شیر بن کر کام کریں!!!

ازقلم: مدثر احمد، شیموگہ کرناٹک۔9986437327

جب بھی کبھی کام کرنے کے تعلق سے بات آتی ہے تو بیشتر لوگ دو طرح سے سوچتے ہیں کہ اُنہیں اس سے کیا حاصل ہوگایا پھر اُنہیں کام کرنے کیلئے عہدہ چاہیے۔جبکہ سماج میں ایسے بہت سے کام ہیں چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر یا پھر انفرادی طور پر معاشرے کی تعمیرکیلئے کام کیاجاسکتاہے۔اطراف واکناف نظر دواڑائیں اور دیکھیں کہ آپ کے درمیان کتنے لوگ مجبورہیں،ضرورتمندہیں،بےسہاراہیں جن کی چھوٹے پیمانے پر ہی صحیح مگر مدد ہوسکتی ہے۔کام کرنے کیلئے صدروسکریٹری،تنظیم،کارپوریٹر،ایم ایل اے بننا ضروری نہیں ہے،بلکہ انسانیت کی بنیادپر انسانیت کیلئے کام کیاجاسکتاہے اور وہی حقیقت میں انسا ن ہے۔اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آج سماج میں کوئی محتاج نہیں ہے اور کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سب لوگ پیٹ بھر کر کھارہے ہیں اور کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سرکاری دوا خانوں میں دوا مفت ملتی ہے،سرکاری راشن کی دکان میں راشن مفت ملتے ہیں،سرکاری اسکولوں میں تعلیم مفت ملتی ہے،یہ سب مفت ضرور ملتے ہیں مگر اس کے علاوہ اور بھی ذمہ داریاں اور مجبوریاں ہوتی ہیں۔ان مجبوریوں کو انسانی بنیادوں پرہی پوراکیاجاسکتاہے۔ہمارے درمیان کئی تعلیمی ادارے سرکاری وغیر سرکاری ہیں۔اس وقت سرکاری اسکولوں کی حالت نہایت خستہ ہے،بظاہر سرکاری طو رپر اعلانات ہوتے ہیں کہ فلاں فلاں سہولت مہیاکی جارہی ہے ،مگر آج بھی سرکاری اسکولوں میں بچے زمین پر بیٹھ کرہی تعلیم حاصل کررہے ہیں،چھتوں سے پانی ٹپک رہاہے اور بچے نوٹ بکس لینے سے بھی قاصرہیں۔مگر عام طو رپرلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچے انسانی بنیادوں پر اچھی تعلیم مفت میں حاصل کررہے ہیں،مگر ایسانہیں ہے،اگر واقعی میں دیکھاجائے تو سرکاری اسکول میں پڑھنےو الے بچے آج سرکاری اعلانات کے باوجود سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں میں اب کوئی نہیں پڑھ رہاہے جبکہ ان اسکولوں میں سب سے غریب یا وہ لوگ اپنےبچوں کو پڑھارہے ہیں جو پرائیوئٹ اسکولوں میں پڑھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ان حالات میں سماج کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ ایسے اسکولوں کےبچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے آگے آئیں۔ایسے ہی حالات سرکاری اسپتالوں میں علاج پانے والے مریضوں کے ہیں،وہاں علاج تو مفت ہوجاتاہے لیکن دوائیاں تو پیسے دیکر ہی خرید جاتی ہیں۔ان ادویات کو خریدناہر مریض کیلئے ممکن نہیں ہے۔کئی لوگ بروقت ادویات نہ لینے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔کیونکہ اُمت مسلمہ خیر کیلئے آئی ہے اور نیکی کرنا ان کیلئے فرض ہے،ضرورتمندوں کی ضرورت کو پوراکرنا اسلام کا اہم حصہ ہے،تو مسلمان ان معاملات پر کیوں عملی طور پر کام نہیں کرتے؟۔تھوڑا وقت نکالیں اور تلا ش کریں کہ سماج میں و ہ اپنی طرف سے کیا کرسکتے ہیں۔پورے گروہ میں جاکر کام کرنا ضروری نہیں ،بلکہ انفرادی طور پر اپنے اپنے حصے سے کام کیاجاتاہے تو یقیناً سماج میں بہت سارے کام آسانی کے ساتھ حل کئے جاسکتے ہیں۔یہی وقت کی ضرورت ہے ،شیر بن کر سماج کیلئے کام کریں،کیونکہ شیر اکیلاہی شکار کرتاہے،جھنڈ میں تو کُتے حملہ کرتے ہیں اور کُتوں کا شکار شکارنہیں کہلاتا۔