ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد

ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد
ہاں ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد
جو کانٹوں بھری زندگی میں
شمع علم و آگہی کے پھول کھلاتے ہیں
توڑ دیتے ہیں جہالت کے اندھیروں کا طلسم
زندگی کے اندھیروں کو روشن مشعل راہ دیتے ہیں
جو الجھے خیالوں کے طوق توڑنا سکھاتے ہیں
جو راہوں میں پھول بچھاتے ہیں
وہ معلم یا استاد کہلاتے ہیں
جو م سے محبت و مہربان ہوتی ہیں
ع سے علم و عمل سکھاتے ہیں
ل سے لگاؤ اور م سے معاون ہوتے ہیں
جو علم کی شمع جلاتے ہیں
تہذیب و تمدن کا سبق دیتے ہیں
ہم کو ہر لمحہ دیتے ہیں پیام تعلیم
ہم کو قابل انسان بناتے ہیں
جو بطور فلسفی و مبلغ رہنمائی کرتے ہیں
دل میں ہر لمحہ ترقی کی دعا کرتے ہیں
ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد
ہاں ! ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد
کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں
علم کی دولت لٹاتے ہیں
ہم کو ہر علم سکھاتے ہیں
ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد
ہاں! ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد
دعا ہے دل سے بارگاہ الٰہی میں
خدا تو ان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھ

ازقلم: سمیہ بنت عامر خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے