کیا ہندوستان ہندو راشٹر ہے؟

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ہندوستان ہندو راشٹر ہے اور ملک کی قابل لحاظ آبادی ہندوستان کو ہندو راشٹر تسلیم کرتی ہے ، بس چند لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں ۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے جب موہن بھاگوت کی زبان سے یہ بات نکلی ہے ، وہ عرصہ دراز سے یہ بات الگ الگ انداز میں کہتے چلے آ رہے ہیں ۔ یہ کٹر وادی نظریات رکھنے والی تنظیموں کا ایک آزمودہ نسخہ ہے کہ ایک ہی بات ، بھلے وہ غلط ہو ، بار بار دوہرائی جائے یہاں تک کہ سب ہی اسے حقیقت سمجھنے لگیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان ہندو راشٹر نہیں ہے ۔ نہ گزرے ہوئے کل کو یہ ہندو راشٹر تھا اور نہ ہی آزادی اور بٹوارے کے بعد یہ ہندو راشٹر بنا ، اور نہ ہی یہ آنے والے دنوں میں آسانی کے ساتھ ہندو راشٹر بن سکتا ہے ۔ ملک کا آئین سیکولر اور جمہوری ہے ، یعنی یہ ملک کسی ایک مذہب کے ماننے والوں یا کسی ایک مذہب پر عمل کرنے والوں کا نہیں ہر ہندوستانی کا ہے ، بلا لحاظ مذہب اور ذات پات ۔ چونکہ ملک کا یہ سیکولر جمہوری نظام ، ان کے لیے ، جو منوواد کے قائد کہلاتے ہیں ، ایک روک ہے ، کہ یہ انہیں چھوت چھات سے روکتا ہے اور ورن ویوستھا پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ، اس لیے وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کر کے دوبارہ سے منووادی نظام کو رائج کر دیں ، اور سارے پچھڑوں ، دلت سماج اور کمزوروں کو روند کر پھر انہیں غلام بنا لیں ۔ اور یہ خواب دیکھنے اور دکھانے والی تنظیم موہن بھاگوت کی قیادت والی آر ایس ایس ہی ہے ، بلکہ ہندو راشٹر کا سارا سوشہ ، اسی تنظیم کا اور اس تنظیم کو فکری بنیاد فراہم کرنے والے ہندوتوادی ساورکر کا ہی چھوڑا ہوا ہے ۔ آر ایس ایس نے27 ، ستمبر 1925میں اپنے قیام پر ہی ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا تھا ، لیکن اس دور میں یہ کام اس کے لیے ممکن نہیں تھا ۔ ملک کی قیادت میں سیکولر مزاج رکھنے والوں کی اکثریت تھی اور مسلم قیادت بھی کمزور نہیں ہوئی تھی ۔ لیکن آج حالات بدل گئے ہیں ، ملک پر راج بھگوائیوں کا ہی ہے ، اور جو قیادت سیکولر سمجھی جاتی تھی اس میں بڑی تعداد میں فرقہ پرستوں نے گھس پیٹھ کر لی ہے ۔ رہی مسلم قیادت تو وہ کمزور ہی نہیں ہوئی ہے پوری منصوبہ بندی سے ختم کی جارہی ہے ، بلکہ یہ سمجھیں کہ خاتمہ کے قریب ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے دست راست امیت شاہ کے اشارے واضح ہیں کہ 2024 کا الیکشن اگر جیت گئے تو ملک کو ہندو راشٹر بنادیں گے ۔ اور موہن بھاگوت سارے ملک میں اسی ہندو راشٹر کا جھنڈا اٹھائے گھوم رہے ہیں ، اور اس جھنڈے کی راہ میں جو اڑچنیں پہلے تھیں وہ اب نہیں ہیں ، اس لیے سنگھ پریوار کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ ہندوستان ہندو راشٹر بن جائے گا ۔ نعرہ لگایا ہی جاتا ہے کہ مودی ہے تو ممکن ہے ! لیکن آج کے دنوں میں ملک کو ہندو راشٹر بنانا آسان نہیں ہے ۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد انڈیا ، سنگھ اور بی جے پی کے سامنے ایک بڑے چیلنج کے طور پر کھڑا ہو گیا ہے ، اور اس محاذ میں شامل لیڈران چاہے وہ راہل گاندھی ہوں کہ کھڑگے ، لالو پرساد یادو کہ نتیش کمار ، ممتا بنرجی کہ شردپور ای ڈی اور سی بی آئی کی ساری طاقت ، جو ان کے خلاف کھڑی کی جا رہی ہے ، کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ہیں ۔ مودی حکومت کا ایجنڈا واضح ہے ، اور اسے لاگو کرنے کے لیے ون نیشن ون الیکشن کو ممکن بنانے کی کوشش شروع ہو گئی ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ انڈیا اتحاد کو کمزور کیا جائے اور مرکز پر قبضہ برقرار رکھا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ ون نیشن ون الیکشن کا یہ فارمولہ ملک کو کہاں لے جائے گا ؛ ون نیشن ون ریلیجن ، ون نیشن ون لینگویج ، ون نیشن ون کلچر ، ون نیشن ون حاکم تک؟ اگر ایسا ہوا تو ہندو راشٹر کا خواب تعبیر پا سکتا ہے پھر کوئی چاہے جس مذہب کا ہو وہ ہندو ہی کہلائے گا ، مسلمان بھی کہ بھاگوت بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہاں کے مسلمان ہندو ہیں ۔ سوال ملک کے شہریوں سے ہے ؛ کیا اس جمہوری سیکولر نظام سے وہ نظام اچھا ہو سکتا ہے؟

ازقلم: شکیل رشید (ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے