گھوسی اترپردیش میں یوگی کا جمہوریت پر ننگا ناچ

  • پولیس گھر گھر جاکر مسلمانوں کو دھمکا رہی ہے، مسلم گھروں کی بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا گیا، جامعہ امجدیہ و کلیہ بنات سمیت دیگر مدارس کو جبراً بند کرایا گیا۔

اترپردیش کے گھوسی میں الیکشن جیتنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی جو کچھ کر رہی ہے وہ اگر ویڈیوز میں قید نہ ہوتا اور اترپردیش کے سینئر سیاستدانوں کے ذریعے مصدقہ نہ ہوجاتا تو کسی کو یقین نہ آتا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف پولیس اور سیکوریٹی فورسز کا استعمال ایسی سطح پر ہورہا ہے
اترپردیش اسمبلی میں اپوزیشن کے سینئر لیڈر شیوپال سِنگھ یادو اور دیگر ذرائع کی خبروں کےمطابق گھوسی میں انتخابات ہیں اور انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ کے اثر کو روکنے کے لیے یوگی کے ایڈمنسٹریشن نے اب سیدھا سیدھا یہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو ووٹنگ سے روکنے کے لیے پولیس اور سیکوریٹی فورسز کو آبادیوں میں اتار دیا ہے وہ گھوسی کے مسلمانوں کو پانی اور بجلی کا کنکشن کاٹ کر ڈرا رہے ہیں، مدارس اور مساجد کو بھی دہشت زدہ کیا جارہا ہے خاص طورپر جامعہ امجدیہ میں پولیس جس طرح گھس گئی اور وہاں پر علم دین کی تحصیل و تدریس میں مصروف ہمارے علما و طلبا کو جس طرح دہشت زدہ کرکے مدرسہ خالی کروایا اور امجدیہ سمیت دیگر مدارس کے طلبا و طالبات کو جس طرح زبردستی پولیس کے بوٹوں کی دندناہٹ سے خوف زدہ کرکے ہاسٹل سے آناً فاناً سامان لےکر نکلنے پر مجبور کیا ہے وہ ملتِ اسلامیہ کے لیے نہایت توہین آمیز اور انتہائی ناقابلِ برداشت ہے، اگر آج یوگی کی اس علانیہ آمریت پر خاموش رہ گئے تو کل اترپردیش میں کوئی مدرسہ محفوظ نہیں ہوگا، گھوسی میں اترپردیش پولیس اور سرکار نے جو کچھ کیا ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر یہ لوگ جمہوری اور سیکولر سرکار کے حکمران ہونے کا دکھلاوا کرکے انٹرنیٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں بھی ایسی وحشتناک غنڈہ گردی مسلمانوں کےخلاف کرسکتے ہیں تو یہ مزید کتنی بےشرمی سے دہشت اور وحشت پھیلا سکتے ہیں صرف اس لیے کہ مسلمان الیکشن پر اثرانداز نہ ہوں اس لیے ان پر بجلی اور پانی بند کردے رہے ہیں، مدارس بند کروا رہے ہیں اور یہ غنڈہ گردی بھاجپا کے کارکنان کےذریعے نہیں بلکہ عوام کی رکھوالی پر مامور پولیس فورسز کے ذریعے یہ ساری داداگیری اور غنڈہ گردی کروائی جارہی ہے، تو یہ کتنی تشویشناک بات ہے، گھوسی میں جاری اس ریاستی غنڈہ گردی کی شکایت اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن سے بھی کی ہے، اکھلیش کو بولنا پڑا ہے جس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یوگی راج میں طاقت کا استعمال کس قدر ناجائز ہورہا ہے،
اترپردیش کے مسلمانوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی اور انصاف کی بالادستی کو قائم کرنے کے لیے یوگی راج کےخلاف مضبوطی سے آواز اٹھائیں ۔
مطلب جمہوریت میں جس کو تہوار ہتھیار اور بعض لوگوں کے نزدیک جسے شہادت کہا جاتا ہے اُس ووٹنگ کے حق اور الیکشن کے اختیار سے دور رکھنے کے لیے ایسا ننگا ناچ کیا جارہا ہے مطلب جمہوریت اور الیکشن کی عزّت جمہوریت کےنام پر ایسے کون اتارتا ہے؟ پھر بھی دعوٰی ہےکہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں یعنی جمہوریت یہی ہے؟
ہم گھوسی کے مسلمانوں اور جامعہ امجدیہ کے علما و طلبا سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

ازقلم: سمیع اللہ خان
samiullahkhanofficial97@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے