ستیندر اور عائشہ کی لو اسٹوری

تحریر: خالد سیف اللہ صدیقی

ایک ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو میں سب سے پہلے ایک برقع پوش عائشہ نامی ایک لڑکی اور ایک تلک دھاری اور بھگوائی بردہ انداز ستیندر نامی شخص نظر آتا ہے۔ ستیندر فون کرتا ہے ، اور اپنے چچا سے کہتا ہے کہ چچا ، میں ستیندر بول رہا ہوں ، میں مسلمانوں کی لڑکی کو بھگا کر لایا ہوں ، مسلمان مجھے مار ڈالیں گے ، وہ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔ میرے گھر والوں کو بھی پولیس اٹھا کر لے گئی ہے۔ ہم چار روز سے ایک جنگل میں ہیں۔ چچا ، آپ ہم کو بچا لو!
کچھ دیر بعد چچا آ جاتا ہے۔ وہ دونوں کو دیکھ کر تعجب کرتا ہے۔ ستیندر کو کوستا ہے ، برا بھلا کہتا ہے۔ ستیندر پھر اپنی اور عائشہ کے پیار کی کہانی سناتا ہے۔ اس کے بعد چچا ان دونوں کو وہیں کہیں ایک گھر پر لے جاتا ہے ، اور بہ طور خاص عائشہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ یہ ہمارا ہی گھر ہے ، تم اس میں کچھ دنوں تک رہو ، میں تمہاری ہر طرح سے دیکھ بھال کروں گا۔
اس کے بعد چچا عائشہ کی طرف متوجہ ہوتا اور اس سے کہتا ہے : عائشہ! تو بتا ، اگر کل کو ستیندر پر کچھ پریشانی آئے ، اسے مارا پیٹا جائے ، تو تو کیا کرے گی ؟ کیوں کہ دس مسلمان اور دس ہندو کل تمہیں مارنے کو آ سکتے ہیں ، بتاؤ ، کل تم کیا کروگی ؟ عائشہ نے کہا : چچا! سب سے پہلے تو میں یہ چاہوں گی کہ یہ جو ان کے گھر والوں کو پولیس نے اٹھا لیا ہے ، سب سے پہلے انہیں پولیس والے چھوڑ دیں! دوسری بات چچا یہ ہے کہ اگر ہم دونوں کے پیار کی وجہ سے ہمارے پریوار والے پریشان ہوں ، تو ایسے پیار کا کیا فائدہ ہے! اس سے اچھا تو گھر ہی جانا ہے۔ ایسے پیار کا کیا فائدہ!
چچا عائشہ کی بات سننے کے بعد ستیندر سے مخاطب ہوتا ہے ، اور کہتا ہے : اچھا اس کا تو میں نے سن لیا ، اب تو بتا ، تو کیا چاہتا ہے ؟ ستیندر ذرا پر پرسکون اور پر اطمینان ہوتا ہے ، اور کہتا ہے : چچا جی ، میں عائشہ سے پیار کرتا ہوں ، سچا پیار کرتا ہوں۔ ہم بچپن سے عید پر ان کے گھر پر جایا کرتے تھے ، اور یہ ہولی اور دیوالی پر ہمارے گھر کھیلنے آیا کرتی تھیں۔ میں نے تو ان سے پیار کیا ہے ؛ لیکن لوگوں نے تو تماشا بنا دیا ہے۔
اس کے بعد چچا مستی میں آتا ہے ، اور کہتا ہے : ارے مورکھو! ایک بات تو بتاؤ!
پھر چچا زور زور سے دونوں کو یہ اشعار نما فقرے سناتا ہے:

پکارا سنکھ نے جس کو
اذاں نے دی صدا جس کو
وہی ہے رام ہندوؤں کا
مسلماں کہتےہیں خدا جس کو

پھر کہتا ہے : ارے ، ہندو اور مسلماں ؛ ایک گلاب اور ایک کمل ہے۔ ادھر آب جم جم(زم زم) ، تو ادھر آب گنگا۔
پھر چچا مسکان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ ارے ، آج سے سب نیک ہو جاؤ ، ہندو مسلماں سب ایک ہو جاؤ!
پھر عائشہ چچا سے مخاطب ہو کر کہتی ہے : چچا جی ، اس گھر میں ہم لوگوں کو کوئی پریشانی تو نہیں ہونے کی؟

چچا جوش میں آ جاتا ہے ، اور کہتا ہے : اور سنو ، تم نے مجھے چچا کہا ہے ، میں چچا کا نمونہ بن کر دنیا کو دکھا دوں گا۔ پھر کہتا ہے : میں ہندو بھی ہوں ، میں مسلمان بھی ہوں ، میں بھارت بھی ہوں ، میں پرتھوی بھی ہوں ، میں آسمان ہوں ، سب ہمارے اندر ہیں ، کوئی ہندو مسلمان نہیں ہے۔
یہ ویڈیو غالبا فرضی تھی ؛ مگر ایسی چیزوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں یا تو کسی جہالت کی بنیاد پر بنائی گئی ہیں یا کسی سازش کے تحت بنائی گئی ہیں۔ اور ویڈیو بنانے والا بھی غالبا کوئی غیر مسلم ہی ہوگا۔
ایسی چیزوں کے ذریعے یہ پیغام عام ہوتا ہے کہ انسانیت اور انسان دوستی سب سے اہم اور سب سے مقدم ہے۔ مذہب اور مذہبی حدود و قیود ان انسانی نسبتوں اور رشتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ؛ لیکن شرعی اور اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے ، تو یہ چیزیں بالکل باطل قرار پاتی ہیں۔ انسانیت یا انسانی اخوت و اخوہ پن بعد کی چیزیں ہیں ، سب سے اہم اور سب سے مقدم دین اور مذہب ہے۔ انسانیت اور انسانی اخوت و محبت کے سبب مذہب اور مذہبی حدود و قیود کو نہیں توڑا اور چھوڑا جا سکتا ، ہاں ، اس کے برعکس بالکل کیا جا سکتا ہے۔
ہندو اپنے آپ کو ہندو اور مسلمان ؛ دونوں کہیں ، تو یہ ان کی مرضی کی بات ہے ؛ لیکن کوئی مسلمان اس طرح کی باتیں اپنی زبان سے نہیں نکال سکتا۔ مسلمان صرف اور صرف مسلمان ہیں۔
اس طرح کی چیزوں سے یہ پیغام بھی عام ہوتا کہ مسلم لڑکیاں اگر ہندو سماج کا حصہ بننا چاہیں ، تو گوکہ ان پر کچھ پریشانیاں آ سکتی ہیں ؛ لیکن انہیں بے یار و مددگار اور بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا ، ان کو تحفظ ، پناہ اور نگہ داشت فراہم کی جائے گی۔
مسلمان ، ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس طرح کے اخوت و انسانیت پر مبنی غیر اسلامی نظریات و کردار پر اپنی برہمی اور بے اطمینانی کا اظہار کرے! اسے ہر صورت میں ناقابل قبول قرار دے! اپنی اولاد اور نسل و نژاد کو بھی یہی بتائے کہ ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم اور سب سے مقدم دین اور ایمان ہیں ، باقی تمام چیزیں بعد کی اور ثانوی حیثیت کی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے