یک طرفہ بلڈوزر کاروائی

ہریانہ کے نوح میں شوبھا یاترا کے دوران ہوئے پر تشدد واقعات اور فرقہ وارانہ فسادات نے ریاست کے لا اینڈ آرڈر کی چولیں ہلا کر رکھ دیں، اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد وہاں کی بی جے پی سرکار اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے یک طرفہ طور پر کاروائی کرتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ بے قصور لوگوں اور غریب مسلمانوں کے بیشتر مکانات، دوکانوں اور کاروباری اداروں کو منہدم کرنا شروع کر دیا، اور دلیل یہ دی گئی کہ یہ انہدامی کاروائی نا جائز تعمیرات کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، آخر حکومت اتنے دنوں سے کیا کر رہی تھی کہ برسوں سے آباد آشیانے کو اب اجاڑ نے کے لئے کمربستہ ہو گئی، ہاں جب پانی سر سے اونچا ہو گیا اور شاہ راہ کے قریب واقع سینکڑوں دکانوں اور مکانوں کو زمیں بوس کر دیا گیاتو پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے اس معاملہ پر از خود نوٹس لیتے ہوئے توڑ پھوڑ کی کاروائی پر روک لگادی اور حکومت سے اب تک منہدم کئے گئے مکانات ودوکانوں کی فہرست طلب کی مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جن لوگوں کے مکانات گرائے گئے، حکومت اس کی از سر نو تعمیر کرائے گی یا اس کا معقول معاوضہ دے گی، یا یوپی اور مدھیہ پردیش کی حکومتوں کی طرح عدالتی پھٹکار سن کر خاموش ہو جائے گی، کیونکہ ہریانہ کی کھٹر سرکار نے جو انہدامی کاروائی کی ہے اس میں ایسے لوگوں کے بھی مکانات ہیں جن کا اس واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، فلہراگاؤں جو جنگل میں پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے، وہاں کے غریب مسلمانوں کی پوری بستی کو اجاڑ دیا، جہاں کے لوگوں نے تنکا تنکا جمع کرکے آشیانہ تیار کیا تھا، یک لخت بلڈوزر نے سب کو کنکڑ، پتھر اور ملبے میں تبدیل کردیا، انہیں حالات کے پس منظر میں مشور شاعر بشیر بدر نے کہا تھا کہ
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
افسوس اس بات پر بھی ہے کہ اتنے بڑے اقدام سے پہلے حکومت کسی کو نوٹس تک جاری نہیں کرتی، بلکہ اس کو جہاں جہاں مسلم آبادی نظر آئی اجاڑ تی چلی گئی اور بے قصوروں کو مجرم بتا کر دھڑ پکڑ کرتی رہی ہے، جس کی وجہ سے مسلمان خوف ودہشت کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اور جہاں تہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں، دوسری طرف اس فساد کے کلیدی مجرم شر پسند بلا روک ٹوک کے دندناتے پھر رہے ہیں، بلکہ انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اورنعرے بازی کرتے نظر آ رہے ہیں، انصاف کے اس دوہرے پیمانے نے ملک کے عوام کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ نفرت کی سیاست کرنے اور مذہب کا استحصال کرنے والوں نے ملک کو کہاں پہونچا دیا ہے، اگر ملک کا سنجیدہ اور امن پسند طبقہ اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا تو نفرت کی آگ اور اس کی چنگاری سے کسی کا گھر محفوظ نہیں رہے گا، کیوں کہ یہ سب کچھ 2024ء کے عام انتخابات کے لئے ریہرسل کیا جا رہا ہے، اس کے لئے ہوشیار رہئے، بیدار رہئے اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہونچانے کی سعی مسلسل کیجئے۔

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری
شریف پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے