فکاہیہ: چمچے

ہاں تو صاحب ۔۔آج کل چمچوں کا زمانہ ہے ۔۔مختلف قسم کے ۔۔چھوٹے بڑے ،چپٹے ،لمبے ،چوڑے ۔۔دیگ سے لیکر ہانڈی تک ۔پتیلے سے لے کر پتیلی تک ان کی پہنچ ہے ۔ہر دھات میں ہر گھات میں ملیں گے حتیٰ کہ چوبی چمچوں نے بھی اپنی جگہ باورچی خانے میں بنالی ہے ۔۔کہا جاتا ہے ہر امیر زادہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتا ہے ۔۔پھر اس کے اطراف چمچوں کی بھیڑ اکٹھا ہوجاتی ہے ۔
صاحب کے خوشامدیوں کو بھی ۔۔دبے الفاظ میں چمچہ اور ببانگ دہل۔۔صاحب کا خاص آدمی پکارا جاتا ہے ۔۔کسی کی حیثیت کا اندازہ اس کے چمچوں کی بھیڑ سے لگایا جاسکتا ہے ۔۔یہ دراصل برساتی مینڈک ہوتے ہیں ۔۔چڑھتے سورج کے پجاری ۔۔زوال کے ساتھ ہی کائی کی طرح بکھر جاتے ہیں ۔۔۔کام یا تو تعلقات سے ہوتے ہیں یا زر کی برسات سے ۔۔مگر کچھ کام چمچے بحسن خوبی کر دیتے ہیں ۔۔چرب زبان ،موقع شناس ،کائیاں قسم کے چمچوں کا ڈیمانڈ زیادہ ہے ۔۔واضح ہو چمچہ خالی برتن میں اپنے جوہر نہیں دکھاتا ۔۔۔ان چمچوں میں صاحب شناسی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی موقع کا برمحل استعمال کوئی ان سے سیکھے۔
چمچوں نے ہر صاحب اقتدار اور صاحب حیثیت کے عروج و زوال میں کلیدی رول ادا کیا ہے ۔۔پہلے درباری چمچے ہوا کرتے تھے اب سرکاری ہوتے ہیں ۔وقت کے ساتھ نمک خواری و وفاداری بھی بدلتی رہتی ہے ۔۔ہٹلر کو عظیم ۔۔مسولینی کو رجیم بنانے ۔۔ٹیپو اور سراج الدولہ کو تخت سے دستبردار کرنے والے گھر کے بھیدی دوغلے چمچ۔۔اور فی زمانہ ۔۔میڈیا میں گھسے جدید چمچے ۔۔۔۔ان جدیدیوں کو کس قسم کے چمچے کہیں ؟؟؟؟۔۔فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں !!!

ڈاکٹر ارشاد خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے