اگر رسول اللہﷺ کی ذات سے محبت ہے تو اُن کے مشن اور دعوت سے بھی والہانہ محبت ہو : مولانا الیاس خان فلاحی

جماعت اسلامی ہند ممبئی شہر کی جانب سے عوام الناس کے لیے موجودہ حالات، مشرکانہ سماج اور ہمارا اپروچ پر اجتماع عام

3 جولائی ، بروز اتوار
جامع مسجد کُرلا پائپ روڈ

جماعت اسلامی ہند ممبئی شہر کی جانب سے عوام الناس کے لیے موجودہ حالات، مشرکانہ سماج اور ہمارا اپروچ پر اجتماع عام 3 جولائی بروز اتوار ظہر تا عشاء بمقام جامع مسجد کُرلا پائپ روڈ میں منعقد کیا گیا۔درسِ قرآن سے پروگرام کا آغاز ہوا پھرضمیر الحسن خان نے دعوت اور ہمارا اپروچ پر بات کی۔اپنی گفتگو میں دعوتِ دین کے مشن سے با ضابطہ تعلق، اللّٰہ تعالیٰ کی محبت کے حصول اور سیر حاصل گفتگو کی ۔اگلا عنوان شخصیت کا کرائسس پر راشد خان نے واضح کیا کہ سماج کے معاشی،سماجی سطح پر اپنا رول کیا ہو،مقصد زندگی،ملک کے دیگر لوگ اور طبقات کے ساتھ رول پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ۔مشرکانہ سماج میں مشرکین کو کھلے عام شرک کرتے دیکھ کر ہمیں کوفت ہو رہی ہے یا نہیں اور اُسے دیکھ کر محاسبہ بھی کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

ایشوز پر ردّعمل معظم نائیک نے اپنے مشاہدے سے کہا کہ موجودہ ایشوز میں تعلیم یافتہ اور علم رکھنے والے افراد بھی جاہلانہ ردّعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ضروری ہے کہ معقول انداز میں اور حکمت کے ساتھ اپنی بات کو تمام ہی ذرائع (میڈیا) کا استعمال کرتے ہوئے منضبط طرز میں پہنچانا چاہیے۔

"یا ایہا الذین آمنوا قو انفسکم نارا ” پر عبد الوحید نے اولاد کی تربیت و توجہ پر خصوصی توجہ دی۔ کارٹونز کے ذریعے پھیلائی جانے والی بےحیائی پر بات کی۔ مختلف گیمز کے ذریعے بچوں کے ذہنوں کو خراب اور تخریبی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہٰذا سب سے اوّل کام ہمارا بچوں کو اُن خرافات سے بچانا ہے جو اُنہیں تباہی کے دہانے لے جا رہی ہے۔
درسِ حدیث نذیر شیخ نے پیش کی۔ پھر واقعہ قربانی: ہمارے لیے سبق پر ڈاکٹر سلیم خان(معاون امیرِ حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر) پر ایک مفصّل گفتگو کی گئی جس میں صبر،استقامت ،آمادگی جیسے اقدار کی حصولی کو اپنی زندگی میں سرایت کرنے پر بات کی گئی۔ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے حکمت، موعظت حسنہ اور مجادلہ احسن کے قرآنی واقعات کی روشنی میں ہماری رہنمائی کی۔
اختتام پر مولانا الیاس خان فلاحی نے اہانت رسول: اُمّت کا رویّہ پر خطاب عام کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ سے محبت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بندہ پہلے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبّت کرے۔ اہانت رسول کا معاملہ ہر ہر دور میں ہوتا رہا ہے اور جو بھی اہانت کا مرتکب ہوا،وہ بربادی و ہلاکت کو پہنچا۔
پر امن احتجاج،
ساری انسانیت کو سیرتِ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقف کروائیں۔تمام شعبے کے ماہرین تک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ، سیرت ، دعوت پہنچانے کی کما حقہ کوشش کریں۔ پسماندہ طبقات اس بات کو محسوس کریں کہ رسول کی تعلیمات کا ایک حصہ یہ بھی ہی کہ کسی گروہ کو کسی پر کوئی ترجیح حاصل نہیں سوائے ان کے جو اللّٰہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے ہیں۔ مزید کہا کہ یہ ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ جدید ذرائع انفارمیشن ٹکنالجی کے زمانے میں علم و حکمت اور استدلال کے ساتھ اُس کا جواب دیں۔

جماعت اسلامی ہند ممبئی شہر