حزب اختلاف کو ایک ساتھ کئی محاذ پر لڑنا ہے

مہاراشٹر میں نئے سیاسی ہلچل نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے لئے حالات مشکل کر دیے گئے ہیں۔لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں کے لئے یہ سب حسب توقع ہے۔راشٹروادی کانگریس پارٹی سے بھتیجے اجیت پوار اور اُن کے ساتھ جانے والے ایم ایل اے جیل جانے کے بجائے بی جے پی سے ہاتھ ملا کر حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔شرد پوار ایک منجھے ہوئے سیاستدان سمجھے جاتے ہیں اور ان کے ہی بھتیجے کو جانچ ایجنسیوں نے گھیرے میں لے لیاہے لیکن بی جے پی کے ساتھ ہو جانے کے بعد اجیت پوار اور ان کے ساتھ مہاراشٹر کی حکومت میں شامل ہونے والے راشٹروادی کانگریس کے دوسرے ایم ایل اے کی جانچ اب ٹھنڈے بستے میں چلی جائیگی۔اب باغی ممبران اسمبلی کو نہ ای ڈی کی نوٹس ملے گی نہ سی بی آئی کی ۔
پٹنہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی کامیاب میٹنگ کے بعد میٹنگ میں موجود سبھی حزب اختلاف کے رہنماؤں کو معلوم تھا کہ اب بی جے پی خاص کر مودی اور امیت شاہ کسی بھی طرح حزب اختلاف کے اتحاد کو سبوتاژ کرنے کے لئے جانچ ایجنسیوں کا استعمال بھر پور طریقے سے کریں گے ۔بی جے پی کو لگتا ہے کہ حزب اختلاف کو توڑ پھوڑ کر کے 2024 میں پھر سے مرکز میں اپنی حکومت تشکیل کر لیں گے ۔
راہل گاندھی سمیت ملک کے سبھی حزب اختلاف کی جماعتوں کو 2024 کا لوک سبھا چناؤ اُنکے وجود کی لڑائی بن چکی ہے ۔حزب اختلاف کے رہنما اگر بی جے پی کے ساتھ چناؤ لڑتے ہیں تو چناؤ بعد بی جے پی اپنے اتحادی جماعتوں کو ہی ہڑپ لیگی اور بی جے پی کے خلاف چناؤ میں حزب اختلاف کی جماعتیں مل کر چناؤ لڑتی ہیں تو اس بات کے امکان ہیں کہ اُنہیں جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ پریشان کیئے جائیں گے لیکن جانچ ایجنسیوں کے خوف سے باہر آ کر اگر حزب اختلاف کی جماعتیں اتحاد کر بی جے پی سے ایک کے سامنے ایک کے فارمولہ پر چناؤ لڑتی ہیں تو بی جے پی کو شکست دینا ممکن ہے ۔لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں کو بی جے پی ،ٹی وی اور پرنٹ میڈیا ،جانچ ایجنسیاں ،ای وی ایم مشین ، سسٹم میں اونچے عہدے پر بیٹھے بی جے پی حمایتی اونچی ذات کے ہندوؤں سے اور وہٹساپ یونیورسٹی کے جھوٹے پروپیگنڈا سے ایک ساتھ ایک مشکل لڑائی لڑنا ہوگا۔پھر بی جے پی کے پاس پیسے کی بھی کمی نہیں ہے ۔الیکٹرول باؤنڈ کا نوّے فیصدی بی جے پی کو جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم اور دوسرے مرکزی وزراء پورے سال الیکشن موڈ میں ہی رہتے ہیں ۔ایسے میں حزب اختلاف کے لئے کامیابی کے راستے بے شک دشوار ہیں لیکن نا ممکن نہیں ہے ۔کانگریس اور راہل گاندھی نے کرناٹک میں وزیر اعظم کے سبھی حربے کو ناکام بناتے ہوئے جیت حاصل کی تھی ۔آنے والے پانچ ریاستوں کے چناؤ میں بھی بی جے پی کی حالت اچھی نہیں ہے کیونکہ عوام مہنگائی،بے روزگاری ،مہنگے علاج اورمہنگی تعلیم سے پریشان ہیں ۔بد عنوانی بے حساب بڑھ چکی ہے ۔ایسے میں عوام بی جے پی کے مقابل جماعتوں کو تلاش کر رہی ہے ۔ویسے بھی 63 فیصدی عوام مودی کا جادو جب سر چڑھ کر بول رہا تھا تب بھی بی جے پی کے خلاف تھی اور اب مودی کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے ایسے میں بی جے پی جوڑ توڑ کر ہی چناؤ جیت سکتی ہے ۔
وزیر اعظم مودی اور شاہ جانتے ہیں کہ حکومت سے باہر اگر اُنکی جماعت ہوتی ہے تو اس کا مطلب کیا ہے ۔اسلئے کسی بھی طرح بی جے پی حکومت سے بے دخل نہیں ہونا چاہتی ہے ۔لیکن پانچ ریاستوں کا چناؤ جو اس سال کے آخر میں ہونے والا ہے اس میں بی جے پی تین ریاستوں میں بھی شکست کھا جاتی ہے تو وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کو اپنی ہی جماعت میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑیگا۔اسلئے آنے والے دس مہینے ملک کے سیاسی گلیارے میں آئے دن کچھ نہ کچھ ہلچل دیکھنے کو ملے گی ۔
وزیر اعظم مودی جیسے جیسے جانچ ایجنسیوں کو سرگرم رکھے گی دوسری جانب کسی نہ کسی معاملے کو لیکر مودی سرکار کے خلاف بڑے بڑے آندولن شروع ہونے کے امکان ہیں۔2024 کی لڑائی آر پار کی لڑائی ہے۔دیکھتے ہیں مودی تیسری بار چناؤ جیت کر اس ملک کے راجہ بن جاتے ہیں یا پھر شکست کھاکر جھولا اٹھا کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

تحریر: مشرف شمسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے