملنے والےun Traind teachersکم ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔۔۔۔اور "جیسی دال بھات ،ویسی فاتحہ” پڑھتے ہیں۔ (9)پرائمری درجوں کے لیے تجربہ کار ،متحمل مزاج Patience ،ماہر تعلیم ونفسیات ٹیچرز کا تقرر کیا جائے۔
(10) اسکول مینیجمینٹ اور پرنسپل کی ڈکٹیٹر شپ،فوجی انداز ،اپنے آپ کو بڑی پہنچی ہوئی چیز سمجھ کر طلبہ اور سرپرستوں کا استحصالExploitation کرنادرست نہیں ۔
(11) جن اسکولوں میں تکثیری سماج Plural society سے طلبہ آتے ہوں ایسے اداروں میں عمومی آداب اور اصول وضوابط کا لہاظ بہت ضروری ہے ۔ تعلیمی نظام میں مذہب کے ان ہی امور کو شامل کیا جائے جو سب کے لیے انسانیت نواز اور عمومی اخلاقیات Moral values لیے ہوں۔دوسرے مذہب کی عزت کرنا سکھائی جائے ۔
کاراصلاح ہے گرچہ دشوار!

بہت سے سماجی رابطے ،N G Os طلبہ کے حق میں ان کے حقوق کی ضمانت کے لیے پولس اسٹیشن اورعدالتوں میں مقدمات پیش کررہی ہیں اور ان کے لیے سرگرم ہیں ۔
PCVC.protaction wing,022 22819561.
NANHIKALI,Partham foundation,SMAIL, CHILD HELP
FOUNDATION, .save the children ( CHF)
تنظیم والدین ،آئیٹاAIITA ایسوسی ایشن ،ملی تعلیمی بورڈ،الفلاح ایجوکیشن مومینٹ۔سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس, سرپرست ٹیچر ایسوسی ایشن PTA وغیرہ۔

ازقلم: عبد العظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے