مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ:بم دھماکہ متاثرین نے مجسٹریٹ کو گواہی کے لیئے طلب کرنے کی این آئی اے سے گذارش کی

  • سرکاری گواہان کا 164 /کے تحت دیئے گئے بیانات سے منحرف ہوجانا عدلیہ پر ایک دھبہ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم

ممبئی29/ اگست
مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں ابتک 321 / سرکاری گواہان کی گواہی عمل میں آچکی ہے اور استغاثہ کی جانب سے عدالت میں دی گئی گواہان کی فہرست کے مطابق اب صرف دو سرکاری گواہان کی گواہی ہونا باقی ہے لیکن اسی درمیان آج بم دھماکہ متاثرین نے قومی تفتیشی ایجنسی NIAسے درخواست کی ہے کہ سرکاری گواہان کے سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت بیان درج کرنے والے مجسٹریٹ کو گواہی کے لیئے خصوصی عدالت میں طلب کرے۔
خصوصی این آئی اے عدالت میں بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شاہد ندیم (جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے آج سپرنٹنڈنٹ آف پولس قومی تفتیشی ایجنسی (ممبئی) کو بذریعہ ایمیل ایک درخواست ارسال کی ہے جس میں تحریر ہیکہ 164 کے تحت بیان درج کرنے والے سات سرکاری گواہان دوران گواہی اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے اور انہوں نے عدالت میں کہا کہ اے ٹی ایس نے ان سے جبراً بیانات دینے کے لیئے دباؤ بنایا تھا۔ اب جبکہ بم دھماکہ سازشی میٹنگ کے اہم گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں، ان گواہان کے بیانات کا اندارج کرنے والے مجسٹریٹ کو عدالت میں گواہی کے لیئے طلب کرنا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے درخواست میں مزید لکھا ہے کہ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ سات میں سے دو گواہان تو ایسے ہیں جنہوں نے 164 کے دونوں بیانات سے انحراف کیا، ایک بیان اے ٹی ایس نے ریکارڈ کروایا تھا جبکہ دوسرا این آئی اے نے۔گواہان کا 164 کے تحت دیئے گئے بیانات سے ایسے منحرف ہوجانا عدلیہ پر بھی ایک دھبہ ہے۔عرض داشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ این آئی اے نے منحرف ہونے والے گواہان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 191/ کے تحت مقدمہ بھی درج نہیں کیا۔ان گواہان کے خلاف جھوٹی گواہی دینے کا مقدمہ بنتا ہے لیکن اس کے باوجود این آئی اے نے ابتک ایک بھی گواہ کے خلاف کارروائی نہیں کی۔
این آئی اے سے مزید درخواست کی گئی کہ عدالتی ریکارڈ سے غائب ہونے والے تیرا 164/ بیانات کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کے لیئے ثانوی ثبوت کے طور پرلائحہ عمل تیار کرے کیونکہ بامبے ہائی کورٹ نے این آئی اے کو اجازت دی ہیکہ وہ ٹرائل کور ٹ سے اس تعلق سے رجوع ہوسکتی ہے لہذااین آئی اے کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ عرض داشت میں مزید تحریر ہے کہ این آئی اے اگر سرکاری گواہان کے 164 کے بیانات کا اندراج کرنے والے مجسٹریٹ کو گواہی کے لیئے طلب نہیں کرتی ہے تو اس سے ملزمین کو راست فائدہ ہوگا، عموماً مجسٹریٹ کو گواہی کے لیئے عدالت میں طلب نہیں کیا جاتا ہے لیکن مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمہ ایک منفرد مقدمہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں سرکاری گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوئے ہیں۔ این آئی اے سے مزید درخواست کی گئی کہ وہ سرکاری گواہان کی گواہی کے اختتام سے قبل بم دھماکہ متاثرین کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کرے۔ بم دھماکہ متاثرین گذشتہ پندرہ سال سے انصاف کے منتطر ہیں اور وہ ٹرائل کو طول نہیں دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی کوشش ہے کہ عدالت کے سامنے ان تمام ثبوتوں کو پیش کیا جاسکے جو دستیاب ہیں تاکہ عدالت ان ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر مقدمہ کا فیصلہ کرسکے۔
واضح رہے کہ ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجررمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کے خلاف قائم مقدمہ میں گواہوں کے بیانات کا اندراج کررہی ہے، ابتک 321گواہوں کی گواہی عمل میں آچکی ہے میں اے ٹی ایس اور این آئی اے کے چیف تفتیشی افسران (آئی او) شامل ہیں اور عدالتی کارروائی روز بہ روز کی بنیاد پر جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے