ممبئی لشکر طیبہ معاملہ: اپیل داخل کرنے کے لیے 90 دنوں کے وقت کی پابندی غیر آئینی

  • اس فیصلہ سے این آئی اے کے مقدمات میں ماخوذ سیکڑوں ملزمین کو فائدہ ہوگا۔ ایڈوکیٹ متین شیخ

ممبئی 15/ ستمبر
پاکستانی ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کے توسط سے ہندوستان میں مبینہ دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت گرفتار فیصل حسام علی مرزا کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ میں داخل ضمانت عرضداشت کو عدالت نے ناصرف سماعت کے لیئے قبول کرلیا بلکہ ایک اہم فیصلہ صادر کیا جس کی وجہ سے اس طرح کے مقدمات کا سامنا کررہے دیگر ملزمین کو بھی فائدہ ہوگا۔ عدالت نے ملزم کی جانب سے ضمانت عرضداشت داخل کرنے میں ہونے والی تاخیر کو قبول کرتے ہوئے این آئی اے کے تمام دلائل کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ این آئی اے قانون کی دفعہ 21/ کے تحت نچلی عدالت کے فیصلے کو 90/ دنوں کے اندر ہی چیلنج کرنا ہوگا ورنہ عرضداشت ناقابل سماعت ہوگی۔
ملزم فیصل مرزا قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت عرضداشت داخل کی تھی، عرضداشت داخل کرنے میں 838/دنوں کی تاخیر ہوئی تھی۔اس تاخیر کو ایشو بناکر قومی تفتیشی ایجنسی کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ سندیش پاٹل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی ضمانت عرضداشت ناقابل سماعت ہے کیونکہ عرضداشت داخل کرنے میں قانون میں دی گئی مراعات سے زیادہ تاخیر ہوئی ہے۔ ملزم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ متین شیخ نے دو رکنی بینچ کی جسٹس ریوتی ڈیرے اور جسٹس گوری گوڈسے کو بتایا کہ ملزم کا تعلق نہایت غریب گھرانے سے ہے اور ملزم جیل کے اندر ہونے اور اس درمیان کرونا وباء کی وجہ سے ملزم کی جانب سے ضمانت عرضداشت داخل کرنے میں تاخیر ہوئی لہذا اس تاخیر کو انسانی بنیادں پر قبول کیا جائے، ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ آئین ہند میں دیئے گئے حقوق کے تحت عدالت عرضداشت داخل کرنے میں ہونے والی تاخیر کو قبول کرسکتی ہے، این آئی اے کے وکیل نے ایڈوکیٹ متین شیخ کی درخواست کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور کہا کہ این آئی اے قانون اس کی قطعی اجازت ہی نہیں دیتا کہ 90/ دنوں کے بعد داخل عرضداشتیں قابل سماعت ہیں۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد اس آئینی معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ آباد پونڈا کو ایمکس کیوری (عدالت کے ساتھ کسی قانونی معاملے میں رضاکارانہ تعاون کرنے والا وکیل) مقرر کیا اور پھر فریقین کے دلائل کی تفصیل سے سماعت کی، اس دوران سینئر ایڈوکیٹ آباد پونڈا نے بھی مدلل بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ فوجداری معاملات میں اکثر اپیل داخل کرنے میں تاخیر ہوجاتی ہے اور عدالتیں ان تاخیر کو قبول کرتی ہیں لیکن این آئی اے قانون میں جو وقت کی پابندی لگائی گئی ہے وہ جیل میں مقید ملزمین کو آئین ہند کے تحت حاصل حقوق کے ساتھ زیادتی ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ آباد پونڈا نے عدالت کو مزید بتایا کہ این آئی اے ایکٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہائی کورٹ کو اپیل کی سماعت تین مہینوں میں مکمل کرلینا چاہئے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا، سالوں لگ جاتے ہیں اپیل کی سماعت مکمل ہونے میں لہذا وقت کی پابندی کی جو بات این آئی اے ایکٹ میں کی گئی ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کو اختیارہے کہ تاخیر سے داخل اپیلوں پر سماعت کرسکتی ہے۔اپیلوں کو داخل کرنے میں تاخیر ہونا ایک عام بات ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ شرن جگتیانی نے بھی بطور ایمکس کیوری بحث کی اور ایڈوکیٹ آباد پونڈا کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کیرالا ہائی کورٹ کا تبصرہ غیر آئینی ہے، کیرالا ہائی کورٹ نے 90/ دنوں کے بعد داخل اپیلوں پر سماعت کرنے سے انکا رکرکے ملزمین کے اپیل داخل کرنے کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے جو آئین ہند کے آرٹیکل 21/ کی بھی خلاف ورزی ہے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے 56/ صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا جس میں عدالت نے این آئی اے ایکٹ میں اپیل داخل کرنے کے لیئے دیئے گئے 90/ دنوں کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ اس دفعہ سے ملزمین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایڈوکیٹ متین شیخ نے کہاکہ اس فیصلہ سے ناصرف فیصل مرزا کو راحت حاصل ہوگی بلکہ پورے ملک میں این آئی اے کے مقدمات میں ماخوذ ملزمین کو فائدہ ہوگاکیونکہ ابھی تک کسی بھی ہائی کورٹ نے اس طرح کا تفصیلی فیصلہ صادر نہیں کیا ہے۔
ایڈوکیٹ متین شیخ نے کہا کہ ماضی میں کئی ایک ہائی کورٹ بشمول کیرالا اور کلکتہ نے 90/ دن گذر جانے کے بعد داخل اپیلوں کو سماعت کے لیئے قبول ہی نہیں کیاکیونکہ انہوں نے این آئی اے ایکٹ کو بنیاد بناکر ان اپیلوں پر فیصلہ صادر کردیا لیکن اب چونکہ بامبے ہائی کورٹ نے 90/ دنوں کی پابندی کی تشریح کردی ہے اس فیصلہ کا مثبت اثر پورے ملک میں پڑے گا۔
ملزم فیصل مرزا کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے ہمراہ ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ مسکان شیخ ود یگر پیش ہوئے۔اپیل داخل کرنے میں ہونے والی تاخیر کو قبول کرنے کے ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے