ٹیچرس ڈے اور صدر جمہوریہ

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

دنیا میں کسی بھی فن کا فنکار اور ماہر فن بننے کے لیے ایک استاذ کی ضرورت پڑتی ہے۔ دلیل کے طور پر فرہاد کو بغیر کسی کوہ کن کو نہیں دیکھا گیا اور درونا چاریہ کے بغیر ارجن کو نہیں جانا جاتا ہے۔
کسی بھی طالب علم کی زندگی میں استاد کا ایک اہم مقام ہوتا ہے۔ جہاں ماں باپ بچوں کی جسمانی نشو و نما میں حصہ لیتے ہیں ، وہیں استاد ذہنی ترقی میں۔ ٹیچرز ڈے استاد کی انہیں عنایتوں کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔

ٹیچرس کسی بھی قوم و ملت کا وہ عظیم سرمایہ ہیں جو ہر مشکل، ہر آفت، اور کٹھن سے کٹھن گھڑی میں نسل نو کو نکھارنے اور انہیں صیقل کرنے میں اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔ ملک و ملت کا روشن مستقبل انہیں کے ہاتھوں پروان چڑھتا ہے اور ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔ بقول شاعر
استاد نے ہمیں تعلیم دی ہے کتنی محنت سے
کبھی سختی ، کبھی نرمی، کبھی چھڑیوں کی قوت سے
مذکورہ باتوں کے منظر و پس منظر میں حقیقی معنوں میں ٹیچرس ڈے (یومِ اساتذہ) ایمان دار، محنتی اور جینوئن ٹیچرز کا اصل تہوار (Genuine Festival) کہا جاتا ہے۔ ھمارے بھارت میں ہر سال پانچ ستمبر کو "نیشنل ٹیچر ڈے” وطن کے ہر گوشے (ایجوکیشنل کارنر) میں دھوم سے منایا جاتا ہے۔
ٹیچرز ڈے دراصل ہمارے عزیز ملک ہندوستان کے پہلے vice president نیز دوسرے President of India ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن
Dr Sarvepalli Radhakrishnan
کے جنم دیوس پر تعلیمی میدان میں ان کے کارناموں کو سردھانجلی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ حالانکہ اس روز نیشنل ہولی ڈے (قومی چھٹی) کا دن نہیں ہوتا ہے۔ لہذا ہمارا جاننا ضروری ہے کہ ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی یوم پیدائش 5/ستمبر 1888ء ہے اور یومِ وفات 17/اپریل 1975ء ہے۔ واضح ہو کہ رادھا کرشنن جی ایک ذہین ہندوستانی سیاستداں، فلسفی اور اکیڈمیشین تھے۔ اس کی دلیل ہے کہ وہ میسور یونیورسٹی میں فلسفہ Philosophy کے پروفیسر 1818ء سے 1921ء تک رہے جبکہ موصوف نے کلکتہ یونیورسٹی میں 1937ء سے 1941ء تک Philosophy ڈپارٹمنٹ میں درس و تدریس کے فرائض بخوبی انجام دیئے۔ رادھا کرشن جی بھارت کے پہلے نائب صدر کے عہدے پر 1952ء سے 1962ء تک رہے جبکہ ہندوستان کے دوسرے صدرِ جمہوریہ کی کرسی پر 1962ء سے1967ء تک براجمان رہے۔ تعلیمی میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کے مدنظر اُن کو برٹش شہنشاہ کنگ جارج پنجم نے1937ء میں نائٹ ہوڈ knighthood اور ہندوستانی حکومت نے 1954ء میں بھارت رتن کے ایواڈز سے نوازا۔ بہت کم لوگوں کی یادداشت میں ہو گا کہ رادھا کرشنن جی پانچ بار ہندوستانی لٹریچر میں نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئے۔ آخر میں یہ بھی واضح ہو کہ ہندوستانی حکومت نے پہلی بار 1962ء میں فیصلہ لیا کہ ہر سال 5 ستمبر (پہلے نائب صدر جمہوریہ کی یومِ پیدائش) کو پورے ہندوستان میں ٹیچرس ڈے منایا جائے گا۔
واضح طور پر شری رادھا کرشنن جی معروف سفارتکار، اسکالر، صدر جمہوریہ ہند ہونے کے باوجود وہ ایک اعلیٰ معلم بھی تھے۔ اور 5/ ستمبر ان کا جنم دن ہے۔ لہذا ھمارے عزیز وطن بھارت میں 5/ ستمبر کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ملک کے اولین نایب صدر نیز دوسرے صدر جمہوریہ اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش کے مد نظر اس دن کو پورے ملک میں ”یوم اساتذہ” کے طور پر منایا جاتا ہے‌۔ پورے ملک میں اس سلسلے میں تقریبات منعقد کیے جاتے ہیں۔ طلبہ اس دن اساتذہ کو گلدستے اور تحائف پیش کرتے ہیں جبکہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے عمدہ خدمات انجام دینے والے اساتذہ خصوصی انعامات سے نوازے جاتے ہیں۔

روایتی طور بھارت کے کچھ حصوں میں سال 1962 سے ٹیچرس ڈے ڈاکٹر رادھا کرشنن کی سالگرہ کے طور پر منایا جاتا ہے، جو ایک مشہور استاد، مفکر، ماہر تعلیم اور سماجی مصلح تھے، جو ہندوستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے معروف و مقبول ہیں۔ مگر قومی سطح پر 1967ء سے لیکر آج تک بڑی پابندی کے ساتھ اور باقاعدہ سرکاری طور پر بھی 5/ ستمبر کو ٹیچرس ڈے کا جشن منایا جارہا ہے۔
دراصل ڈاکٹر سروپلی رادھاکرشنن Dr.Sarvepalli Radhakrishnan کو بچوں سے بہت قربت اور انسیت تھی۔ اسی ضمن میں ایک دن طلبہ نے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں اجازت دیں کہ موصوف کی یوم ولادت Birthday منائی جا سکے۔ موصوف نے کہا کہ انہیں فخر سا احساس ہو گا اگر بچے ان کی پیدائش کے دن کو اساتذہ کی تعظیم کے طور پہ منائیں۔ اسی دن سے ہندوستان میں 5/ ستمبر یوم اساتذہ کے طور پہ منایا جانے لگا جب کہ اسٹوڈنٹس کے تئیں اساتذہ کی محبت اور بے لوث خدمات کے مدنظر عالمی اساتذہ برادری کی شان میں عالمی تعلیمی و ثقافتی ادارہ UNESCO یونیسکو نے 1994ء میں اعلان کیا کہ ہر سال 5/ اکتوبر کو "ولڈ ٹیچرس ڈے” منایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بہت سارے ممالک بھی ہیں جو مختلف تاریخوں میں یوم اساتذہ منایا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن کی پیدائش 5/ ستمبر 1888ء میں تیروتنانی نامی گاؤں میں ایک متوسط گھرانے میں ہوئی ان کے والد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو انگریزی تعلیم سے آراستہ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کو مذہبی تعلیم دلا کر پجاری بنانا چاہتے تھے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہ 1952 میں نائب صدر جمہوریہ ہند بنائے گئے اور 1962 میں پانچ سال کے لئے صدر جمہوریہ ہند سا ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے۔
روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ استاد اس چراغ کی مانند ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو قائم رکھے۔ اُستاد وہ پھول ہوتا ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہر و محبت اور دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ دراصل اُستاد ایک ایسا رہنما ہے، جو انسان کو زندگی کی گم رہی سے نکال کر روشن منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔ بقول شاعر

تم نے سنوارا گل کو، شگوفوں کو، خار کو
تم نے حیات بخشی ہے فصلِ بہار کو

بزرگوں کے اقوال میں استاد کو "روحانی باپ” کہا گیا ہے اس قول میں ایک ذمہ داری چھپی ہوئی ہے کہ جس طرح والدین کا کام بچوں کو آگے بڑھانا ہوتا ہے، اساتذہ کا بھی یہی کام ہونا چاہئے۔ لہذا بھلے ہی کسی ایک دن کو کسی سے نسبت کے طور پر منایا جائے مگر استاذہ کی عظمت و اہمیت کے مد نظر ان کا احترام ہر پل اور ہر لمحہ تا حیات لازمی ہے۔ بقول شاعر

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

اپنے حقیقی اساتذہ کا حقیقی حق ادا کرنے کا یہ بھی جواز ہے کہ ان کی حیات میں ان کی تعظیم اور اہمیت تو ہوتی ہی ہے ، ان کی رحلت کے بعد بھی وہی جذبہ جاری رہے۔ دنیا میں جہاں اپنے والدین کے لیے دعائیں کی جائیں وہیں اپنے اساتذہ کے تئیں بھی حرفِ دعا دل و زبان پر ہو۔ زیرِ نظر دعائیہ شعر پر اپنی باتوں کو اختصار دینا چاہوں گا:

دولتِ علم و ہنر جن سے ملی ہے مجھ کو
ہر معلّم کو میرے اس کا صلہ دے مولیٰ

ازقلم : علی شاہد دلکش
کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج، مغربی بنگال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے