اڑیسہ کا المناک ٹرین حادثہ

درجنوں کٹی پھٹی لاشیں ہیں،ہر طرف آہ و بُکا کی صدا ہے۔الگ الگ رنگ کے کپڑوں میں لپٹی ہوئ لاشیں بہت ہی کم صحیح و سالم حالت میں ہے۔غم و اندوہ سے لبریز 50 یا 51 سال کا آدمی ان لاشوں سے کپڑے اٹھا اٹھا کر دیکھتا جا رہا ہے،شدت سے کچھ تلاش کر رہا ہت،وہی ایک صحافی اپنے نیوز چینل کے لۓ نیوز بنانے کے لۓ Video Recording کر رہا ہے،اس نے پوچھا بڑے بھائ(دادا) آپ کس کو تلاش کر رہے ہیں؟
مغموم انسان آنکھوں‌‌ سے آنسوؤں کے دریا کو صاف کرتے ہوۓ جواب دیتا ہے اپنے جوان بیٹے کو،
صحافی پوچھتا ہے ملا؟ ’نہیں ملتا ہے۔
ایک مسافر کا دردناک بیان!
میں نے ایک زوردار آواز سنی۔ٹرین سے بہت مشکل سے باہر نکلا تو دیکھا مال گاڑی دوسری ٹرین پر چڑھ گئی تھی۔میرے ٹرین کے بہت سے ساتھی زخمی ہو گۓ،کچھ کے ہاتھ تو پیر ٹوٹ گۓ ہیں،بہت سے ٹرین کے ساتھی مر چکے ہیں۔چاۓ پینے کے لۓ جب دوسرے ڈبے میں کیا تھا ماں و باپ کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا فیملی مر چکی ہے، چھوٹا بچہ رو رہا تھا اس معصوم کو یہ پتہ بھی نہیں کے والدین مر چکے ہیں۔ وہ بچہ بھی کچھ دیر بعد مر گیا۔بہت سے لوگ پانی مانگ رہے تھے۔جتنا ممکن ہوسکا،آس پاس کے لوگوں کی مدد سے میں نے پانی پلایا۔گاؤں کے لوگ یہاں آئے اور جتنی ہو سکی مدد کی،ان لوگوں نے بنا بھید بھاؤ کی سب کی مدد کی۔یہ حادثہ بہت خوفناک تھا۔دنیا کے سب سے بڑے ریلوے نظام کا دم بھرنے والی اس نکمی بھارت سرکار کے پاس مرنے والوں کے آخری رسومات کے لۓ باوقار اور احترام کے پیش آنے کا آلات تک بھی نہیں ہے۔تین ٹرینوں کے خوفناک تصادم میں کم از کم 288 افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہو گئے۔اس حادثے میں بنگلورو-ہاؤڑا سپر فاسٹ ایکسپریس، شالیمار-چنئی سنٹرل کورومنڈیل ایکسپریس، اور ایک مال ٹرین شامل تھی۔کورومنڈل ایک بہت تیز رفتار ٹرین ہے جو چینئی تک جاتی ہے۔

ایک ریل گاڑی دوسری ریل گاڑی سے اتنی زور سے ٹکرائی کہ بوگیاں ہوا میں اونچی ہو کر مڑگئ اور پٹریوں سے ٹکرا گئیں۔ایک اور گاڑی ٹکرا کر مکمل طور پر ایسا لگا کہ دوسری ریل گاڑی کی چھت پر پھینک دی گئی ہو،جس سے مسافروں کے بوگی والے حصے پوری طرح کچل گۓ۔
واضح رہے کہ انڈین ریلوے نے کاوچ ٹیکنالوجی سسٹم لگایا ہے جو دو ٹرینوں کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ کو روکتی ہے،اور ٹرین خودبخود رک جاتی ہے،انڈین ریلوے کے 19 زون ہیں جن میں سے صرف دو میں یہ متعارف کرایا گیا ہے اور وہ بھی سینٹرل اور ایسٹ سینٹرل زون میں اور یہ حادثہ جنوب مشرقی زون میں ہوا ہے۔اس کے علاوہ 16 زون اور بھی ایسے ہیں جہاں یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔

مرنے والوں کی دبی کچلی لاشوں کو اس طرح سے ٹرک میں ڈالا جا رہا تھا جیسے وہ کوئی فالتو کچرا یا بے کار سا سامان ہو۔اس حادثے کو دیکھ کر حکومت سے گزارش ہے کہ ریلوے نظام کو تباہ کرنے والوں کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔غفلت کیسے ہوئی کہ اتنا بڑا حادثہ ہوا،اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔چند نا اہل لوگوں نے ٹرین کے نظام کے حالات کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔

آخر میں!
وزیر اعلیٰ بنگال محترمہ ممتا بنرجی نے اتوار کے روز اوڈیشہ کے بالاسور میں ٹرپل ٹرین حادثے میں وزارت ریلوے کی طرف سے دیے گئے موت کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی ریاست کے 61 افراد ہلاک اور 182 لاپتہ ہیں۔محترمہ بنرجی نے سوال کیا کہ وندے بھارت کے انجن درست تھے تو اتنا المناک حادثہ کیسے ہوگیا؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایک ریاست سے 182 لاپتہ ہیں اور 61 کی موت کی تصدیق ہوئی ہے،تو بھارت سرکار کے اعداد و شمار کہاں تک صحیح اور درست ہیں؟
وہی کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے ٹوئٹر پر کہا، "مودی حکومت سے سوال، شاید آزاد ہندوستان کے سب سے ہولناک ٹرین حادثے کے بعد۔ اشتہارات اور پی آر کی چالوں نے حکومت کے کام کرنے والے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔” انہوں نے مرکز پر نوکریوں کو پُر نہ کرنے کا الزام لگایا جس کی وجہ سے "افرادی قوت کی کمی” ہے۔ "ریلوے میں 3 لاکھ عہدے خالی ہیں، بڑے افسروں کے عہدے بھی خالی ہیں، پی ایم او میں بھرتیاں، 9 سال میں کیوں نہیں بھری گئیں؟
بی بی سی کے نمائندے دلنواز پاشا سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی جے شنکر گپتا نے کہا کہ ’یہ حکومت اور اس کے وزرا کسی قسم کا اخلاقی دباؤ محسوس نہیں کرتے۔ یہ بدقسمتی ہے۔ پہلے لال بہادر شاستری نے استعفیٰ دیا تھا، نتیش کمار نے بھی استعفیٰ دیا تھا، بعد میں انھوں نے اسے واپس لے لیا تھا۔ پہلے لوگ ذمہ داری محسوس کرتے تھے لیکن اس حکومت میں یہ اخلاقی ذمہ داری نظر نہیں آتی۔اتنے بڑے حادثے کے بعد وزیر ریلویز کو استعفیٰ دے دینا چاہیے اور انکوائری کا اعلان کرنا چاہیے۔

ازقلم: ریاض فردوسی۔9968012976

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے