مفکر اسلامؒ کے چند ادھورے خواب ….! (تیسری قسط)

(گزشتہ سے پیوستہ مضمون میں دو ادھورے خوابوں کی طرف اہل بصیرت کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی ،ایک آئز ہاسپیٹل کے قیام کی طرف اور دوسرا ،نئی نسل کی منظم ومسلسل اور مربوط تربیتی جہت کی طرف۔)
(4)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج کی قسط میں ادھورے خوابوں کے حوالوں سے اس پہلو کو بھی شامل کیا جانا ضروری ہے کہ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ موجودہ ہندوستان میں نئی نسل کے لئےدین داری کے ساتھ معیاری عصری تعلیم کو لازم قرار دیتے تھے ،وہ اس کے لئے حیدرآباد ،مہاراشٹر ،بنگلور ،پٹنہ،دربھنگہ،مظفر پور،مونگیر ،کشن گنج ،ارریہ ،سہرسہ ،سوپول اور بیگوسرائے سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بسنے والے علم دوست ،اہل ثروت اور سنجیدہ فکر مند علمی وسماجی رضاکاروں سے رابطہ کر انہیں رحمانی تھرٹی سے ہم آہنگ ،دیندارانہ موحول میں معیاری عصری تعلیم کے اداروں کے قیام کے لئے ابھارتے رہتے تھے ،مسلمانوں بالخصوص نئی عمر کے بچے بچیوں کی تعلیم کی راہ سے وہ غیر معمولی فکر مند رہتے تھے ،ان کے جملوں سے درد ،کڑھن ،بے چینی ،کرب و لگن کا ایسا اظہار ہوتا کہ سامنے والا متآثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔ ایک مرتبہ بہت ہی خاص مجلس میں ایک جاننے والے سے فرمایا کہ :
” میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا ذہن مسلمانوں کی قابلیت ،نئی پود کی علمی ودینی پوزیشن اور بے چاری عوام کی مالی مشکلات سے ناواقف ہوگا ،انسانیت کی بنیاد پر کمزوروں کو سہارا دینا بھی عبادت ہے ،علم کا فروغ صدقہ جاریہ بھی ہے اور کمال دین داری بھی ۔آپ کے علاقے میں کتنے ایسے افراد ہوں گے جو اس ذہن کے ساتھ ملت کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہوں ،آپ ماشاء اللہ حاجی بھی ہیں اورنمازی بھی ،نہلے پر دہلا کہہ لیجئے کہ حق حلال کی روزی بھی کھا کمالیتے ہیں ،کچھ نہ کچھ ملت کے غریب مسلمانوں کا بھی خیال رکھنا اور وابستہ احباب ہے ذہن کو اس اہم خدمت وعبادت کی طرف موڑنابھی ، کرنے کے ضروری کام ہیں "
حضرت مولانا کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے ۔اس راہ سے” ایکسیلنس اسکول ” کا قیام بھی ان کا ایک خواب تھا ،وہ انگریزی میڈیم ایکسیلنس اسکول کے لئے بہت حد تک تیاری بھی کر چکے تھے ،وہ معیاری عصری تعلیم کو جگی جھوپڑی کی شکل میں شروع کرنے کے قائل نہ تھے ،بلکہ اس کے لئے وہ "باضابطہ تعمیراتی ” ذوق کے مالک تھے ،اسی پس منظر میں ایکیلنس اسکول کی خوبصورت عمارت انہوں نے رحمانی فاؤنڈیشن کے احاطے میں بنوائی تھی ،مگر اس کا افتتاح اپنے ہاتھوں جیتے جی نہیں کرسکے ۔وہ زبانی بیان بازی کی بجائے عملا کام کرکے دکھانے کا ذہن رکھتے تھے ،اسی لئے وہ ایکسیلنس اسکول کا جال پھیلانے سے قبل بہ طور نمونہ ایک عددایکسیلنس اسکول مونگیر میں قائم کر نے کے بعد ملت کے رضاکاروں کے سامنے تعلیم و تربیت کا "معیار وانداز ” پیش کرنے کی جد وجہد کررہے تھے ۔مگر اس درمیان ہی وہ یہ کہتے ہوئے چل بسے کہ

چلو آ با د ر ہے گی د نیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم ساہوگا

ایکسیلنس اسکول کی تحریک بھی ایک اہم کام ہے ،حضرت نے ملت اسلامیہ ہندیہ کی تعلیم وترقی اور ملکی سطح پر اس کے مقابلے کے لئےایکسیلنس اسکول کی سمت میں جو منفرد اور کامیاب خواب دیکھا تھا ،وہ خواب ،خواب ہی رہ گیا ،امید ہے حضرت رحمۃ اللہ کی تحریکات سے وابستہ اور گہرے مراسم رکھنے والے زندہ دل صاحب خیر اس رخ پر بھی کام کو مضبوطی فراہم کریں گے۔
(5)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا کو لکھنے پڑھنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم تھی اور منفرد اسلوب نگارش کے حامل تھے ،ان کی تحریریں بہت سے قابل قدر افراد کو گرویدہ کرتی تھیں، وہ زود نویسی اور خوب نویس تھے ،اخبارات ورسائل ان کی تحریر یں شامل اشاعت کر حوصلہ پاتے تھے ،الفاظ وجملے ان کے قلم کےگرد گویااپنی باری کا انتظار کررہے ہوتے تھے،ملی وسماجی تقاضوں کی وجہ سے بہت سی مرتبہ چاہ کر بھی وہ نہ لکھ پاتے تھے ،مگر جو کچھ بھی جس موضوع پر وہ لکھ دیتے ،دستاویزی تحریر ہوتی تھی ،وہ اکثر مختصر لکھنے کے قائل تھے ،عربی فارسی زدہ عبارتوں ،طویل مقدموں ،اور غیر مانوس تعبیرات سے ان کی تحریریں پاک ہوتی تھیں ، اگر سماجی و ملی تقاضوں اور مختلف سطح کے اسفارسے انہیں فرصت مل گئی ہوتی تو وہ قانوں وسنت ،علم ومعاش،اقتصادیات ،اخلاقیات اور دیگر اچھوتے موضوعات پر وہ کثیر التصانیف مصنف ہوتے ۔ انسانی خدمتوں کی مصروفیت کے باوجودزندگی کے بہت سے تجربوں اور ظلمت شب کی آبلہ پاقیادتوں سے درآنے والے احساسات کو وہ قلم بند کرنا چاہتے تھے ،مگر

"اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا "

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اپنی قلمی امانتوں اور ضرورتوں پر جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
” میں مطمئن ہوں کہ جتنی کچھ صلاحیت ملی تھی اس کا بھر پور استعمال کیا ،میں کئی سمتوں میں کام کرتا رہا ہوں ،اور اپنی کار کردگی سے مطمئن ہوں ،یہ صحیح ہے کہ بعض چیزیں میں لکھنا چاہتا تھا ،جس کا موقع اب تک نہیں ملا ،اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو یہ کام بھی ہوگا "
بڑا حوصلہ بندھا تھا جب وہ لاک ڈاؤن کے دوران محترم ڈاکٹر وقارالدین لطیفی ندوی زید مجدہ کے تعاون سے "قلمی گنج گراں مایہ ” کو بہت حدتک محفوظ کررہے تھے اور ایک بڑا حصہ مرتب فرمایا تھا ،پتہ نہیں حضرت کے وصال کے بعد بیتے دنوں میں بھی وہ”قلمی سرمایہ ” محفوظ ہے یا نہیں ،بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ وہ فائل ہی” سارق ” کی نظر ہوگئی،اللہ کرے کہ یہ معلومات حرف غلط کی طرح غلط ہوں اور وہ جلد یا بدیر زیور طبع سے آراستہ ہوکر ملت اسلامیہ کی آنکھوں کا سرمہ بنے۔امید ہے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ہونہار جانشین ،مقربین و محبین اس جہت پر بھی ان کے ادھورے خواب ومنصوبے کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کامیاب کوشش فرمائیں گے۔

تحریر: عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ بیگوسرائے

(جاری )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے