لاک ڈاؤن اور ہماری زمہ داریاں

تحریر: الحاج عبداللہ عارف صدیقی
اس وقت ہمارے ملک میں پچاس دنوں سے لاک ڈاؤن ہے روز مرہ معمولات کے ساتھ مسجدوں میں ایک ساتھ نماز نہیں پڑھنے پر پابندی عائدہےاور یہ پابندی صرف ہمارے لئے نہیں بلکہ اس ملک میں رہنےوالے
سبھی مذاہب کے لوگوں پرہے، خاص کر قوم مسلم کےعظیم تہوار شب برات عظیم مہینہ رمضان المبارک میں شب قدر الوداعی جمعہ، اور عید بھی لاک ڈاؤن 4 کے نذر ہورہاہے افسوس ہے کہ شب قدر الوداعی جمعہ اور عید سعید سے بھی لوگ محروم ہورہے ہیں، وزیر اعظم ہند نے ادھر لاک ڈاؤن 4 کے لئے کچھ نئے نرالے قانون کے ساتھ عوام کے لئے رعایتیں دینے کا اعلان کیاہے ادھر مرکز اہل سنت بریلی شریف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مرکز کو چاہیئے کہ شب قدر الوداعی جمعہ اور عید کے لئے موقع دے تاکہ سوشل ڈیسٹینس کے ساتھ امت مسلمہ عبادت کرسکیں، یہ صحیح بھی ہے یہ رات اور جمعۃ الوداع عید جس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں مسلمان سب سے مقدس گھر مسجد میں عبادت کرکے روروکرکے دعا کرینگے جس سے اس وقت ہمارا ملک جس وبائی مرض کورونا سے دوچار ہے اس کا خاتمہ ہوگا، ہمارے علماء ومفتیان کرام آج اس عید کے سلسلے میں آپس میں الجھے ہوئے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے درمیان گھروں میں عید کی نماز کیسے پڑھیں، افسوس ہے رویت ہلال کا مسئلہ ہویا جمعہ اذن عام کے تحت کا مسئلہ اسی میں سب الجھے ہوئے ہیں، موجودہ حالات سے باخبر ہونے کے باوجود بےخبر ہوکر امت مسلمہ کو الجھائے ہوئے ہیں، اگر سوشل ڈیسٹینس کے ساتھ امت مسلمہ عبادتیں کرسکتی ہیں یا عید کی نماز مسجد یا عیدگاہ میں ادا کرسکتی ہے تو احتجاجی طور پر حکومت ہند کو باور کیاجائے اور اس کی پابندی نہیں کرسکتے توجیسے عبادت کرتے آئے ہیں اسی طرح سے اپنے گھروں میں ہی عبادتیں کریں، بدنامی مول لینے سے کوئی فائدہ نہیں، اس عید کی خریداری پر سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، مگر اس وقت ہماری قوم کی بہو بیٹیاں نقاب پہن کر عید کی خریداری کررہی ہیں اس اعلان کا کتنا اثر ہورہاہے سرپیٹنے کو جی چاہتا ہے ل گ بھوکے مررہے ہیں خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، کئی عورتیں بیوہ ہو چکی ہیں ،کتبے بچے یتیم ہوچکے ہیں، ان کا کوئی خیال نہیں، مدارس اسلامیہ پر تالے پڑنےکی امیدیں ہیں، ایسے وقت میں بھی چھوٹے بڑے مدرسے کہہ کر مادرعلمی، مشربی، تعصب وتنگ نظری کی عینک آنکھوں پرلگا کر قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچارہے ہیں، تعصب تنگ نظری کا عینک اتار کر سب مل جل کر کوئی فیصلہ کریں تاکہ قوم مسلم بدنام نہ ہو اور اس ملک میں عزت کی زندگی گزاری جاسکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے