وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

آج کی دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت اس نئے ماحول سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے اور عورت اپنے مقام سے آگاہ ہو کر اپنی تقدیر اور معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ عورت کی بنیادی ذمہ داری اس کا گھر ہے۔ وہ ایک پڑھی لکھی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھا سکتی ہے۔
نسل انسانی کا استحکام اور ترقی خواتین کے بغیر ناممکن ہے۔ زندگی اور معاشرہ کی بقا اور استحکام، جسمانی اور روحانی تندرستی خواتین کی وجہ سے ہے۔ اسلام نے عورت کو اتنا بلند مقام دیا ہے کہ گھر کے اندر رہ کر وہ گھر کی زینت بنتی ہے اور گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر ہی عورت اپنے فرائض کی ادائیگی کر سکتی ہے۔ گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی پرورش وغیرہ کچھ ایسے کام ہیں جو اس کے وجود کو عظیم بناتے ہیں۔ ماں کے روپ میں عورت بے لوث محبت، ہمدردی اور ایثار و قربانی کی انمول کہانی ہے۔ عورت ایک بیوی کے روپ میں خلوص، وفاداری اور خواہش کا ایک خوبصورت افسانہ ہے۔ عورت بہن کے روپ میں اللہ کی بہترین نعمت ہے تو بیٹی کے روپ میں اللہ کی رحمت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عورت انسانیت کی شان ہے۔ دین اسلام نے عورت کو پستی سے بلندی تک پہنچایا ہے۔

بقولِ شاعر

اے ماؤ، بہنوں، بیٹیوں دنیا کی عزت تم سے ہے
ملکوں کی بستی ہو تمہی ، قوموں کی عظمت تم سے ہے

یہ وہ عزت، وقار اور بلند مقام ہے جو اسلام نے خواتین کو دیا ہے۔ کیا دنیا کے کسی اور مذہب نے عورت کو یہ درجہ دیا ہے..؟ اسلام خواتین کے حقوق کی بحالی کا واحد ضامن ہے۔ اس لیے معاشرے سے وابستہ ہر مرد اور عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ زندگی میں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو نبھانے کی کوشش کرے.

تاریخ کے مطالعے کے مطابق خواتین کا کردار مردوں کے مقابلے زیادہ مثبت ہے۔ تہذیب کی ترقی کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ خواتین نے معاشرے میں خوبصورتی اور نفاست کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ مثال کے طور پر اس نے برتنوں پر نقش و نگار بنا کر ان کو خوبصورت بنایا اور گھروں کو بھی صاف ستھرا بنایا تاکہ محنت کے بعد گھر میں سکون و خوشگوار ماحول حاصل ہو۔
تجارت کے فروغ میں خواتین نے بھی حصہ لیا۔ جب ان کے شوہر کاروبار کے لیے دور دراز علاقوں میں چلے گئے تو عورتیں نہ صرف گھر اور بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کا خیال رکھتی تھیں بلکہ خط و کتابت کے ذریعے اپنے شوہروں سے رابطہ بھی رکھتی تھیں اور ضرورت کے مطابق تجارتی سامان بھی فراہم کرتی تھیں۔ اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ خواتین بعض دستکاریوں میں مہارت رکھتی ہیں اور ضرورت کی چیزیں بنا کر اپنی آمدنی میں اضافہ کرتی ہیں۔
یہ سب خواتین کے ثقافتی عمل کا حصہ ہیں اور خواتین کے اس پہلو کو معاشرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس نے ان روایات کو تخلیق اور ترقی دی جو آج بھی ہماری روزمرہ کی زندگی میں متعلقہ ہیں۔ یعنی لذیذ کھانا، زیورات کا استعمال، رنگوں کی خوبصورتی، فیشنی لباس، گانا اور رقص اور گھریلو معاملات میں صفائی۔
اسی طرح زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کا بااختیار ہونا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی سماجی ترقی اور بہبود کے لیے خواتین کا بااختیار ہونا ضروری ہے۔ خواتین معیشت اور خوراک کی پیداوار میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہر دور میں خواتین نے قوموں کے استحکام، ترقی اور طویل مدتی خوشحالی کو یقینی بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ایک عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہے، اس کے معاشی مواقع تک رسائی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل اور وسائل تک رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے تاکہ مردوں اور عورتوں کو زندگی میں برابر کا حصہ مل سکے۔
خواتین کی خود مختاری کا صحیح معنوں میں احساس اس وقت ہوگا جب خواتین کے تئیں معاشرے کے رویے بدلیں گے، ان کے ساتھ عزت، احترام اور ان کے تمام معاملات میں انصاف کیا جائے گا۔

بقولِ علامہ اقبال

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں

ازقلم: سمیہ بنت عامر خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے