دل و دماغ کو ترو تازہ رکھنے کا ہنر

ازقلم: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

بڑھتی عمر کے سائے انسانی جسم اور دل ودماغ پر پڑتے ہیں تو دل ، دماغ، جسم سب کمزور ہوجاتا ہے ، اکبر الٰہ آبادی کے لفظوں میں ’’بچوں سے کیا بدترپیری نے جو اں ہو کر‘‘ کا منظر سامنے ہوتا ہے ، اعضاء رئیسہ کے کمزور ہونے سے چلنے پھرنے کی صلاحیت بھی کمزور پڑ جاتی ہے، یاد داشت ساتھ چھوڑ نے لگتے ہیں اور حافظہ کمزور ہوجاتا ہے ، جیسے جیسے آدمی ’’ارذلِ عمر‘‘ کو پہونچتا ہے وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم میں اسے لکیلا یعلم بعدعلم شیئا سے تعبیر کیاگیا ہے ، بڑھتی عمر کے اثرات کو روک پانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے ، لیکن ہم بڑھا پے میں بھی فکر کو تر وتازہ اور مثبت رکھ کر دماغ سے دیر تک کام لے سکتے ہیں، صحت عامہ کے اصولوں کا خیال رکھ کر جسم کوتیزی سے کمزور ہونے سے بچا سکتے ہیں۔دراصل قدرت نے ہمارے دماغ میں یاد داشت کے محفوظ رکھنے کا بڑا خانہ بنایا ہے؛ جس کی وجہ سے ہمارا ماضی اور اچھے دن کی یاد ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے، یہ یادیں ہمیں زیادہ پریشان کر تی ہیں، اسی لیے ایک شاعر نے کہا تھا کہ یاد ماضی عذاب ہے یا رب/چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ماضی سے ہم اپنا رشتہ توڑ نہیں سکتے، لیکن ہم حال میں جینے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا سکتے ہیں، حال میں جینے سے آپ کے کام کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے، اور ماضی کی یادوں کے سہارے آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہتے، جب آپ ماضی میں جیتے ہیں تو اچھے دنوں کی یاد آپ کو پریشان کرتی ہے، آپ سوچتے رہتے ہیں کہ آخر وہ دن کیسے ہَوا ہوگیے جب پسینہ گلاب تھا، یہ سوچ دکھ درد میں اضافہ کا سبب ہوا کرتی ہے، اس لیے ماضی کے تجربہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے، لیکن اس کو سوچ سوچ کر ہلکان ہونا کسی بھی درجہ میں عقل مندی نہیں ہے، جب ہم ماضی میں خود کو قید کر لیتے ہیں تو ہمارے آگے بڑھنے کے راستے خود ہی مسدود اور بند ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم وجان اور دل ودماغ کے رشتے کو اس قدر کنفیڈنشل، خفیہ رکھا ہے کہ کوئی دوسرا ہمارے اندر جھانک کر ہمارے ماضی کا پتہ نہیں چلا سکتا تا آں کہ ہم خود ہی کسی کو راز دارنہ بنالیں، ہمارے تعلقات خاندان، سماج کے ساتھ الگ الگ ہوتے ہیں اور تعلقات کی نوعیت کے اعتبار سے ہمارا کرداربھی الگ الگ ہوتا ہے ، ہم بعض لوگوں کی جھوٹی تعریف کرکے اسے خوش کرتے ہیں، بعض سے ہمارا ذہنی اختلاف ہوتا ہے اور ہم اس کے در پہ آزار ہوتے ہیں،ہم سماج کو جیسا دکھتے ہیں ویسا ہوتے نہیں اور جیسا ہوتے ہیں ویسا دِکھتے نہیں، ہر آدمی وقت اورحالات کے اعتبار سے کچھوا کی طرح خول میں بند ہوتا ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس خول سے باہر آکر لوگوں کو بتائے کہ ہم کون ہیں؟ کیا ہیں؟ اگر ہم اصلی صورت میں لوگوں کے سامنے آجائیں اور اللہ ہمارے گناہوں پر پردہ نہ ڈالے اور اپنی صفت ستاریت کے صدقے ہماری بے راہ رویوں کومعاف نہ کرے تو واقعہ یہ ہے کہ بیش تر لوگ سماج کو منہہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں، یقینا سماج کے سامنے اپنی مثالی تصویر بنائے رکھنا بُری بات نہیں ہے، لیکن ہمیں خود کو پہچاننا چاہیے کہ ہماری اصل کیا ہے ؟ ہمارے اندرکس قدر خوبیاں اور خامیاں ہیں؟ ہمارے قول وعمل میں کتنا تضاد ہے؟ہمیں ان سے واقف ہونا چاہیے، اپنا محاسبہ کرنا چاہیے ہمارے کردار سے دوسروں کو دھوکہ ہو سکتا ہے، لیکن ہمیں خود کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے اور خود فریبی سے بچنا چاہیے، اس سے آپ کے کام کرنے کی صلاحیت بڑھے گی ، دماغ تر وتازہ رہے گا اور زندگی میں ایک خوش گوار تبدیلی آئے گی ، اور آپ کو اطمینان بھی ہوگا کہ ہم اپنے کو پہچان رہے ہیں، اور جو خود کو پہچان گیا وہ رب کو بھی پہچان لیتا ہے، من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا یہی مطلب ہے، یعنی معرفت نفس آدمی کو معرفت رب تک پہونچا دیتا ہے۔
خود کو پہچاننے کا یہ عمل آپ کو ذہنی تناؤ سے بھی بچا ئے گا، اس سے آپ کی سوچ میں تبدیلی آئے گی اور آپ صحیح فیصلے پر قادر ہو سکیں گے ، تناؤ اور ذہنی الجھن کی کثرت سے آدمی کے فیصلے کرنے کی قوت گھٹتی ہے ، آپ کے اندر حالات سے مقابلے اورمدافعت کی قوت کمزورہوجاتی ہے، اور آپ حالات کا سامنا کرنے کے بجائے اس سے راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں، کچھ دن اگر آپ اسی حالت میں رہ گیے تو زندگی بے رس اور بے کیف ہوجاتی ہے اورآپ اس سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے ہیں۔
اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم مثبت سوچ کے ساتھ زندگی گذاریں ، کیوں کہ جب ہم کسی کے خلاف منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں اور کسی کی دشمنی ہمارے دل ودماغ پر حاوی ہو جاتی ہے تو ہم پُرسکون نہیں رہ پاتے ، ہم جب پر سکون ہوتے ہیں تو فکر میں ہمارے تروتازگی ہوتی ہے اور ہم اپنے نظریات اور فکر کو نئی سمت سے آشنا کر سکتے ہیں، لیکن ہم ہر بار اپنی پرانی عادت اور کام کے پرانے طریقے کو ہی دہراتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیںکہ یہ ہمارے تجربات کا نچوڑ ہے، لیکن اگر ہم کچھ نیا سوچ سکیں ، نئے طریقے کو سامنے لا سکیں تو ہمارے لیے ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خوش گوار لمحہ ہو اور اس نئے طریقے کی سو چ ہمارے اندر نئی توانائی اور شادابی بھردے۔ در اصل عادتیں اور تجربات بہت طاقت ور ہوتے ہیں، اس لیے انسان آسانی سے اس سے پیچھا چھڑا نہیں پاتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پرانے تجربات اور عادتوں کو بار بار دہراتے رہنے سے آپ نئی راہوں پر چلنے کا حوصلہ نہیں جُٹاپاتے اور مواقع کھو دیتے ہیں، جس سے آپ کی ذہنی تروتازدگی میں فرق پڑتا ہے۔ آپ جب حال میں جینا سیکھ جاتے ہیں تو بہت ساری ذہنی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں اور آپ کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ بوڑھاپے میں خوشگوار زندگی ج یتے رہیں او ر اپنی سوچ اورفکر کو بوڑھاہونے سے بچالیں۔ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی زندگی پر خود کی سوچ اور فکر کا بڑا اثر ہوتا ہے، آپ دن بھر جو کچھ سوچتے ہیں، اسی سے آپ کی شخصیت کی تعمیر وتشکیل ہوتی ہے، نفسیات کے ماہرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ جو کچھ سوچتے ہیں، وہی مختلف اشکال، صورت اور واقعات کی شکل میں خواب میں آتے ہیں، امریکہ کے ایک دانشور کا کہنا ہے کہ آدمی کی سوچ اور فکر ہی اس کی شخصیت کو تیار کرتے ہیں، اس کو آپ ایک مثال سے اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آپ ظاہری رکھ رکھاؤ کے لیے اچھے کپڑے پہنے ہیں، بال داڑھی بنواتے ہیں، ورزش کرتے ہیںتاکہ آپ اچھے دکھیں، اسی طرح ذہن وفکر پر بھی محنت کی ضرورت ہوتی ہے، آپ اگر مذہبی اقدار پر یقین رکھتے ہیں، آپ کا قلب ایمان کی دولت سے مالا مال اور آپ کا عمل اسلامی تعلیمات کا مظہر ہے تو آپ کی فکر پر اس کا اثر پڑتا ہے اور اگر آپ نے دل ودماغ میں ملحدانہ افکار اور خدا بیزار عادت کو اپنا رکھا ہے تو آپ کی سوچ لا مذہبیت والی ہوجائے گی، اور آپ کی شخصیت پر اس کے واضح اثرات پڑیں گے، پھر قلب کی بے اطمینانی ، دل کی بے چینی اور دماغ کا جنون بڑھتا جائے گا، آپ اگر ہر وقت نا کامی کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کو ناکام ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا، کیوں کہ آپ کے دماغ میں ناکامی رچ بس گئی ہے، اور جو چیز دماغ میں رچ بس جاتی ہے اعمال کا صدور اسی حوالہ سے ہوا کرتا ہے، اس کے برعکس اگر آپ کے ذہن میں بیٹھا ہوا ہے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں تو آپ کی محنت کا رخ بالکل الگ ہوگا، وہ جو نیپولین بونا پاٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آیا،اس نے دیکھا اور فتح کر لیا، وہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے، وہ کہا کرتا تھا کہ ناکامی کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں ہے، اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ کامیابی کے سلسلے میں انتہائی پر امید رہا کرتا تھا، سڑک کنارے ایک بورڈ پر لکھا ہوا میں نے دیکھا کہ ناکامی کا مطلب ہے کہ کامیابی کے لیے صحیح ڈھنگ سے کوشش نہیں کی گئی، ایک مفکر کاقول ہے کہ کوئی بھی مسئلہ بڑا نہیں ہماری سوچ اسے بڑا بنا دیتی ہے، بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں آپ بدل نہیں سکتے تو بھی ہلکان مت ہوئیے، کوئی ایسی بات سوچیے کہ اس کی اچھی توجیہہ ہوجائے، ایک شاعر انتہائی کالا کلوٹا تھا، لوگ اس کی تصویر لینے لگے تواس نے کہا کہ میری تصویر تو ڈجیٹل کیمرے سے بھی ڈارک ہی آتی ہے، پھر اس نے کہا کہ میرے اس رنگ کی خصوصیت ہے کہ یہ سارے رنگوں پر حاوی ہوجاتا ہے، نظر بد سے بچنے کے لیے مائیں میرے ہی رنگ کا بچوں کو ٹیکہ لگاتی ہیں، ظاہر ہے آپ اپنے چہرے کا رنگ بدل نہیں سکتے، لیکن خود پر ہنس کر اس کی اچھی توجیہ کرکے آپ مایوسی سے پیچھا ضرور چھڑا سکتے ہیں، یہ کام کیجئے دیکھئے بوڑھاپے میں بھی کس قدر زندگی نشاط آمیز ہوتی ہے۔
خوشگوار زندگی گذارنے کے لیے تحمل اور برداشت بنیادی چیز ہے، کاموں کے وقت پر نمٹانے کا ایک نظام الاوقات بنائیں، ہدف مقرر کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقرر ہ وقت پر آپ ہدف تک پہونچ کر ہی دم لیں گے ، اس کے لیے کام میں انہماک اور ’’من‘‘ کی توانائی اور’’ تن‘‘ کی مستعدی ضروری ہے۔امید کا دامن تھامے رکھیں اور قناعت کے ساتھ زندگی گذاریں، اس سے آپ کا جسم بھی ٹھیک رہے گا اور دماغ بھی قابو میں رہے گا، زندگی میں آرائشی سامانوں کی کثرت سے خوشیاں نہیں ملتیں، خوشیاں ’’من‘‘ کے مطمئن ہونے سے ملا کرتی ہیں، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ کام کے بوجھ کے ساتھ آپ اپنے بیوی بچوں کے لیے بھی تھوڑا وقت نکالیں، اس لیے کہ آپ پر آپ کا بھی حق ہے۔ترمذی شریف کی ایک روایت میں حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابو داؤد کا واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ نے ان سے کہا کہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے رب کا بھی حق ہے، سب کے حقوق ادا کیا کرو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ذکر آیا تو آپ نے حضرت سلمان کی تائید کی ، امام ترمذی نے اس روایت کو ’’حسن ‘‘کہا ہے۔