اردو بول چال میں "نی” اور "نا”…

بیشتر لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ اردو بول چال میں”نی”اور”نا” میں کوئی تفریق نہیں کرتے اس سلسلے میں راقم السطور بھی حیرانگی کے سمندر میں غرق تھا کہ کیا وجہ ہے؟ کہ کچھ لوگ تو مؤنث اسم کے ہمراہ”نی”لاتے ہیں اور کچھ لوگ”نا”مثال مذکورہ بالا جلی عنوان سے واضح ہے۔۔
ایک دن بندہ اردو ادب کی جملہ دستیاب بذریعہ انڑنیٹ کتابوں کو یکجا کیا اسی درمیان ایک کتاب نظرنواز ہوئی بنام انشا اور تلفظ_بارِالہ کے فضل سے اس میں وہ بحث مل گئی…….مِن و عن سپرد قرطاس کرتا ہوں۔
مصدر کے آخر میں”نا”ہوتا ہے جسے علاماتِ مصدر کہتے ہیں، جیسے:کرنا،سونا، جانا۔
جب مصدر کے ساتھ کوئی اسم آتا ہے تب یہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصدر کو کس طرح لکھیں گے مثلاً:کتاب پڑھنا”لکھیں گے یا کتاب پڑھنی کہیں گے؟ یہ کہا گیا ہے کہ اس قاعدے میں دہلی اور لکھنؤ والوں کا اختلاف ہے۔دہلی والے اسم مؤنث کے ساتھ” نی” لاتے ہیں،جیسے:بات کرنی ہے،روٹی کھانی ہے، چائے پینی ہے۔اسم اگر مذکر ہو تو”نا”لکھتے ہیں جیسے:پانی پینا ہے،پُلاؤ کھانا ہے،… لکھنؤ میں عام طور پر مصدر میں تبدیلی نہیں کرتے۔اسم مذکر ہو یامؤنث ہر صورت "نا” برقرار رہتا ہے مثلاً:کتاب پڑھنا ہے،چائے پینا ہے،پانی پینا ہے، دعا کرنا ہے۔
یہ قاعدہ دہلی اور لکھنؤ کی نسبت کے ساتھ اِسی طرح عمل میں آتا رہا ہے،اس لیے ہمارے یہاں دونوں صورتیں درست اور صحیح ہیں،لیکن اچھا یہ ہی ہوگا کہ کسی ایک طریقہ کو مان لیا جائے اوراس پر عمل کیا جائے مثلاً:کوئی صاحب”کتاب پڑھنا”یا "رائے دینا” لکھتے ہیں تو ان کے لیے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ ایک جگہ "کتاب پڑھنا” لکھیں اور کسی دوسری جگہ "چائے پینی”یا "دعا کرنی”لکھیں،ایک ہی انداز کو اپنانا چاہیے۔۔
لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ مذکورہ بالا قاعدے کو مدنظر رکھتے ہوئے اردو بول چال میں گفت و شنید کریں یا تحریر میں رقم کریں۔۔

ازقلم: محمد حسین مظاہری پرولیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے