فرقۂ مودودیت اور جماعت اسلامی ہند

دارالعلوم دیوبند کے موجودہ ذمے داروں کا اصرار ہے کہ کہ مودودیت ایک فرقہ ہے ، جو اہلِ سنّت و الجماعت کے مسلک سے خارج ہے اور اپنے طلبہ کو یہ بات بتانی ضروری ہے ، تاکہ جب وہ مدرسہ سے فارغ ہوکر سماج میں جائیں تو عوام کو بھی بہ بات بتاسکیں – وہاں کے ایک مؤقر استاذ نے شعبۂ مناظرہ کے اجلاسِ عام میں مودودیت کے فرقہ ہونے کی دو دلیلیں پیش کی ہیں : ایک یہ کہ مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت قائم کی اور اس سے وابستہ ہونے والوں کو اپنی فکر کی طرف دعوت دی – دوسری یہ کہ انھوں نے جس علاقے میں جماعت کا مرکز قائم کیا اسے ‘دار الاسلام’ کا نام دیا – افسوس کہ یہ دونوں دلیلیں جماعت اسلامی ہند کو ‘فرقۂ مودودیت’ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں – دعوتِ دین اور اصلاحِ معاشرہ کے مقصد سے قائم کی جانے والی جماعت کا نام ‘جماعت اسلامی’ رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ یہ جماعت قائم کرنے والے دیگر تمام جماعتوں کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں – اسی طرح جماعت اسلامی کے مرکز کو ‘دار الاسلام’ نام دینے سے ان کا یہ عندیہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اس دائرے سے باہر رہنے والے تمام لوگ دار الکفر کے مکین ہیں – جب یہ دعوے جماعت اسلامی قائم کرنے والوں نے نہیں کیے تو دوسروں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ انہیں ان کے سر منڈھ دیں – کاش دار العلوم کے مؤقر استاذ ایسی پھسپھسی دلیلیں نہ دیتے –

جماعت اسلامی کو فرقۂ مودودیت کا نام دینا بہت بڑا اتہام ہے – کاش یہ اتہام لگانے والوں کو اس کی سنگینی کا احساس ہوتا – مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کی تشکیل کے وقت اپنی پہلی تقریر میں فرمایا تھا :

” فقہ و کلام کے مسائل میں جو کچھ میں نے پہلے لکھا ہے اور جو کچھ آئندہ لکھوں گا یا کہوں گا اس کی حیثیت امیر جماعت اسلامی کے فیصلے کی نہ ہوگی ، بلکہ میری ذاتی رائے کی ہوگی ….. ارکانِ جماعت کو میں خداوند برتر کا واسطہ دے کر ہدایت کرتا ہوں کہ کوئی شخص فقہی و کلامی مسائل میں میرے اقوال کو دوسروں کے سامنے حجّت کے طور پر پیش نہ کرے….. ان معاملات میں ہر شخص کے لیے آزادی ہے – جو لوگ علم رکھتے ہوں وہ اپنی تحقیق پر اور جو علم نہ رکھتے ہوں وہ جس کے علم پر اعتماد رکھتے ہوں ان کی تحقیق پر عمل کریں – نیز ان معاملات میں مجھ سے اختلافِ رائے رکھنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے میں بھی سب آزاد ہیں – ہم سب جزئیات و فروع میں اختلافِ رائے رکھتے ہوئے اور ایک دوسرے کے بالمقابل بحث و استدلال کرتے ہوئے بھی ایک جماعت بن کر رہ سکتے ہیں – “ (روداد جماعت اسلامی، اول، ص 31)

اس کا مطلب واضح ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان اور وابستگان فقہ و کلام کے موضوعات میں مولانا مودودی کی تمام آراء کو اختیار کرنے کے پابند نہیں ہیں – وہ ان کے ہم خیال نہ ہوکر اور ان سے اختلاف کرتے ہوئے بھی جماعت سے وابستہ رہ سکتے ہیں – اس بات کا اطلاق جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان و وابستگان پر بھی ہوتا ہے ، لیکن جماعت اسلامی ہند کے معاملے میں تو اس کا اثبات بہ درجۂ اولی ہوتا ہے – اس لیے کہ جماعت اسلامی ہند جماعت اسلامی کا تسلسل نہیں ہے ، بلکہ تقسیمِ ملک کے بعد اس کی باقاعدہ تشکیل ہوئی ہے اور اس کا مستقل دستور تیار ہوا ہے – اس کے وابستگان کے بارے میں کوئی فیصلہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان کے تناظر میں کرنا درست نہ ہوگا – یہ صراحت جماعت اسلامی ہند کے ذمے داروں کی جانب سے بار بار کی جاتی رہی ہے – یہاں جماعت اسلامی ہند کے پہلے امیر مولانا ابو اللیث ندوی اصلاحی کی ایک تقریر کا اقتباس پیش کیا جارہا ہے ، جو انھوں نے 1951 میں اجتماعِ رام پور میں کی تھی – انھوں نے بہت صاف الفاظ میں یہ وضاحت کردی تھی :

” ہمیں مولانا مودودی کی ذات یا فقہ و کلام کے بارے میں ان کے شخصی خیالات و افکار سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے – ہمارا اصلی تعلق صرف اس بنیادی دعوت سے ہے جس کو جماعت اسلامی نے بہ طور مقصد کے اختیار کیا ہے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو مولانا مودودی کی ایجاد کردہ ہو ، بلکہ وہ قرآن و سنت کی دعوت ہے اور ہم نے اس کو اسی حیثیت سے قبول کیا ہے کہ خود ہمارے علم نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن و سنت کی دعوت ہے ، نہ اس بنا پر کہ مولانا مودودی نے اس کو پیش فرمایا ہے – ……… بہر حال میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پھر اعلان کرتا ہوں کہ ہمیں اور جماعت اسلامی کی دعوت کو مولانا مودودی صاحب کے سامنے رکھ کر نہ جانچیے ، بلکہ ان کو الگ الگ کرکے غور کیجئے اور پھر کوئی فیصلہ صادر کیجیے ۔ آپ کو مولانا مودودی صاحب کی کسی رائے سے اختلاف ہے تو آپ شوق سے اختلاف کیجئے ۔ ممکن ہے ، تحقیق کے بعد ہم بھی آپ کی تحقیق سے اتفاق کر سکیں ، لیکن اس کی وجہ سے جماعت کی اصولی اور بنیادی دعوت سے اختلاف کرنا تو کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا – “ (جماعت اسلامی کا مقصد اور طریقۂ کار ، ص 58-59)

جماعت اسلامی ہند کی تاسیس کو 75 برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے – اس عرصے میں اس کے اہل علم کی سیکڑوں کتابیں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی اور دیگر مکتبوں سے شائع ہوئی ہیں – جماعت کے مرکزی ذمے داروں کے ہزاروں خطابات سوشل میڈیا پر موجود ہیں – ہم کھلے عام دعوت دیتے ہیں کہ ان کا مطالعہ کرکے اور انہیں چیک کرکے بتایا جائے کہ ان میں دینی و شرعی اعتبار سے کیا کیا انحرافات پائے جاتے ہیں؟ ان میں اہل سنت و الجماعت کے مسلک سے ہٹ کر کیا کیا باتیں کہی گئی ہیں ؟ ہم ان پر غور کرنے اور اگر ہم پر ہماری غلطی واضح ہوگئی تو شرحِ صدر کے ساتھ اس کی اصلاح کرنے کے لیے تیار ہیں –

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جماعت اسلامی ہند کو ملک و ملّت کے تمام طبقات میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے اور اس کا دائرہ بڑھ رہا ہے – اسی طرح تمام دینی مدارس کے فضلاء اس میں شامل ہورہے ہیں اور اگر شامل نہیں ہو رہے ہیں تو بھی اس کے کاموں کو سراہتے ہیں اور اس کی سرگرمیوں کی تائید کرتے ہیں – دار العلوم دیوبند کے کئی سو فارغین جماعت اسلامی ہند کے ارکان میں شامل ہیں اور مختلف سطحوں پر ذمے داریاں بھی نبھا رہے ہیں – ان سے زیادہ تعداد ان فضلائے دار العلوم کی ہے جو جماعت کے باقاعدہ ارکان تو نہیں ، لیکن وہ جماعت کے بہی خواہوں میں سے ہے – محترم مہتمم دار العلوم کے اس اعتراف سے خوشی ہوئی کہ دار العلوم کے احاطے میں بھی خاصی تعداد جماعت اسلامی کی فکر رکھنے والوں کی موجود ہے – اس کا حل یہ نہیں ہے کہ مناظرہ کے مشقی پروگراموں میں تیزی لائی جائے نہ یہ کہ فتنۂ مودودیت ، فرقۂ مودودیت ، مسلک سلف سے انحراف ، گم راہ کن تعبیرِ دین ، متوارث اسلام سے بغاوت اور جدید اعتزال جیسے الزامات لگائے جائیں – کیوں کہ ایسا کرنے سے جماعت اسلامی ہند کا منفی تعارف نہیں ہوگا ، بلکہ سوچنے سمجھنے والے غور و فکر کی طرف مائل ہوں گے اور ان کا غور و فکر انہیں جماعت سے اور قریب کرے گا –

ازقلم: محمد رضی الاسلام ندوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے