خدا را دل آزاری سے بچیں!

ازقلم:شہزادہ آصف بلال سنگرام پوری
دنیا میں ہر انسان اپنے نام و نمود اور شہرت کی خاطر مرتا ہے اپنے اپنے اعتبار سے عزت کمانا چاہتا ہے کہیں کوئی تعلیمی میدان میں عروج حاصل کرکے کہیں کوئی انسانیت کا پیغام عام کرکے اور آج کل لاک ڈاؤن کے اس سخت ماحول میں یومیہ مزدور اور غریبوں کی امداد زیادہ سے زیادہ لوگ کرکے عزت و شہرت کما رہے ہیں اور امداد اچھی چیز ہے مگر رسما اور رواجا لوگ یہ طریقۂ کار اپناۓ ہوئے ہیں کہ لوگوں کی مدد کرتے وقت تصاویر وغیرہ نکالتے ہیں اپنی طمانیت قلبی اور نفس کی بھوک مٹانے کی خاطر لوگ ایسا کرتے ہیں مگر کیا انھوں نے اس چیز کا ذرا بھی خیال کیا کہ کل جب ان تصویروں کو وہ غریب لوگ اپنے بچوں کے درمیان دیکھیں گے تو کیا ان کا دل پاش پاش نہیں ہوگا کیا ان کے بچوں کے ذہن میں یہ بات نہیں آئےگی کہ کاش آج میرا باپ بھی امیر ہوتا تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا
           کیونکہ
                       والد غنی ہو چاہے کسی کا غریب ہو
                           اولاد کے لئے تو وہی بادشاہ ہے
غور کرنے کا مقام ہے کہ اک طرف مدد کرکے اس کے اجر کی تلاش میں ہیں مگر دوسری جانب دل شکنی ہو رہی ہے جس سے خسارہ ہی خسارہ ہے 
                 اپنی عزت ہے ہر کسی کو عزیز
                    غیر کو بے نقاب کرتے ہیں
یہی حال آج پورے عالمِ انسانی کا بنا ہوا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ جس طرح اپنی عزت پیاری ہے اسی طرح کسی کی عزت کا مذاق مت بنائیں جس سے نہ ہی کسی کی دل شکنی ہوگی نہ ہی کسی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے