مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اپنی تصنیفات کے آئینے میں

(ان کا حسب و نسب)
ان کا خاندانی پس منظر "ہندومت” تھا یا "شیعیت؟”

شیخ الاسلام مولاناسید حسین احمد مدنی رح کا شمار دیوبند کے بہت بڑے اکابرین میں ہوتا ہے. شیخ الہند مولانا محمود الحسن (رح) کے شاگرد اور مولانا رشید احمد گنگوہی رح کے مرید تھے. 1879 میں پیدا ہوئے اور 1957 میں 78 سال کی عمر میں انتقال کیا. 1954 میں انہیں بھارت کے قومی ایوارڈ "پدما بھوشن” سے بھی نوازا گیا. 2012 میں انڈیا پوسٹ نے ان کے یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کئے.
مولانا مدنی رح اکابرین دیوبند میں سے وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے انگریزی اقتدار کے خلاف مزاحمت کو قوی تر بنانے کی ایک وقتی سیاسی ضرورت کی خاطر، تیرہ صدیوں سے چلے آنے والے امت مسلمہ کے #اجماعی_عقیدے کو پس پشت ڈال کر اپنا یہ بیانیہ ڈکلئیر کیا کہ:
"قومیں دین کی بنیاد پر نہیں بلکہ وطن کی بنیاد پر وجود میں آتی ہیں، چنانچہ ہندوستان میں رہنے والے تمام مذاہب کے ماننے والے بالخصوص مسلمان اور ہندو ایک ہی ملت ہیں.”

ان کی اس سنگین غلطی کا فوری ردّ نہ صرف #علامہاقبال رح نے اپنے اشعار کے ذریعے کیا (جو ارمغان حجاز میں” حسین احمد” کے عنوان سے موجود ہے) بلکہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رح نے بھی ان کی کتاب” اسلام اور متحدہ قومیت” کے جواب میں اپنی کتاب” مسئلہ قومیت” لکھ کر دلیل و برہان سے اس کا توڑ کیا اور شرعی نصوص سے ثابت کیا کہ اسلام ایک ملت ہے اور کفر اس کے مقابلے میں سراسر دوسری ملت. یہاں تک کہ خونی رشتوں میں بندھے مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث بھی نہیں بن سکتے اور نہ ہی مسلمان اور کافر آپس میں ضم ہوکر کبھی ایک قوم بن سکتے ہیں. مولانا مودودی کی شرعی دلائل سے پُر اس کتاب "مسئلہ قومیت” نے مولانا مدنی رح کے "متحدہ قومیت” کے غبارے کی ساری ہوا نکال دی. مسلمانوں نے بالعموم اور مسلم لیگ نے بالخصوص اس کتاب کو #تحریکپاکستان کی تقویت کیلئے پورے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر پھیلادیا. مولانا مدنی رح اور کانگریس کے سیاسی مفادات کو اس کتاب سے بڑی زک پہنچی. جس کی وجہ سے مولانا مدنی رح، مولانا مودودی رح سے شدید ناراض ہوگئے. حالانکہ ایک عالم دین ہونے کی حیثیت سے ان کو اپنی اس فاش غلطی پر نظرثانی کرکے اپنی رائے سے رجوع کرلینا چاہئے تھا. لیکن جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ ‘علماء میں حسد و رقابت کا جذبہ بہت عام ہوا کرتا ہے، انہوں نے اس معاملے میں صحابہ کرام اور سلف صالحین کا اتباع کرکے ایک صائب رائے کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے ذاتی رنجش کا مسئلہ بنالیا. اور پھر جب 1941 میں مولانا مودودی نے #جماعت_اسلامی کی بنیاد رکھی تو ان کا یہ قدم دوسرے "اکابرین” سمیت مولانا مدنی رح کو بھی بہت ناگوار گزرا اور جوش غضب میں ان کے ضبط کے سارے ہی بندھن ٹوٹ گئے چنانچہ انہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رح پر بے دریغ کفر و ضلالت کے فتوے لگانے شروع کئے. ان فتووں میں علمی دلیل کم، نفرت اور تعصب زیادہ جھلکتا ہے. ان کی کتاب”مکتوبات شیخ الاسلام” کا ایک بڑا حصہ انہی مواد سے بھرا ہوا ہے. حالانکہ دین کا کام منظم و مربوط طریقے سے کرنے کیلئے ہر صاحب علم کو اجتماعیت قائم کرنے کا قانونی و شرعی حق حاصل ہے. بہرحال فتویٰ بازی اور اعتراضات کے معاملے میں ان کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اور مولانا مودودی کا موقف جاننے کی زحمت کئے بغیر ان کے متبعین نے بھی اس کو اپنا مستقل وطیرہ بنالیا. جس کی بنیاد سراسر بغض اور حسد و رقابت کا جذبہ تھا (جوکہ ہم خود ان کی کتاب سے آگے ثابت کریں گے). ایک اسلامی احیائی تحریک کی مخالفت میں یہ ان "شیخ الاسلام” کا بویا ہوا وہ شجر خبیثہ ہے جو آج 80 سال بعد بھی پاک و ہند میں اپنے زہریلے پھل ٹپکا رہا ہے، مولانا مودودی رح اور جماعت اسلامی نے تحریک اقامت دین، دین حق کے غلبے اور ادیان باطلہ کی شکست کا جو جامع، علمی و منطقی تصور پیش کیا اور عملی پروگرام ترتیب دیا تھا اس میں بہت بڑا رخنہ پڑگیا. نہ تو ان حضرات نے خود دین کے غلبے کیلئے کوئی سنجیدہ نوع کی "جامع کوشش” کی اور نہ ہی جماعت اسلامی کو یہ کام کرنے دیا بلکہ جاہل عوام کے ذہنوں میں مولانا مودودی اور ان کی برپا کی ہوئی اسلامی تحریک کے متعلق بے سروپا الزامات و اعتراضات کے وقتاً فوقتاً مہمات کے ذریعے شکوک و شبہات پیدا کئے گئے اور اسی کو "دین کی اصل خدمت” سمجھ لیا گیا (اناللہ وانا الیہ راجعون) اور یوں #پاکستان روز بروز نظامِ اسلامی کے نفاذ سے دور ہوتا چلا گیا.

میرے ان دنوں مولانا حسین احمد مدنی رح کی خود نوشت سوانح عمری #نقش_حیات کے اوریجنل ایڈیشن یعنی 1953 کا ری پرنٹ زیر مطالعہ ہے جسے 80ء کی دہائی میں دارالاشاعت کراچی نے شائع کیا ہے. مارکیٹ میں آج کل اس کا تحریف شدہ ایڈیشن ہی مل سکتا ہے. میں نے سوچا ذرا دنیا کو ایک جھلک دکھا دینا چاہئے کہ جو لوگ مولانا مودودی پر کفر و ضلالت، شیعیت اور رافضیت کے الزامات کے تیر "فری پیکیج” سمجھ کر برسا رہے ہیں وہ خود کیا ہیں اور ان کے اکابرین کا حسب نسب کیا ہے؟ کیا وہ دودھ کے دھلے ہیں؟ کیا خود ان کی کتابیں واقعی خرافات و کفریات سے مبرا ہیں یا انہوں نے اپنی غلاظتوں کی طرف لوگوں کی توجہ کو مبذول ہونے سے روکنے کیلئے مولانا مودودی کو ہدف لعن طعن بنایا ہوا ہے؟ یا پھر یہ (بہ استثناء چند زعماء) جماعت اسلامی والوں کی "مجرمانہ چشم پوشی” بلکہ بے حمیتی ہے جو وہ 80 سالوں سے چپ کا روزہ رکھ کر اسلامی تحریک کے ساتھ ہوتا کھلواڑ برداشت کرتے آرہے ہیں؟؟؟

تحریر : ڈاکٹر مختار احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے