گلبانگِ سحر بن جاتی ہے ساون کی اندھیری رات یہاں

اس کار گاہِ عالم میں انسانیت کی بود وباش ابو البشر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی، اُن ہی سے انسانیت کی رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری ہوا، خداوند قدوس نے اس عالم کو وجود بخشنے کے بعد اس میں طرح طرح کی مخلوقات کو وجود بخشا اور سب کو انسانوں کا خادم بنادیا۔ انسانوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے نہ جانے کتنی مخلوقات روز پیدا ہوتی اور اپنا فریضہ ادا کرکے فنا کے گھاٹ اترجاتی ہیں۔ خود انسان بھی آتے جاتے اور خدائی دستورِ اساسی پر عمل پیرا ہوکر موت کے راستے سے پردۂ عدم میں جاکر چھپ جاتے ہیں۔
انسانیت کی رہنمائی کا یہ سلسلۃ الذہب سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر خاتم الانبیا وسید المرسلینﷺ تک چلا اور پھر آخرکار وہ سلسلہ بھی منقطع ہوگیا؛ لیکن ابھی انسانی زندگی کو بقا تھی اور جب تک قیامت نہیں آجاتی، تب تک اس کی رہنمائی کی ضرورت برقرار رہے گی، اسی لیے اللہ رب العزت نے اس کا بھی انتظام فرمادیا، کہ حضرت محمد ﷺ کی امت اجابت کے علمائے کرام کو العلماء ورثة الانبیاء کی بھاری ذمہ داری سونپ دی گئی اور قیامت تک آنے والی امت کے لیے رہنمائی ورہبری کا سامان مہیا فرمادیا۔
اور علمائے کرام کو رہبری ورہنمائی کا فریضہ سونپا گیا ہے، تو وہ تیار کیسے اور کہاں سے ہوں گے؟ظاہر ہے کہ اُن کے لیے کوئی غیبی نظام اور خرقِ عادت کوئی مخفی سلسلہ نہیں ہے، جہاں سے وہ تیار ہوکر لوحِ کائنات پر رونما ہوجائیں۔ واضح ہے کہ اس کے لیے ابتدائے اسلام ہی سے تعلیم وتعلم کا راستہ ہی اختیار کیا گیا ہے، امت کے علمائے کرام نے جہاں ملت کی رہنمائی ورہبری کا فریضہ دوسروں کو صحیح راستہ اور اَوامر کے امتثال اور نواہی سے اجتناب کی راہ دکھا کرانجام دیا، وہیں رجال سازی ومردم گری کی بیش قیمتی خدمت بھی انجام دی، اور جہاں یہ علمائے کرام تعلیم پاتے ہیں، وہ مراکز علم ودانش اور میکدۂ عشق ومعرفت کہلاتے ہیں، اسی کی ایک اہم اور بنیادی و اساسی کڑی جو کہ ام المدارس کے نام سے موسوم ہے جو دار العلوم دیوبند کہلاتی ہے۔ جہاں علم وعشق کے میکدوں کی تاریخ بڑی طویل ترین، نہایت ہی پُربہار، جذّاب، دل نشیں اور روشن وتابناک ہے، وہیں انتہائی اہمیت کی حامل، لائق التفات اور قابل توجہ واعتنا بھی۔ ہر دور میں مراکز علم ودانش کی ایک بڑی تعداد رہی ہے، جہاں سے علم ومعرفت کے سوتے پھوٹتے ہیں، حکمت وبصیرت کے آبشارے اپنی مکمل رعنائی وزیبائی اور تابانی کے ساتھ بہتے ہیں، فہم وفراست اور ذکاوت وذہانت کی ندیاں نکلتی ہیں، انسانیت سازی، مردم گری اور ذرہ کو آفتاب وماہتاب بنانے والی ہوائیں چلتی ہیں، الفت ومحبت، اخوت وبھائی چارگی، اتحاد ویک جہتی، ملکی وملی اور قومی اقدار وروایات کے تحفظ، تہذیب وتمدن اور ثقافتوں کی حفاظت کے راستے کھلتے ہیں۔
الغرض! ذہن ودماغ کے بند دریچے کھلتے، سنورتے اور نکھرتے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام ہم وطنوں کے لئے بہت مشکل وقت وہ تھا، جب بادشاہوں، راجاؤں اور نوابوں کی حکومت ختم ہوئی اور برطانیہ نے اپنا پنجۂ اقتدار گاڑنا شروع کر دیا، ۱۷۵۷ء میں انگریزوں کی توسیع پسندانہ تحریک شروع ہوئی اور بنگال اور میسور سے ہوتے ہوئے ۱۸۵۷ء میں دہلی پہنچی اور مغلیہ حکومت کا ٹمٹماتا ہوا چراغ پوری طرح بجھا دیا گیا، ۱۸۵۷ء کے بعد سے نوے سال یعنی ۱۹۴۷ء تک انگریزوں کے اقتدار کا سورج پوری آب وتاب کے ساتھ وطن عزیز کے طول وعرض پر چمکتا رہا؛ اگرچہ ملک کے مختلف حصوں میں بعض ہندو راجاؤں اور مسلمان نوابوں کی مملکتیں ابھی بھی باقی تھیں ؛ لیکن عملاََ ہر جگہ انگریزوں کا اقتدار قائم تھا، یہ حکومتیں انگریزوں کے غلام اور اہل وطن کے لئے آقا کا درجہ رکھتی تھیں۔ انگریزوں نے اقتدار کی مدت کو طویل تر کرنے، اپنے قبضہ کو مستحکم کرنے اور مستقل طور پر ہندوستان کو اپنے زیر قبضہ رکھنے کے لئے سیاسی غلبہ کے ساتھ ساتھ عیسائیت کی تبلیغ کی جدوجہد شروع کر دی؛ اگرچہ عیسائی مشنری کا نشانہ ہندو اور مسلمان دونوں تھے؛ لیکن ہندوؤں کی پست اقوام میں ان کو زیادہ کامیابی حاصل ہوئی اور مسلمان ان کے عزم وارادہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے؛ اس لئے انھوں نے اسلامی عقائد، پیغمبر اسلام علیہ السلام کی ذات والا صفات، اسلامی قوانین اور قانون شریعت کے مصادر قرآن وحدیث نیز مسلمانوں کی تاریخ کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا اور حد یہ ہے کہ اس کام کے لئے دروغ گوئی کرنے، جھوٹ بولنے اور لکھنے میں بھی کسی تکلف سے کام نہیں لیا، مزید ستم یہ ہوا کہ آریہ سماجی فرقہ نے بھی مسلمانوں کی مخالفت میں فکری اعتبار سے ان کی مدد کی، اب مسلمان ایک طرف انگریزوں سے نبرد آزما تھے اور دوسری طرف آریہ سماجیوں سے، اس صورت حال میں اللہ کے کچھ نیک بندوں نے ایک نسخۂ کیمیا دریافت کیا، یہ نسخہ تھا حکومت کی مدد اور اس کے اثر سے آزاد دینی مدارس کے قیام کا ،اُن کا احساس تھا کہ مدارس ایک ایسا فکری کارخانہ ثابت ہوں گے، جن سے تسلسل کے ساتھ تحفظ اسلام کے لئے افرادی قوت حاصل ہو سکے گی، جو اسلام کی ترجمانی اور دفاع کا فریضہ پوری قوت اور دینی غیرت وحمیت کے ساتھ انجام دیں گے اور حکومت کے اثر سے آزاد ہونے کی وجہ سے کوئی طاقت ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکے گی، اسی جذبہ کے تحت دارالعلوم دیوبند اور مختلف مدارس کا قیام عمل میں آیا، اس بات کو قطعی طرو پر مبالغہ آرائی پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ آج برصغیر میں اگر دینی شعور باقی ہے تو وہ مدارس اسلامیہ کی ہی رہین منت ہے، تاریخ کے سینہ میں مسلمانوں کے عروج و زوال، حکومت و محکومیت، ترقی و تنزل، عزت و ذلت کے لاتعداد واقعات محفوظ ہیں،ہر زمانے میں مسلمانوں کو جن جاں گسل حالات سے گزرنا پڑا تاریخ پر سرسری نظر رکھنے والا شخص بھی بہتر طور پر جانتا ہے، اسلام کے دشمنوں نے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی، سرکاری پیمانے پر بھی اور غیر سرکاری طریقے پر بھی اسلام کے وجود کو عدم میں تبدیل کردینے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا؟ غرض مسلمانوں پر تباہ کن حالات اور ایسی قیامتیں گزریں کہ اگر وہ کسی دوسری قوم کو چھوکر بھی گزر جاتیں تو اس کے ظاہری و باطنی نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیتیں؛ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب کبھی بھی ملت اسلامیہ پر برے حالات نے گھیرا تنگ کیا اور ناسازئ حالات کی تیز و تند آندھیوں نے اسلام کے وجود کو چیلنج کیا تو اللہ رب العزت نے ملت اسلامیہ کی پاسبانی کے لئے اپنے چیدہ اور چنیدہ بندوں کی ایسی جماعت کو میدان میں اتار دیا کہ جس نے ہر محاذ پر اور ہر میدان میں دین اسلام کے تشخص کی بقا اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کےلئے عدیم النظر خدمات انجام دیں اور ان کے ہاتھوں سے وجود میں آنے علمی والے تعلیمی ادارے اور دینی مدارس آج بھی حفاظت دین کا کار عظیم انجام دے رہے ہیں۔ ان سب میں سر فہرست دار العلوم دیوبند ہے، بقول بعض برادران وطن کے
آج اسلام دار العلوم دیوبند سے پھیل رہا ہے نہ کہ سعودی عرب سے۔

خدمات دار العلوم دیوبند:

دارالعلوم دیوبند عالم اسلام کا مشہور دینی و علمی مرکز ہے۔ بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کا یہ سب سے بڑا ادارہ اور دینی علوم کی تعلیم کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے ہر دور میں ایسے باکمال فضلاء تیار ہوکر نکلے جنھوں نے وقت کی دینی ضرورت کے تقاضوں کے مطابق صحیح دینی عقائد اور علوم دینیہ کی نشر و اشاعت کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یہاں کے فضلاء برصغیر اور بر صغیر کے باہر تقریباً پوری دنیا میں علمی و دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہر جگہ ان کو ممتاز حیثیت سے مسلمانوں کی دینی رہ نمائی کا مقام حاصل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند تیرہویں صدی ہجری کی ایک عظیم دینی ، تعلیمی اور اصلاحی تحریک تھی جس نے احیائے اسلام اور تجدید دین کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔ یہ وقت کی ایسی ضرورت تھی کہ جس کی عدم تکمیل کی صورت میں ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے لیے وجود و بقا کا مسئلہ پیش آجاتا اور شاید اسپین کی طرح مسلمان بر صغیر کی تاریخ کا ایک قصہٴ پارینہ بن کر رہ جاتے؛ لیکن دارالعلوم دیوبند کی اس دینی و اصلاحی تحریک نے نہ صرف ہندوستان کو دوسرا اسپین بننے سے بچا لیا، بلکہ اس کی کوششوں سے ہندوستان میں قال اللہ و قال الرسول کے وہ زمزمے چھڑے کہ قدیم اسلامی مراکز کا سماں بندھ گیا اور ہندوستان میں اسلامی علوم و معارف کا ایسا چرچا ہوا کہ پوری مسلم دنیا میں اس کی گونج سنائی دی۔
دارالعلوم دیوبند نے ہندوستان میں نہ صرف دینی علوم اور اسلامی قدروں کی بقا و تحفظ کے زبردست اسباب فراہم کیے ہیں؛ بلکہ اس نے تیرہویں صدی ہجری کے اواخر سے ملت اسلامیہ ہند کی دینی، معاشرتی اور سیاسی زندگی پر بہت دور رس اور نتیجہ خیز اثرات ڈالے ہیں۔ علمائے دیوبند کے دینی و علمی تبلیغی و تصنیفی کارناموں کا بر صغیر ہی میں نہیں؛ بلکہ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی بارہا اعتراف کیا گیا، خصوصاً ارشاد و تربیت اور تدریس و تبلیغ کے میدانوں میں یہ سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ دارالعلوم کے غلغلے سے افغانستان اور بخارا و سمر قند تک کی علمی مجلسیں گونج اٹھیں۔ یہ ایک مستند تاریخی حقیقت ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا یہ چشمہٴ فیض اپنی خصوصیات کے ساتھ تشنگان علوم کو سیراب کرنے میں ایک صدی سے زائد مدت سے مصروف ہے، اور پورا ایشیا بلکہ سارا عالم اس چمنستان نبوت کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی انہی دینی، علمی اور فکری سرگرمیوں نے اسے دنیائے اسلام کی نگاہوں کا مرکز بنادیا ہے۔
دارالعلوم دیوبند صرف ایک تعلیم گاہ ہی نہیں بلکہ در حقیقت ایک تحریک ہے، ایک مکتب فکر اور ایک بحر بیکراں ہے۔برصغیر کے اطراف میں جس قدر دینی مدارس اس وقت موجود ہیں ان کے اساتذہ تقریباً بلا واسطہ یا بالواسطہ دارالعلوم ہی کے فیض یافتہ ہیں اور ہر سال سیکڑوں طلبہ یہاں سے فارغ ہوکر درس و تدریس ، وعظ و تبلیغ اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ سے اشاعت دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اب تو یوروپ و امریکہ اور افریقہ وغیرہ تک یہ سلسلہ پھیل چکا ہے۔ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے بقول: کہ میں نے چھ بر اعظم کا سفر کیا ہے میں جہاں بھی جاتا تھا بالواسطہ یا بلاواسطہ دار العلوم دیوبند کا فیض وہاں پاتا۔
دارالعلوم دیوبند نے مسلمانوں کی فکر و نظر کو تازگی و پاکیزگی، قلب کو عزم و حوصلہ اور جسم کو قوت و توانائی بخشنے میں بڑا کام کیا ہے۔ اس کا فیضان عام ہے ، اس سے ایسے بے شمار لوگوں نے اپنی علمی تشنگی بجھائی ہے ، جن کے علمی شوق کو پورا کرنے کے لیے اسباب مہیا نہ تھے۔ اسی کے ساتھ دارالعلوم کے نقش قدم پر بہت سے علمی اور دینی چشمے جاری ہوگئے جن میں سے ہر چشمہ اپنے افادہ و فیضان کا ایک خاص دائرہ رکھتا ہے۔ یہ سب اسی نظام شمسی کے ستارے ہیں جن کی روشنی سے برصغیر میں مسلمانوں کی علمی و دینی زندگی کا گوشہ گوشہ روشن ہے۔ ان دینی مدارس سے لاکھوں مسلمان گھرانوں کی حالت سدھر گئی، مسلمانوں کا احساس کمتری دور ہوا اور ان کی بدولت ملت کو ایسے بے شمار افراد میسر آگئے جنھوں نے حالات اور وقت کے مطابق زندگی کے مختلف گوشوں میں مسلمانوں کی رہ نمائی کی۔جہاں جہاں دارالعلوم کے نقش قدم پر قائم ہونے والے دینی مدارس صحیح خطوط پر سرگرم عمل ہیں ، وہاں اسلام کی حیثیت اور مسلمانوں کی ملی خصوصیات بڑی حد تک محفوظ ہیں۔
دارالعلوم دیوبندنے بر صغیر کے مسلمانوں کی دینی زندگی میں ان کو ممتاز مقام پر پہنچانے کا بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ نہ صرف ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارہ ہے بلکہ ذہنی نشو و نما ، تہذیبی ارتقاء اور ملی حوصلہ مندیوں کا ایسا مرکز بھی ہے جس کے صحیح علم اور بلند کردار پر مسلمانوں کو ہمیشہ بھروسہ اور فخر رہا ہے۔ جس طرح عربوں نے ایک زمانے میں یونانیوں کے علوم و فنون کو ضائع ہونے سے بچایا ، اسی طرح دارالعلوم دیوبند نے اس زمانے میں علوم اسلامیہ کی حفاظت و ترقی اور بالخصوص علم حدیث کی جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ اسلام کی علمی تاریخ میں ایک عظیم کارنامے کی حیثیت رکھتی؎

پتھر سےکہو دن کو نہ ہم رات کہیں گے
ہم شیشہ صفت لوگ ہیں حق بات کہیں گے ہیں۔

تحریر: محمد ریحان ورنگلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے