اب وقت آگیا ہے کہ عمومی طور پر یہ سوال کھڑا کریں_!!

تحریر: شاہ خالید مصباحی
 کل الہ آباد ہائی کورٹ نے اذان کا لاوڈ اسپیکر سے ہونے کے متعلق ، اس بیس پر اپنا فیصلہ سنایا کہ  اذان یہ اسلام کا حصہ ہے لیکن لاوڈ اسپیکر سے اذان دینا یہ اسلام کا حصہ نہیں__ 
   اس لیے لاوڈ اسپئکر کو بند کیا جائے کیونکہ  یہ فضائی آلودگی پیدا کرنے میں مدد کررہا ہے ____
  میں مانتا ہوں کہ 
*فضائی آلودگی کا مسئلہ ،  آج  بھارت میں ایک سنگین مسئلہ  بن چکا ہے جس کا   برا اثر لازمی طور سے  صحت پر پڑ رہا ہے   جیسے سماعت کی کمی یا خرابی ، تناؤ کی بڑھتی ہوئی سطح ، طرز عمل اور ذہنی پریشانیوں  ، دل کی بیماریوں ، ہائی بلڈ پریشر—-  وغیرہم ۔*
   لیکن افسوس! 
         ممبران کورٹ ، اور ایوان بالا و اسفل میں بیٹھنے والے کچھ بد دیانت افسران اور  صاحب کوتاہ فکر و نظر نے اس کے 
اصل وجہ کے تلاش کرنے اور حقیقت تک کے رسائی پر  بے نظر ، اور  بے جا تعصب پرستی ، مسلم دشمنی نے اصل حقیقت سے انہیں  اندھا کردیا ہے _ 
   کہ اب  ہر اس مسئلے پر ریسرچ صرف اس غرض سے  ہوتی ہے ، جو مسلم کمیونٹی سے بیلونگ کرتا ہے ، 
نیچا دکھانا اور پستیوں میں دکھیل کر اپنی برسوں کی تربیت پائی ہوئی ظلم و جبر کے تلواروں اور بندوق کی گولیوں کو جانچنا ، پرکھنا اور برسانا  اور سچ کہوں تو  اسی کو  اپنے مذہب کی شانتی کی دلیل _ اور اپنے زندگی کا مقصد بھی قرار دیتے ہیں 
کیا یہی اصل حقیقت ہے ؟ 
  ہاں! اس  جمہوری ملک میں  اسی کو وطن کی اصل حقیقت بناکر  اپنے کٹر پنتی اور مسلم دشمنی کے تئیں ملک عزیز کو خطرے میں ڈالے جانے کا کام کیا  جارہا ہے _ 
  *مین مدا مائک ، فضائی آلودگی نہیں!!*
     بلکہ اصل نشانہ _اسلام اور مسلمان ہے ۔ 
  ہاں!  یقینا اگر ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو فکر وطن اور شہری باشندوں کی صحت کا ہے _ 
تو آلودگی پھیلانے والے  ملک کے بڑے بڑے ذرائع پر پابندی عائد کیوں نہیں کی جاتی____؟ 
قارئین کرام!! 
آئیے بتاتا چلوں کہ 
   *آلودگی کا 51٪ صنعتی آلودگی کی وجہ سے*،
*27٪ گاڑیوں سے ، 17٪ فصل جلانے سے*
*اور 5٪ دیوالی آتش بازی سے ہوتا ہے۔*
لیکن  حکومت کی چولیوں میں بیٹھے ہوئے افسران نے اس پر کبھی ڈپڈیا کی _ ؟ 
اور سخت سے سخت تنبیہات و ہدایات کے احکامات جاری کیے  
    اگر یقینا آپ منصف مزاج اور حق گو ہیں _ 
تو ملک میں دیوالی کی اتش بازی سے  پھیلتے ہوئے پانچ  فیصد  فضائی آلودگی کی ذمہ دار تہوار پر بین  کیوں نہیں لگایا جاتا ہے __ ؟؟ 
     آخر کیا مائک کا استعمال صرف مسجدوں میں ہوتا ہے ؟ 
  یا مندر ، چرچ ، گرجا گھر میں استعمال کی جانے والی  مائیکروسوفٹ سے فضائی آلودگی پیدا نہیں ہوتی؟؟؟ 
        عجب تماشہ حکمت ہے!! 
رات و رات مندر کا مائک چالو رہتا ہے  
فضائی آلودگی کی بڑھوتری کا کوئی مسئلہ نہیں لیکن ایک ، دو منٹ اذان کے لیےمائک کیا چالو ہوتا ہے ——- فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہونے لگتا ہے   ۔ 
    اور حد ہے کہ ممبران کورٹ اور ٹی بی کے اینکروں کا ٹمچریچر بھی ہائی ہونے  لگتا ہے _ 
*I agree but  honorable sir, your announcement should be usually… that in India  bain the Microsoft generally not specified with  any one community*….. 
          میں اتفاق رکھتا ہوں آپ کے فیصلے سے
 کہ مائک رو سوفٹ وئیر جو فضائی آلودگی کو بڑھانے میں اضافہ کر رہا ہے ، انڈیا میں عمومی طور پر بین ہونا چاہیے _
 نا کہ کسی مذہب،  رنگت ، نسل اور جماعت کو آڑ میں لے کر اس کے لیے ہی خاص  کورٹ کا  فیصلہ سنایا جائے 
 کیوں کہ اس طرح کے قوانین نہ صرف جمہوری ملک کو زخمی کرتے ہیں بلکہ وطن عزیز کی اعلی شان و پہچان  رکھنے والی گنگا جمنی تہذیب و ثقافت پر بھی داغ ہے  
     اور ضرور حکومت کو فضائی آلودگی کے تعلق سے سخت احکامات جاری کرنا چاہیے—– 
  کیونکہ
         فضائی آلودگی سے  ہر سال 2 ملین ہندوستانی کی قبل از وقت اموات میں معاون ہوتی ہے۔_ 
    &

nbsp;   لیکن  اب تو مسلمانوں کے کہے جانے والے قائدین ، لیڈران اور حساس طبقے کو  اپنے خلاف کی جانے والی سازش کا پردہ ضرور بے نقاب کرنا چاہیے  _ 

اور  بد امنیاں ، نفرتیں پھلانے والے قوانین کے خلاف جم کر مہم چلانا چاہیے ___ 
اور قوم مسلم کا ہر فرد اس کا ذمہ دار ہے __ کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ —- 
  ورنہ اگر ایسے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے —-
     تو یاد رکھو!! 
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے