مروجہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی خرابیاں!

مروجہ جو انگریزی و عصری علوم و فنون کے اسکول ، کالج اور یونی ورسٹیاں قائم ہیں ، ان میں بڑی خرابیاں ہیں۔
پہلی خرابی تو یہ ہے کہ ان میں عام طور سے مخلوط نظام تعلیم قائم ہوتا ہے ، جو کہ شرعی و عقلی دونوں اعتبار سے نادرست ہے۔ شرعی اعتبار سے تو اس لیے کہ شریعت میں لڑکیوں اور عورتوں کے لیے پردے کا حکم ہے ، اور اس میں اس حکم کی کھلے عام پامالی ہوتی ہے۔ عقلی اعتبار سے اس لیے کہ عقل بے پردگی و برہنہ پن کی قائل نہیں ہے۔ وہ فتنہ و فساد اور معاشرے میں بد نظمی ، بد اطواری اور بے ضابطگی کی روا دار نہیں۔ بے پردگی در اصل فتنوں کی بنیاد اور جڑ ہے۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ وہاں کے ماحولوں میں شرم و حیا اور عفت و عصمت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ شرم و حیا سے بالکل خالی و عاری ماحول ہوتے ہیں۔
تیسری خرابی یہ ہے کہ جب لڑکے اور لڑکیاں باہم مل جل کر پڑھتے ہیں ، تو ان میں باہم دوستیاں ، یاریاں اور ناجائز تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ سب کچھ ہوتا ہے ، جو بیان نہیں کیا جا سکتا۔
چوتھی خرابی یہ ہے کہ اگر اسکول یا کالج میں غیر مسلم لڑکے بھی پڑھتے ہوں ، تو بہت سی مسلم لڑکیوں کی ان سے یاریاں ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ باہم غلط اور ناجائز طور پر رہتے ہیں ، اور کچھ لڑکیاں پھر اپنے ان غیر مسلم دوستوں(بوائے فرینڈز) کے ساتھ بھاگ کر یا چپکے سے یا ماں باپ کی مرضی کے خلاف شادیاں کر لیتی ہیں ، پھر والدین بے چارے روتے رہتے ہیں ، اور وہ معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہ پاتے۔
پانچویں خرابی یہ ہے کہ اگر اسکول ، کالج یا یونی ورسٹی غیروں کی ہو ، تو بہت سی دفعہ ایمان و اسلام اور شعائر اسلام پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ان اسکولوں اور کالجوں میں خلاف ایمان و اسلام مضامین پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں۔ کھلے عام دین ، شعائر دین اور شعائر اسلام پر فقرے بازی ، ناروا تبصرے اور طنز و تنقید کیا جاتا ہے۔ نتیجتا بہت سے مسلم ذہن بچے اور بچیاں اسلام و شعائر اسلام کے تئیں بد ظن ہو جاتے ، اور بہت سے فکری طور پر اور کچھ فکری و عملی ، دونوں طور پر مرتد بھی ہو جاتے ہیں۔(العیاذ باللہ)
یہاں پر اقبال کا وہ شعر یاد آتا ہے ، جس میں انہوں نے فرمایا تھا :

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

یہ چند خرابیاں ہیں ، جو آج کے ہمارے مروجہ اسکولوں ، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں پائی جاتی ہیں۔
افسوس کہ اتنی کچھ خرابیوں کے باوجود بھی مسلمان اپنے بچوں کے لیے اسلامی اسکول کالج قائم نہیں کرتے ، اور ہوش میں نہیں آتے۔

ازقلم: خالد سیف اللہ صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے