بچے وہی عمل کرتے ہیں جو عام طور پر وہ اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں: ماہر تعلیم جناب سید حبیب الدین

جماعت اسلامی ہند حلقۂ خواتین ممبئی کی جانب سے؛ ایک ورکشاپ بعنوان ” پرورش ” ؛ بمقام مولانا آزاد اسکول —سانتا کروز ( مشرق) ؛ بتاریخ 24 جولائی 2022 بروز اتوار منعقد کیا گیا۔

پروگرام کا آغاز جناب حافظ منیر صاحب نے قرآن کی تلاوت و ترجمہ ( سورہ الطور — آیت 17 تا 28 ) سے کیا۔

ممبئی ویسٹرن زون سیکرٹری محترمہ ریحانہ دیشمکھ صاحبہ نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ” ہمارے بچے ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ اگر ہم نے اس امانت میں خیانت کی تو کل ہمیں روز محشر اللہ کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ بچے قوم و ملت کا مستقبل و سرمایہ ہیں۔ اگر ان بچوں کی تربیت صحیح اسلامی خطوط پر ہوگی تو خوشگوار خاندان اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آۓ گا۔”

” مجھے میرے امی ابو سے کچھ کہنا ہے ” —اس موضوع پر والدین سے گفتگو کرتے ہوئے جناب عبدالوحید صاحب ( ماہر تعلیم و سماجی دانشور) نے فرمایا، ” بچوں کی تربیت کو انتہائی سنجیدگی سے لیں۔ وہ اپنے والدین کی ہر حرکت کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ اپنے ماں باپ کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں لہذا انکے سامنے ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا نا کریں، کیونکہ والدین کے آپسی تنازعات کی وجہ سے بچے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ "

اسکے بعد سوال و جواب کا سیشن رہا۔

ماہر نفسیات محترمہ ڈاکٹر سیدہ رخشیدہ صاحبہ بطور خاص اس ورکشاپ میں مدعو تھیں۔ ” موبائل گیمز اور نشے کی لت —موت کی راہ”
اس موضوع پر آپ نے والدین کی رہنمائی فرمایٔ۔ آپ نے کہا، ” اگر آپ کے بچے کوئی غلط کام کر رہے ہیں یا کسی چیز کا نشہ کر رہے ہیں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی بجائے منطقی انداز میں سمجھاـٔیں۔ انہیں غلط نا کہیں بلکہ انہیں یہ باور کرایٔیں کہ جو کام وہ کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔ یا اگر کبھی ڈانٹنے کی نوبت آہی جائے تو اپنے غصے اور اپنی زبان کو قابو میں رکھ کر ڈانٹیٔے. "

بعد ازاں سوال و جواب کا سیشن رہا۔

اختتامی خطاب کے لئے ماہر تعلیم محترم سید حبیب الدین صاحب کو مدعو کیا گیا تھا۔
” اولاد کی تربیت —قرآن و حدیث کی روشنی میں ” اس عنوان کے تحت آپ نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا، ” بچے وہی عمل کرتے ہیں جو وہ عام طور پر اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے مزاج کو سمجھنا ہوگا۔ اگر بچوں کو کوئی مسـٔلہ درپیش ہے تو انکے مزاج کو سمجھتے ہوئے انکی استعداد کو دیکھتے ہوئے اسکا حل نکالیں۔ "
مزید یہ بھی کہا، ” اول اپنے بچوں کے عقیدہ کو مضبوط کیجۓ تاکہ انکا ایمان شعوری ایمان ہو جائے۔ دوم انکے دلوں میں بچپن ہی سے نبی کریم ﷺ کی محبت اور صبر کا مادہ پیدا کیجۓ۔ اسکے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے اپنے بچوں کے لئے دعاـٔیں بھی مانگیں کہ یہی بچے مستقبل میں اپنے والدین کے لئے صدقۂ جاریہ بنیں گے۔ "

ورکشاپ کے اختتام پر امیر مقامی سانتا کروز محترم نعیم صاحب نے تمام مہمان خصوصی اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فراـٔض بھی آپ نے بخوبی انجام دیۓ۔ اس ورکشاپ میں 225 مرد و خواتین شریک رہے، جس میں سے پانچ غیر مسلم بہنیں بھی مستفیض ہوئیں۔