نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت بر صغیر میں بالخصوص ہندوستان میں سب سے مظلوم قوم مسلمان ہے،ایک ایسی مظلوم قوم جس پر حکومت یک طرفہ کاروائی کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں پر بلڈوزر چلانے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی، اور شعائر اسلام مسجد ، مدرسہ وغیرہ کو مسمار کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے ،اس قوم کو مٹانے کی ہر طرح کی سازشیں رچی جارہی رہی ہیں اور ہر سمت نفرتوں اور عداوتوں کے شعلے بھڑ کاۓ جارہے ہیں ؛جس کے نتیجہ میں آج ہندوستان کی سڑکیں اور زمین مسلمانوں کے خون سے لالہ زار ہونے کے درپے ہیں اور آسمان دھواں دھواں ہونے کو ہے، یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی کورچشم بھی انکار نہیں کرسکتا ؛
لیکن سوال یہ ہے کے مسلمانوں پر آخر یہ دن کیسے آیا
جبکہ یہ وہی قوم تھی جب میدان کارزار میں نکلتی تو تعداد میں کم اور ایمانی حرارت سے لیس ہزاروں کا مقابلہ بغیر کسی جنگی ہتھیار اور سازو سامان کے فتح کرلیتی جس کی نظیر اس رؤے زمین پر نہیں ملتی،تاریخ کے اوراق میں فتح مکہ جیسی جنگ عبرت کے لئے کافی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آج یہی قوم مارے مارے پھر رہی ہے، اس کی صاف وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس قوم کے سینے میں توحید کی وہ چنگاڑی باقی نہیں رہی جس کی حرارت سے قلب و جگر کو منور کرکے ایمانی لذت کو محسوس کیا جاتا اور نہ وہ فکر و شعور رہا جس کا استعمال کرکے جنگ پر فتح حاصل کرسکے ،نہ وہ سجدہ میں عشق اور عبادت میں لطف رہا، جو قوم معرکہ آرائ کے لیے جیاکرتی تھی آج وہ بزدلی کا لباس زیب کر چکی ہیں جو قوم اپنے رب کی عظمت کی خاطر اپنی جان قربان کردیا کرتی تھی وہ قوم آج اس رب کا نام لینے میں بھی ڈر محسوس کر رہی ہیں جس قوم کی منفعت اور امتیاز ایک تھی وہ آج فرقوں میں بٹ چکی ہیں
سوال یہ ہے کہ آخر یہ اوصاف و کمالات جو اس قوم سے مفقود ہوچکی ہیں اس کی بازیابی کیسے ممکن ہے؟
افسوس تو اس وقت ہوتا ہیں کہ جب بھی اس قوم پر ناگفتہ بہ حالات آتے ہیں تو عہدوں و مناصب پر بیٹھے اکابر لیٹر پیڈ جاری کرکے یا اپنی خواب گاہ سے بیان اپلوڈ کرکے ان حادثات کا تذکرہ کردیتے ہیں اور اس کے سدباب کے لیے اورادو وظائف پیش کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے کیونکہ دعا کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں ؛ کیونکہ ہر ادیان و مذاھب میں اس کی ایک خاص اہمیت ہے ۔
جبکہ مذہب اسلام ‌نے اسے عبادت کا مغز اور مومن کی ہتھیار قرار دیا ہے اور یہ حقیقت ہیں کہ دعا سے حالات بدل جاتےہیں تقدیریں سنور جایاکرتی ہیں
پر بات یہ ہے کہ روز اول سے یہی لائحہ عمل پیش کیا جارہا ہے اور خوب اس کا پرزور اہتمام بھی کیا جاتا ہیں باوجود اس کے اب تک کوئ بہتر نتیجہ دیکھنے کو نہ مل سکا
آخر کیوں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس سے بدتر حالات دور انبیاء میں آئیں مگر انہونےاس ناگزیر حالات کا سدباب کرنے کے لیے صرف دعا کا سہارا نہیں لیا جبکہ ہم سے کہیں زیادہ وہ فہم دین اور رمز شناس تھے اور بس یہی نہیں بلکہ وہ تومامون عن الخطا اور مستجاب الدعوات تھے
مگر ہاۓ افسوس کے ہمارے قائدین بس ایک ہی چیز کی رٹ لگا تے رہتے ہیں کہ دعا کرو دعا کرو حالات بدل جائں گے اور اسباب پر نہ توجہ دینے اور اور نہ توجہ دلانے کی زحمت کرتے ہیں۔
ان کی اس بزدلانہ اور مردہ ضمیری حرکت پر اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قلب اور فکر و شعور غلام بن چکی ہیں جو صرف تاویلیں گھڑ گھڑ کر قوم کو جھوٹی تسلی دے رہی ہیں
شاید کہ انہیں قائدین کو مخاطب کرکے اقبال نے کہا تھا

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

ترے دین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالمِ پیری

اللہ تعالیٰ ہم تمام لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے۔

تحریر: منظر عالم ویشالوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے